بابر اعظم کا 2007 میں 'بال پکر' سے قومی ٹیم کے کپتان تک کا سفر

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2021

ای میل

14سال قبل جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں بابر اعظم ایک بال پکر تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی
14سال قبل جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں بابر اعظم ایک بال پکر تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے بلے باز بابر اعظم جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کی قیادت کرکے پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی قیادت کا اعزاز حاصل کرلیں گے۔

بابراعظم کو اپنا یہ سفر ایک خواب کی طرح محسوس ہوتا ہے کیونکہ 14سال قبل جنوبی افریقی ٹیم کے دورہ پاکستان کے موقع پر وہ میدان سے باہر باؤنڈری پر کھڑے ایک غیرمعروف 'بال پکر' تھے لیکن 14سال بعد وہ قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

مزید پڑھیں: پی سی بی ایوارڈ کا میلہ رضوان اور بابر اعظم نے لوٹ لیا

جنوبی افریقہ کی ٹیم 14 سال بعد پاکستان کا دورہ کر رہی ہے اور آخری مرتبہ 2007 میں جنوبی افریقی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔

اس سیریز کی خاص بات یہ تھی کہ یہ قومی ٹیم کے عظیم بلے باز اور سابق کپتان انضمام الحق کی آخری ٹیسٹ سیریز تھی۔

انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑ کر ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا سب سے کامیاب بلے باز بننے کے لیے محض چند رنز ہی درکار تھے لیکن وہ پال ہیرس کی گیند پر اسٹمپ ہو کر یہ ریکارڈ نہ توڑ سکے۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں باؤنڈری لائن کے باہر ایک بچہ بال پکر کی حیثیت سے کھڑا یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ قومی ٹیم کے موجودہ کپتان بابر اعظم تھے جن کی آنکھوں میں آج بھی وہ منظر محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم پر سنگین الزامات عائد کرنے والی خاتون پر قاتلانہ حملہ

تینوں فارمیٹ میں پاکستان کی قیادت کرنے والے بابر اعظم نے کہا کہ کرکٹ کے نامور ستاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا شوق انہیں قذافی اسٹیڈیم کھینچ لایا اور وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے 2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک بال پکر کی حیثیت سے نہ صرف باؤنڈری کراس کرنے والی گیندیں پکڑتے بلکہ کھلاڑیوں کو ناکنگ بھی کرواتے تھے۔

انہوں نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے کہا کہ یہ انضمام الحق کے ٹیسٹ کیرئیر کا آخری میچ تھا، انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے مزید 2 رنز درکار تھے مگر وہ اسٹمپ ہوکر پویلین واپس لوٹ گئے۔

انہوں نے کہا کہ سابق کپتان کے پویلین واپس لوٹنے اور ڈریسنگ روم میں غصے سے بیٹ مارنے کا منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔

مزید پڑھیں: مجھ پر کوئی دباؤ نہیں، بورڈ کے لانگ ٹرم پلان کا حصہ ہوں، بابر اعظم

واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کراچی اور دوسرا لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جو بابر اعظم کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

بابراعظم کے لیے پاکستان کی نمائندگی ایک خواب تھا اور اسے حقیقت بنانے کے لیے انہوں نے بہت محنت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 2007 میں بال پکر سے 2021 میں قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے کے اس سفر میں انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں اور اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے سخت محنت کی۔

بابراعظم نے کہا کہ وہ اے بی ڈویلئیرز کے بہت بڑے فین تھے اور 2007 میں جاری سیریز کے دوران وہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی قذافی اسٹیڈیم میں ٹریننگ دیکھنے وہاں موجود رہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا صبح شام بابر اعظم کا کیس چلا رہا، وکیل حارث عظمت

انہوں نے کہا کہ 'مجھے آج بھی یاد ہے کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ اسپنر عبدالرحمٰن کی گیند پر جین پال ڈومینی نے چھکا لگایا تو باؤنڈری کے دوسری طرف کھڑے ہو کر میں نے کیچ باآسانی تھام لیا جس پر کمنٹیٹر ای این بشپ نے میری تعریف بھی کی تھی'۔

قومی ٹیم کے کپتان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بہترین کارکردگی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی کی بدولت ٹیم کو سیریز جتوانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 26جنوری سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