کوچ کے مشورے کے بغیر ٹیم نہیں بنا سکتے، بابر اعظم

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2021

ای میل

ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈیو پلیسی اور پاکستان کے قائد بابراعظم کا ٹرافی کے ہمراہ ایک انداز— فوٹو بشکریہ پی سی بی
ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈیو پلیسی اور پاکستان کے قائد بابراعظم کا ٹرافی کے ہمراہ ایک انداز— فوٹو بشکریہ پی سی بی

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ میچ کے لیے کوچ کے مشورے کے بغیر ٹیم نہیں بنا سکتے، تھوڑے مشورے کوچ کی طرف سے بھی آتے ہیں، پلیئنگ الیون مجھے چلانی ہوتی ہے لہٰذا فائنل فیصلہ میرا ہوتا ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل میڈیا سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان آئی ہے، کافی عرصے بعد ایک اچھی ٹیم آئی ہے اور کافی پرجوش ہیں، لڑکوں نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور ہم نے بھرپور پریکٹس بھی کی ہے۔

مزید پڑھیں: جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان

یاد رہے کہ کراچی ٹیسٹ کے ذریعے بابراعظم پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کل کے میچ کے لیے پراعتماد ہیں اور کوشش یہی کریں گے کہ نتائج اپنے حق میں لائیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف قومی ٹیم کے خراب ریکارڈ کے حوالے سے سوال پر بابراعظم نے کہا کہ ہمیں ماضی کے بارے میں نہیں سوچنا، میرا خیال ہے کہ ہمیں کل کے میچ پر فوکس کرنا چاہیے اور جو پیچھے ہو گیا ہے اس سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں ہے، ہم اپنی 100 فیصد کارکردگی دکھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دورہ نیوزی لینڈ میں کرکٹ کو بہت مس کیا کیونکہ وہاں میں بدقسمتی سے زخمی ہو گیا تھا لیکن میرے لیے بہت فخر کی بات ہے کہ میرا بطور کپتان پاکستان میں ڈیبیو ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابراعظم اور غیرمتوقع حالات پر قابو پانا ہوگا، فاف ڈیوپلیسی

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ ایک بہترین ٹیم ہے جسے کسی بھی لمحے آسان تصور نہیں کر سکتے، کنڈیشنز کی جہاں تک بات کریں تو کنڈیشنز ہمارے لیے موزوں ہیں، اکثر کھلاڑی یہاں کھیلے ہوئے ہیں لہٰذا ان کو اپنی کنڈیشنز کا پتا ہے۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ہم کس کامبی نیشن سے جا رہے ہیں یہ آپ کو کل پتا چل جائے گا، کوشش یہی کہ کنڈیشنز دیکھ کر بہترین ٹیم منتخب کریں، اپنی کنڈیشنز میں کھیلنے کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو ہر چیز کو پتا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کی بیٹنگ کا صرف مجھ پر انحصار نہیں ہے، ٹاپ آرڈر میں اظہر بھائی کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے، رضوان بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے اور فواد عالم نے جس طرح نیوزی لینڈ میں پرفارم کیا وہ شاندار تھی، میں بھی ٹیم کی وجہ سے ہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جارح مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے لیکن یہ ہمیں میدان پر نہیں بلکہ میدان سے باہر کرنا ہوتا ہے کیونکہ میدان میں آپ نے اپنے منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے لڑکوں کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے، میدان پر جارح مزاجی دکھانا اچھا نہیں لگتا۔

مزید پڑھیں: بابر اعظم کا 2007 میں 'بال پکر' سے قومی ٹیم کے کپتان تک کا سفر

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جو ریکارڈ ہے اسے دیکھا جائے تو وکٹ تھوڑی سلو ہے اور اسی کو مدنظر رکھ کر ٹیم منتخب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرکے ٹیم میں منتخب ہونے والوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے، فرق صرف ان کی ذہن سازی کرنی ہے کہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ میں کیا فرق ہے، ان کے لیے سیکھنے کا موقع ہے، جتنا جلدی وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے دباؤ کو سیکھیں گے کہ اننگز کیسے بنانی ہے، ان کے لیے زیادہ بہتر رہے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں بابر اعظم نے کہا کہ ٹیم کوچ کے مشورے کے بغیر نہیں بنا سکتے، تھوڑے مشورے کوچ کی طرف سے بھی آتے ہیں اور ہم پاکستان کی بہترین ٹیم کا فیصلہ کرتے ہیں، پلیئنگ الیون مجھے چلانی ہوتی ہے لہٰذا فائنل فیصلہ میرا ہوتا ہے۔

بابراعظم نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں نے بہت متاثر کیا ہے، خوشی ہوئی کہ ان کو اچھی کارکردگی کا انعام ملا لیکن اب انہیں پاکستانی ٹیم میں آ کر آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے، انہیں انٹرنیشنل کرکٹ اور ڈریسنگ روم کے حوالے سے آگاہی دی جائے، وہ جتنا سیکھیں گے ان کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ہمارے لیے ہوم سیریز جیتنا بہت ضروری ہے، اظہر علی

ایک اور سوال کے جواب میں قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم میں کوئی بھی ینگسٹر نہیں بلکہ سارے سینئر کھلاڑی ہیں، وہ بھارت میں کھیل چکے ہیں اس لیے ان کو ایشین کنڈیشنز کا پتا ہے لیکن ہم نے ان کے خلاف اپنا منصوبہ بنا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تماشائیوں کے بغیر میچ کھیلنے کا مزا نہیں آتا، کووڈ کی وجہ سے تماشائیوں کے اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت نہیں ہے لیکن وہ گھر بیٹھ کر ہمیں بہت سپورٹ کررہے ہیں اور ان کی سپورٹ کا فیڈ بیک ہمیں ملتا رہتا ہے، اسی لیے ہماری بھی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

پریس کانفرنس کے دوران قومی ٹیم کے کپتان سے کئی مرتبہ کل ہونے والے میچ کے لیے ٹیم کامبی نیشن اور پاکستانی ٹیم کے 11 کھلاڑیوں کے حوالے سے سوال پوچھا گیا لیکن وہ ان تمام سوالات کو ٹال گئے۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کل سے کراچی میں کھیلا جائے گا۔