’کوئی ہم سے بھی پوچھے کہ ہم ڈاکٹرز احتجاج کیوں کررہے ہیں‘

02 فروری 2021

ای میل

تبدیلی چاہے سیاسی ہو یا معاشی، وہ عوام پر اثر انداز ضرور ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو تبدیلی کے 2 ہی پہلو ہیں، ایک مثبت اور دوسرا منفی۔

2018ء میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت عوامی، سیاسی اور معاشی تبدیلی کا نعرہ لگا کر برسرارِ اقتدار آئی اور کس شعبے میں کتنی تبدیلی رونما ہوئی اس کا فیصلہ عوام آئندہ انتخابات میں کریں گے، تاہم صحت کا شعبہ تبدیلی کے اچھے بُرے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) آرڈیننس کے خلاف گزشتہ 2 ماہ سے بڑے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹر سراپا احتجاج ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ آرڈیننس کی صورت میں آنے والی تبدیلی کو وہ قطعی طور پر درست نہیں سمجھتے جبکہ حکومت کو ایم ٹی آئی میں سب اچھا ہی اچھا نظر آرہا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں صدرِ مملکت عارف علوی نے اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)، پولی کلینک اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن میڈیسن (نرم) پر ایم ٹی آئی آرڈیننس نافذ کیا۔ اس آرڈیننس کے نفاذ سے قبل وزارتِ صحت کے حکام نے ناصرف ڈاکٹروں کو اعتماد میں لیا بلکہ ڈرافٹ بھی پیش کیا۔

ڈاکٹروں کی جانب سے جو تجاویز پیش کی گئی تھیں حکومت نے ان کو من و عن آرڈیننس میں شامل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی لیکن جب آرڈیننس جاری کیا گیا تو ڈاکٹروں سمیت سرکاری اسپتالوں کے ملازمین سرپکڑ کر بیٹھ گئے اور بلآخر احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت سرکاری اسپتالوں کو 5 رکنی بورڈ آف گورنر چلائے گا جو ادارے کا کرتا دھرتا یا یوں کہیے کہ ’گاڈ فادر‘ ہوگا۔ کس ٹیسٹ کی کتنی فیس لینی ہے، کس بیڈ کا کرایہ کتنا ہونا چاہیے، چپڑاسی کی نوکری کسے دینی ہے اور کس پروفیسر کو بھرتی کرنا ہے، یہ سب فیصلے بورڈ ہی کرے گا۔

ایم ٹی ائی آرڈیننس کے خلاف طبّی عملہ سراپا احتجاج ہے
ایم ٹی ائی آرڈیننس کے خلاف طبّی عملہ سراپا احتجاج ہے

وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ایکٹ کے نفاذ کا مقصد اسپتالوں کے نظام کو بہتر کرنا ہے۔ جب کوئی نیا نظام آتا ہے تو ایک ڈر ضرور موجود ہوتا ہے اور لوگوں کو تحفظات ہوتے ہیں۔ ہمارے اسپتالوں کا موجودہ نظام درست نہیں ہے۔ ہم نے اپنے لوگوں کو معیاری علاج کی سہولیات فراہم کرنی ہیں۔ موجودہ نظام فیل ہوچکا ہے اور اس کو بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سارے معاملے میں مرکزی اسٹیک ہولڈر ہمارے عوام ہیں۔ میڈیکل پروفیشنلز ہمارے اپنے لوگ ہیں اور ان سے بات ہوسکتی ہے۔

سابق صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد ڈاکٹر فضل ربی کا کہنا ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی کو مثبت تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا لیکن بدقسمتی سے ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ تبدیلی کے لیے دیا گیا یہ ووٹ ہمارا کیا حشر کردے گا۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ایم ٹی آئی آرڈیننس کے تحت حکومت من پسند افراد کی تعیناتی چاہتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، ڈاکٹر انصر مسعود کو ریٹائرمنٹ کے بعد اسپتال کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا حالانکہ آرڈیننس کی شق 11 کے مطابق وہ اس کے اہل ہی نہیں تھے اور نہ ان کے پاس اسپتال مینجمنٹ میں ماسٹرز ڈگری ہے۔ اور تو اور وہ میڈیکل ڈاکٹر بھی نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود پرائیوٹ پریکٹس بھی کرتے ہیں۔ جب حکومت اس طرح کی تقرریاں کرے گی اور ان لوگوں کے ہاتھ میں بجٹ سمیت تمام اختیارات دے دیے جائیں گے تو نظام تباہی کی طرف ہی جائے گا۔

