آشیانہ اقبال کیس: احتساب عدالت نے شہباز شریف کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2021

ای میل

عدالت نے شہباز شریف کو 26 جنوری کو پیش ہونے کا حکم دے دیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت نے شہباز شریف کو 26 جنوری کو پیش ہونے کا حکم دے دیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت نے شہباز شریف کو حاضری سے استثنیٰ کا حکم دیا تھا جو واپس لے لیا گیا۔

مزید پڑھیں: نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں شہباز شریف کے خلاف درخواست واپس لے لی

احتساب عدالت کے جج نے آشیانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ملزم باقی کیسز میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی عدالتوں میں پیش ہوتا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ شہباز شریف اس وقت جیل حکام کی حراست میں ہیں اور دوسرے کیسز میں پیش ہوتے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج نے حکم دیا کہ آشیانہ ریفرنس اہم نوعیت کا کیس ہے جس میں ملزم شہباز شریف ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

عدالت نے شہباز شریف کو 26 جنوری کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: نیب سے شہباز شریف، فواد حسن فواد کے خلاف الزامات کی تفصیلات طلب

تحریری حکم میں کہا گیا کہ پراسیکیوٹر نیب نے توجہ دلائی کہ شہباز شریف دوسرے ریفرنس میں گرفتار ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ پراسیکیوٹر کے مطابق شہباز شریف کو دوسری عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور مستقل استثنی کے حوالے سے اب صورتحال تبدیل ہو چکی۔

تحریری حکم میں پراسیکیوٹر کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے استدعا کی کہ شہباز شریف کو اس کیس میں بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے۔

جس کے بعد احتساب عدالت نے جیل حکام کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر شہباز شریف کو پیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 کو نیب لاہور نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لیا تھا۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈیولپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں کرپشن ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا‘

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کی کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی کو مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

14 فروری 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

18 اپریل 2019 کو سپریم کورٹ نے نیب کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی سے متعلق دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کی تھی۔

2 مئی 2019 کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے نیب سے ملزمان کے خلاف الزامات کی تفصیلات طلب کر لی تھیں۔

2 دسمبر کو نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کا کردار ثابت کرنے میں ناکامی پر سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں واپس لے لی تھیں۔