اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت ہوگی، الیکشن کمیشن

23 جنوری 2021
ای سی پی میں فارن فنڈنگ کیس زیر سماعت ہے—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
ای سی پی میں فارن فنڈنگ کیس زیر سماعت ہے—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے واضح کیا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت (اوپن ہیرئنگ) ہوگی۔

اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کے کھلی/بند سماعت سے متعلق اپنا مؤقف پہلے ہی ایک اعلامیہ کے ذریعے جاری کرچکا ہے لیکن کیس کی کھلی/ بند سماعت سے متعلق الجھن نظر آتی ہے جس پر ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جارہی ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی جانب سے اپنی رپورٹ کمیشن کے پاس جمع کروانے کے بعد کیس کی کھلی سماعت ہوگی۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے سماعتیں کھلی نہیں ہوں گی تاہم یہ سماعتیں دونوں فریقین کی موجودگی میں ہورہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس پر ایک نظر

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعرات کو کہا تھا کہ ان کی اسکروٹنی کمیٹی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی طاقت اور حیثیت رکھتی ہے اور وہ غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس کی کھلی سماعت نہیں کر سکتی، ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو کمیٹی کو کیس کی کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بات مدنظر رہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ یہ بیان وزیراعظم عمران خان کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس میں عوامی سماعت کی تجویز کے ایک روز بعد سامنے آیا تھا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس کی کارروائی کو براہ راست ٹی وی پر نشر کیا جانا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو ہر چیز کا پتا چل سکے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے گزشتہ بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات موصول ہونے کے بعد کمیشن غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس میں کھلی سماعت کرے گا جس کو فریقین کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد کمیشن جلد سے جلد میرٹ پر کیس کا فیصلہ کرے گا، کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بغیر کسی خوف و دباؤ کے کیس کا فیصلہ کرے گا، انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ ایک 'اہم اور حساس' معاملہ ہے اور اس میں میرٹ پر مبنی فیصلہ 'قومی مفاد' کا باعث ہوگا۔

کمیشن نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے کیس پر غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کریں تاکہ وہ پوری توجہ کے ساتھ کیس کو آگے بڑھا سکیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں مبینہ اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت نہیں ہو سکتی، الیکشن کمیشن

کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

مذکورہ کیس 6 سال سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے اور حال ہی میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کیس کے فیصلے میں تاخیر پر ای سی پی کی عمارت کے باہر احتجاج بھی کرچکی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں