ملک کا مقامی قرض بڑھ کر 241 کھرب روپے سے زائد ہوگیا

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2021

ای میل

رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 829 ارب روپے اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک —فائل فوٹو: اے پی
رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 829 ارب روپے اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک —فائل فوٹو: اے پی

کراچی: رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں وفاقی حکومت کا مقامی قرض 829 ارب روپے اضافے کے بعد 241 کھرب 10 ارب روپے ہوگیا تاہم رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ مالی سال 2021 میں قرض لینے کی رفتار گزشتہ 12 ماہ کے مقابلے کافی سست تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ نومبر 2019 میں مقامی قرض 214 کھرب 10 ارب روپے تھا جو نومبر 2020 میں 241 کھرب 10 ارب روپے تک بڑھ گیا جو 27 کھرب روپے کا اضافی ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کی حکومت نے سال 2019 میں کتنے قرضے لیے؟

اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2020 میں نومبر 2019 کے بعد سے حکومت کے مقامی قرضوں اور واجبات میں مجموعی طور پر 27 کھرب 50 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

مقامی قرضوں میں زیادہ تر، 50 فیصد سے زائد، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ (پی آئی بیز) کے ذریعے متحرک کیا گیا تھا۔

حکومت نے نومبر 2020 تک پی آئی بی کے ذریعے 140 کھرب 33 ارب روپے حاصل کیے جو گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب 27 ارب روپے کا اضافہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’مالی سال 2020 میں گردشی قرضہ 30 فیصد بڑھ کر 21 کھرب 50 ارب روپے ہوگیا‘

تاہم اس میں 5 مہینوں میں 11 کھرب 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2021 کے دوران قرض حاصل کرنے میں جارحانہ انداز اپنایا، رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران پی آئی بی کا زیادہ تر قرض حاصل کیا گیا تھا۔

جون 2020 میں پی آئی بی 128 کھرب 66 ارب روپے پر تھی جس میں رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 17 کھرب 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: بلند شرح سود کو بھول جائیں، نئے کاروبار کرنے والوں کیلئے دلکش آفرز

خیال رہے کہ طویل المدتی پی آئی بیز کو نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ بانڈ زیادہ منافع دیتے ہیں جبکہ حکومت اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لینے کے لیے بینکوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

مزید یہ کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے بعد حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیتی، وہ یا تو قلیل المدتی خزانے کے بلوں یا طویل المدتی پی آئی بیز کے ذریعے قرض لیتی ہے۔

علاوہ ازیں کورونا وائرس کی وجہ سے نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے قرض لینا سست رہا جس کی وجہ سے بینکوں کو سرکاری پیپیرز میں زیادہ سے زیادہ لیکویڈیٹی ڈالنا پڑی۔

تاہم مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار، جو اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین شمارے میں بھی شامل تھے، سے ظاہر ہوا ہے کہ مقامی قرضے کے تناسب کے طور پر مجموعی بیرونی قرض ستمبر 2020 میں نمایاں طور پر کم ہوکر جون 2020 کے 45.5 فیصد کے مقابلے میں 41.4 فیصد رہ گیا۔