جولائی سے دسمبر تک آٹو سیکٹر کے درآمدی بل میں 193 فیصد تک اضافہ

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2021

ای میل

کاروں اور ایس یو وی کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
کاروں اور ایس یو وی کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: گاڑیوں کے شعبے میں طلب کی بحالی اور نئے اُمیدواروں کے ذریعے نئی کاروں، اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز) اور پک اپس کی درآمدات بڑھنے سے مکمل بلٹ-اپ یونٹ (سی بی یو) گاڑیوں کے مجموعی درآمدی بل میں 193.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 2021 کی پہلی ششماہی میں 9 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020 میں ان گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں 55 فیصد تک کمی دیکھی گئی تھی اور یہ 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئی تھی جس کی وجہ مقامی اسمبل شدہ کاروں کی فروخت کو سہولت فراہم کرنے اور ماحول دوست مارکیٹ میں اپنے فروخت کے اہداف حاصل کرنے کے لیے آٹو سیکٹر میں نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے استعمال شدہ کاروں کی درآمدات روکنے سے متعلق مختلف نئے قواعد و ضوابط نافذ کرنے کا حکومتی فیصلہ تھا۔

اس حوالے سے ڈان سے گفتگو میں ایک کار اسمبلر کا کہنا تھا کہ حکومت نے بالکل نئی مکمل طور پر تیار شدہ یونٹ (سی بی یو) کاروں اور دیگر گاڑیوں کو لانے کے لیے نئے آنے والوں کے لیے کوٹہ مختص کیا تھا۔

مزید پڑھیں: آٹو انڈسٹری کے تحفظات نظرانداز، حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی فعال کرنے کیلئے کوشاں

وہی شرح سود میں کمی سے خریداروں کے واپس مارکیٹ لوٹنے سے کاروں اور ایس یو ویز کی طلب میں اضافہ ہوا، بہتر معاشی اشارے کے ساتھ آٹو طلب میں اضافے کی ایک اور وجہ نقد پر گاڑیوں کو اٹھانا تھا جس نے کموڈیٹیز کے لیے زیادہ قیمتیں کی اور اب کافی لکویڈیٹی موجود ہے۔

ادھر آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ڈی اے) ایچ ایم شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار میں استعمال شدہ اور نئی کاروں، دونوں کی سی بی یو درآمدات کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں 600 سے 1000 سی سی کا 90 فیصد سے زائد شیئر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں درآمد شدہ ایس یو ویز اور پک اپس کے متعارف کرانے کے بعد زیادہ مالیت کی نئی درآمد شدہ کاروں اور ایس یو ویز نے سی بی یو کی درآمدات کے اعداد و شمار پر ایک بڑا اثر ڈالا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جولائی سے دسمبر 2020 کے دوران 10 سے 12 ہزار استعمال شدہ کاریں، ایس یو ویز، پک اپس وغیرہ درآمد کی گئیں جو مالی سال 2020 کی مجموعی درآمدات 18 ہزار 500 یونٹس، مالی سال 19 کے 55 ہزار یونٹس اور مالی سال 18 کے 82 ہزار 500 یونٹس کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

اے پی ایم ڈی اے کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جنوری 2019 میں حکومت کی جانب سے لیے گئے فیصلے کے بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات سکڑ گئی ہے کیونکہ اس کے تحت نئی/استعمال شدہ گاڑی کو آیا ذاتی بیگیج یا تحفہ اسکیم کے تحت درآمد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی خود پاکستانی شہریوں کی جانب سے انتظام کیے گئے غیرملکی زرمبادلہ سے یا مقامی وصول کنندہ کی جانب سے غیرملکی ترسیلات زر کو مقامی کرنسی میں تبدیلی کے بینک انکیشمنٹ سرٹیفکیٹ کی مدد سے ہوگی۔

ایچ ایم شہزاد نے ہائی انجن پاور گاڑیوں خاص طور پر جیپس اور ایس یو ویز کی خریداری کے لیے کچھ خریداروں میں پائے جانے والے رجحان پر ناراضی کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مڈل انکم اور اپر مڈل انکم گروپ کو اپنے لیے چھوٹی گاڑیوں کی ضرورت ہے یہاں مہنگی مقامی اسمبل شدہ سوزوکی کی گاڑیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کے سازوسامان اور متعلقہ اشیا کی درآمدات میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ کاروں کی مقامی اسمبلنگ کے لیے کمپلیٹلی اور سیمی ناکڈ ڈاؤن (سی کے ڈی/ایس کے ڈی) کٹس کی درآمدات پر بھاری رقم خرچ کی جارہی ہے اور پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی کاروں کی اسمبلنگ کے لیے سی کے ڈی/ایس کے ڈی کی درآمدات میں 63 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 37 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی جبکہ مقامی کاریں پر اب بھی ’پیسوں پر‘ چل رہی ہیں۔

دوسری جانب کار اسمبلرز کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے غیرملکی بندرگاہوں پر بھیڑ کی وجہ سے انہیں سپلائی چین کے سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاک سوزوکی موٹرز کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایم سی ایل) کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ کمپنی نے خریداروں کو درآمدی پارٹس اور سپلائیز کی عالمی سپلائی چینز میں تاخیر اور وبا سے متعلق خلل کی وجہ سے کچھ کاروں کے ماڈلز کی ڈلیوری میں تاخیر سے متعلق آگاہ کیا ہے۔