اگر بورڈ آف گورنر کو آئیسولیشن اور قرنطینہ میں فرق نہیں معلوم ہوگا تو وہ کیسے بہتری لاسکے گا؟ حکومت کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ جب تک صحت کے شعبے کا بجٹ نہیں بڑھایا جاتا تب تک اصلاحات کا عمل ممکن ہی نہیں ہے۔

صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر فیض اچکزئی کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت اسپتالوں کو خود مختار ادارہ بنایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اسپتال اپنے اخراجات خود اٹھائیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسپتال نے مریضوں سے ہی پیسے لے کر اپنا ریونیو اکٹھا کرنا ہے۔

فیض اچکزئی مزید کہتے ہیں کہ یہاں پمز میں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے لیکن اگر آپ ایک غریب سے 2 ہزار روپے معائنہ فیس کی مد میں لیں اور اس کے بعد ٹیسٹ کے لیے الگ رقم کا تقاضہ کریں تو وہ کہاں جائے گا؟ ہمارا فرض علاج کرنا ہے ہم سیاست نہیں کرتے، اس آرڈیننس کے خلاف ہم نے ہر دروازے پر دستک دی اور آواز اٹھائی مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

چیئرمین ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر حیدر نے حکومت سے ایم ٹی آئی آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ڈاکٹرز نے کورونا کے خلاف کامیاب جنگ لڑی۔ کورونا کی صورتحال میں ڈاکٹرز احتجاج نہیں کرنا چاہتے تھے۔ پوری دنیا میں فرنٹ لائن ورکرز کو خراج تحسین پیش کیا جارہا تھا لیکن پاکستان میں ڈاکٹروں پر ایم ٹی آئی آرڈینس نافذ کردیا گیا۔ ایم ٹی آئی کے ذریعے ہمارے حقوق چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مثبت تبدیلی کی حمایت کریں گے۔

ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی آرڈیننس ڈاکٹروں کے حقوق چھیننے کے مترادف ہے
ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی آرڈیننس ڈاکٹروں کے حقوق چھیننے کے مترادف ہے

اس ایکٹ کے تحت اسپتال کے ملازمین کو سول سرونٹ ملازمت رکھنے یا ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت ملازمت رکھنے کا آپشن دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بھی اپنے مثبت اور منفی اثرات ہیں۔ سول سروس میں رہنے والے ملازمین کو دیگر مراعات تو حاصل ہوں گی لیکن پروموشن اور دیگر سروس اسٹرکچر فراہم نہیں کیا جائے گا جبکہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت ملازمت رکھنے والے پینشن اور دیگر سرکاری مراعات سے تو محروم رہیں گے لیکن ان کی تنخواہیں سرکاری ملازمین سے زیادہ مقرر کی جائیں گی۔

میڈیکل کی تعلیم بہت مہنگی ہے۔ پرائیوٹ کالجز میں طالب علم 50 لاکھ سے زائد فیس دے کر ڈگری حاصل کرتے ہیں، اس کے بعد سفارش کرکے سرکاری اسپتال میں ہاؤس جاب ملتی ہے۔ پھر ایک سال بغیر کسی تنخواہ کے آپ سے کام لیا جاتا ہے جس کے بعد آپ نوکری کے اہل ہوتے ہیں اور پھر ناختم ہونے والی ایک طویل جہدوجہد شروع ہوجاتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی نام ہی جہدوجہد کا ہے لیکن نظام وہ ہونا چاہیے جو سب کو قبول ہو۔ ہم آج بھی حکومت سے کہتے ہیں کہ آئیں ہم سے بات کریں ہم کوئی سیاستدان نہیں، اپوزیشن نہیں بلکہ آپ کے ہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی تمام زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کی ہوئی ہے۔ ہم سے بات چیت کریں اور ایسا نظام لائیں جو آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ہو۔