پاکستانی ٹیم کو ہوم کنڈیشن میں ہرانا آسان نہیں، کپتان جنوبی افریقہ

ای میل

ڈی کوک نے کہا پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے—فوٹو: عبدالغفار
ڈی کوک نے کہا پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے—فوٹو: عبدالغفار

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے کہا ہے کہ ہماری نظر سیکیورٹی پر نہیں بلکہ کرکٹ پر ہے اور پاکستانی ٹیم کو ہوم کنڈیشن میں ہرانا کوئی آسان نہیں۔

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے زیادہ تر کھلاڑیوں نے پاکستان میں پہلے نہیں کھیلا، اس کو دیکھتے ہوئے بھرپور تیاری کی ہے۔

مزید پڑھیں: جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کی 14 سال بعد پاکستان آمد

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہاں سب نیا ہے، کنڈیشنز کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں، پاکستان میں کنڈیشنز دنیا کی کنڈیشن سے مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اچھا ہے ہمیں یہاں آتے ہی سیریز کی تیاری کا موقع مل گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایشیائی کنڈیشن میں اسپن کا اہم کردار اہم ہے، یہ اچھا ہے ہمیں یہاں آتے ہی سیریز کی تیاری کا موقع مل گیا ہے۔

ڈی کوک نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے تمام تر پہلووں کو کور کیا گیا ہے، ہماری نظر سیکیورٹی پر نہیں بلکہ کرکٹ پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آرہے تھے تو ذہن میں سیکیورٹی کے سوالات تھے لیکن جب یہاں لینڈ کیا تو سکون ملا کہ سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو ہوم کنڈیشن میں ہرانا کوئی آسان نہیں، اب اپنی کنڈیشن میں ہماری ٹیم ہی مضبوط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد جنوبی افریقی کھلاڑیوں کی کراچی میں پریکٹس

پاکستانی ٹیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بابر اعظم نے گزشتہ برسوں میں بہت زبردست بیٹنگ کی، وہ تمام طرز میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی ایک کھلاڑی پر نظر نہیں پوری ٹیم کی تیاری کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی اسپینرز کے خلاف بھی تیاری کررہے ہیں، ٹیم کا ہر کھلاڑی ہی رنز کرنا چاہتا ہے اور اسی کے لیے تیاری کررہے ہیں۔

کوئنٹن ڈی کوک نے کہا کہ ببل لائف بہت مشکل ہے، گزشتہ 6 ماہ میں صرف دو تین ہفتے گھر میں گزارے لیکن ہماری ٹیم سیٹل ہے اپنی بیٹنگ پوزیشن تبدیل کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شیڈول بہت مشکل ہے اور جب بھی موقع ملا پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کھیلوں گا۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم 16 جنوری کو ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے پر پہنچی تھی اور مہمان اسکواڈ کا کراچی پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا اور مکمل سیکیورٹی میں ہوٹل تک پہنچایا گیا۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی، دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 26 سے 30 جنوری تک کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جبکہ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی 4-8 فروری تک راولپنڈی کرے گا۔

مزید پڑھیں: جنوبی افریقہ سے ٹیسٹ سیریز کیلئے قومی ٹیم کا اعلان، 9 نئے کھلاڑی شامل

اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 11، 13 اور 14 فروری کو تین ٹی20 میچوں کی سیریز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی۔

جنوبی افریقہ نے اس سے قبل 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور کراچی ٹیسٹ میں 160 رنز سے کامیابی سمیٹ کر سیریز بھی 0-1 سے اپنے نام کر لی تھی۔

پاکستان نے 2010 اور 2013 میں دو مرتبہ متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں جنوبی افریقہ کی میزبانی کی تھی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان 1995 سے اب تک کُل 11 ٹیسٹ سیریز کھیلی جا چکی ہیں جس میں سے جنوبی افریقہ نے 7 میں فتح حاصل کی جبکہ پاکستان اب تک صرف ایک سیریز جیتنے میں کامیاب رہا جو 2003 میں کھیلی گئی تھی۔