نیٹ فلیکس کے سبسکرائبرز کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کرگئی

20 جنوری 2021

ای میل

لاک ڈاؤن کے دوران نیٹ فلیکس صارفین کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا— فائل فوٹو: نیٹ فلیکس
لاک ڈاؤن کے دوران نیٹ فلیکس صارفین کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا— فائل فوٹو: نیٹ فلیکس

دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ ویب سائٹ نیٹ فلیکس کے سبسکرائبرز کی تعداد گزشتہ سہ ماہی میں کئی گناہ اضافہ ہوا اور اب نیٹ فلیکس کے سبسکرائبرز کی مجموعی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران نیٹ فلیکس صارفین کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا۔

نیٹ فلیکس کی سہ ماہی کی حالیہ اپ ڈیٹ کے مطابق سبسکرائبرز کی تعداد میں 85 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کے صارفین کی تعداد 20 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی۔

جس کے بعد نیٹ فلیکس کے شیئرز میں اچانک 12 فیصد اضافی دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھیں: نیٹ فلیکس کا رواں برس ریکارڈ 70 ہولی وڈ فلمیں ریلیز کرنے کا اعلان

گزشتہ برس کی چوتھی سہ ماہی میں نیٹ فلیکس کا منافع کم ہو کر 54 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگیا تھا جو 2019 کے اسی عرصے میں 58 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔

تاہم مجموعی طور پر سال کی آخری سہ ماہی میں نیٹ فلیکس کا ریونیو 21.5 فیصد اضافے کے بعد 6 ارب 60 کروڑ ڈالر ہوگیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں نیٹ فلیکس میں ریکارڈ 3 کروڑ 70 لاکھ ممبر شپس کا اضافہ ہوا جن کی ادائیگی بھی کی گئی تھی۔

نیٹ فلیکس نے سرمایہ کاروں کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا کہ ' ہم بہت خوش ہیں کہ اس منفرد چیلنجنگ وقت میں ہم اپنے کاروبار کو بڑھاتے ہوئے دنیا بھر میں موجود اپنے ممبرز کو فرار، رابطے اور لطف کا ذریعہ فراہم کررہے ہیں'۔

کمپنی کے مطابق 2020 کی آخری سہ ماہی میں نیٹ فلیکس کی اداشدہ ممبرشپ میں اس سے ایک برس قبل 23 فیصد اضافہ ہوا لیکن فی ممبرشپ اوسط ریونیو کم تھا۔

رپورٹ کے مطابق نیٹ فلیکس نے گزشتہ برس کے اواخر میں امریکا میں اپنی سبسکرپشن کے نرخ میں تھوڑا سا اضافہ کیا تھا جبکہ اس کے 83 فیصد نئے سبسکرائبرز کا تعلق شمالی امریکا کے باہر سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’نیٹ فلیکس‘ کو متنازع فلم پر فوجداری مقدمے کا سامنا

خیال رہے کہ چند روز قبل نیٹ فلیکس نے رواں سال ریکارڈ 70 ہولی وڈ فلمیں ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عام طور پر نیٹ فلیکس پر ہفتے میں ایک فلم ریلیز کی جاتی ہے، جس میں ویب سیریز اور دستاویزی فلمیں بھی شامل ہوتی ہے۔

تاہم اب کورونا کی وبا کے باعث گزشتہ برس سے سینما تھیٹرز بند ہونے کی وجہ سے زیادہ فلموں کو ریلیز کیا جائے گا۔