کورونا وائرس، معاشی عدم مساوات اور عالمی امن کو لاحق خطرہ!

04 فروری 2021

ای میل

لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔
لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔

کورونا کی وبا نے جہاں دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو مشکلات اور پریشانیوں کا شکار کیا ہے وہیں یہ بحران امیر ترین افراد کے لیے منافع بخش بھی رہا۔

اس وبا نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں نگل لیں اور کروڑوں کو غربت کی جانب دھکیل دیا ہے۔ تاہم گزشتہ ایک سال میں دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس وبا کے آغاز سے ہی دنیا کے غریب افراد مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوگئے ہیں۔

یہ بات تو ثابت شدہ ہے کہ یہ ہنگامی صورتحال ہر فرد پر یکساں طور سے اثر انداز نہیں ہوئی۔ اس وبا نے ممالک کے مابین اور ممالک کے اندر پہلے سے موجود عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ ہم سب ایک ہی سمندر میں موجود ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ کچھ لوگوں کو پُرتعیش کشتیاں میسر ہیں تو کچھ لوگ تیرتے ہوئے ملبے کا سہارا لیے ہوئے ہیں‘۔

مزید پڑھیے: کورونا وائرس کے بعد کی معیشت: خدشات اور امکانات

یہ بات بھی درست ہے کہ امیر ممالک میں اس وبا کے اثرات زیادہ شدید رہے ہیں لیکن وہ ممالک ان اثرات سے غریب مالک کی نسبت جلدی باہر آجائیں گے۔ یہ عمل ناصرف امیر اور غریب ممالک کے درمیان موجود فرق کو مزید وسیع کردے گا بلکہ اس سے عالمی امن کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔

گزشتہ ماہ آکسفام نے ’دی ان ایکویلیٹی وائرس‘ کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی جس میں وبا کے دوران معاشی عدم مساوات کے بارے میں کچھ چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق جس دوران لاکھوں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے تھے اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے اس دوران امیر ترین افراد اس وبا سے سب سے کم متاثر ہوئے۔

اندازہ لگایا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران دنیا میں غربت کے شکار افراد کی کل تعداد میں 20 سے 50 کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف عالمی معیشت میں گراوٹ کے باوجود 18 مارچ سے 31 دسمبر 2020ء کے دوران دنیا کے ارب پتی افراد کی دولت میں تقریباً 4 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

عالمی معاشی فورم کی رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران دنیا کے 10 امیر ترین ارب پتی افراد کی دولت میں 540 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی مشترکہ دولت تقریباً 12 کھرب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی 25 بڑی کمپنیوں نے گزشتہ سالوں کی نسبت 2020ء میں 11 فیصد زیادہ منافع کمایا۔

اس عرصے میں امریکا کے معروف ارب پتی اور خلائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے مشہور ایلن مسک کی دولت میں تقریباً 129 ارب ڈالر اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی دولت میں تقریباً 78 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن صرف امریکیوں کی دولت میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ مارچ سے اکتوبر 2020ء کے دوران بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کی دولت میں بھی تقریباً 79 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

آکسفام کی رپورٹ کے مطابق ’اس عرصے کے دوران 4 روز بعد ہی امبانی خاندان کی دولت میں ہونے والا اضافہ ریلائنس انڈسٹریز کے ایک لاکھ 95 ہزار ملازمین کی کل سالانہ تنخواہ سے بھی زیادہ تھا‘۔ مکیش امبانی دنیا کے 21ویں امیر ترین شخص سے اب چھٹے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کورونا سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور اسے آزادی کے بعد سے کبھی اتنے سنگین معاشی عدم استحکام کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

دنیا کے دیگر خطوں کی صورتحال بھی اس سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ آکسفام کے مطابق مارچ سے اگست 2020ء میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ارب پتی افراد کی دولت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ ان خطوں کے لیے جاری ہونے والی عالمی مالیاتی ادارے کی مالی امداد کے مقابلے میں 2 گنا سے بھی زیادہ ہے۔ چونکہ اس عرصے میں کمرشل فلائٹس معطل تھیں اس وجہ سے نجی طیاروں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیے: ’کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی نہ رکی تو ہم زندگی و معاش دونوں سے محروم ہوجائیں گے‘

اس دولت کی ایک بڑی انسانی قیمت بھی ادا کرنی پڑی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارب پتی افراد کی دولت صرف 9 ماہ میں ہی کورونا سے پہلے والی سطح پر آگئی ہے لیکن عالمی معیشت کو اس سطح پر واپس جانے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ لگے گا۔

اس وبا نے دنیا میں شدید عدم مساوات کو مزید عیاں کردیا ہے۔ کورونا وائرس سے پہلے ہی دنیا کے اربوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ 3 ارب سے زیادہ لوگوں کو صحت کی سہولیات اور تین چوتھائی مزدوروں کو کسی بھی قسم کے سماجی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس صورتحال نے انہیں وائرس سے مزید غیر محفوظ بنادیا ہے۔ جوں جوں عدم مساوات میں اضافہ ہورہا ہے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔

اس صورتحال سے آسانی کے ساتھ بچا جاسکتا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس عرصے کے دوران دنیا کے 10 امیر ترین ارب پتی افراد کی دولت میں جو اضافہ ہوا ہے وہ کسی کو بھی وائرس کی وجہ سے غربت کا شکار ہونے سے بچانے اور ہر شخص کے لیے کورونا کی ویکسین خریدنے کے لیے کافی تھا‘۔ بدقسمتی سے ہمارا موجودہ عالمی نظام امیروں کو ہی فائدہ پہنچاتا ہے اس لیے ایسا ہونا ناممکن تھا۔

اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ غربت کا شکار ہونے والے لوگ اگلے 10 سالوں کے دوران بھی اس صورتحال سے باہر آسکیں گے۔ یہ بہت ہی سنجیدہ صورتحال ہے جس کے سیاسی اور سماجی اثرات ہوں گے۔

عدم مساوات کا مطلب ہے کہ زیادہ لوگ بیمار پڑیں گے، کم لوگ تعلیم حاصل کریں گے اور بہت کم لوگ خوشحال زندگی گزاریں گے۔ آمدن میں موجود عدم مساوات سیاست کو آلودہ کرسکتا ہے اور شدت پسندی اور نسلی تعصب کو ہوا دے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پہلے سے زیادہ افراد ناامیدی اور خوف کا شکار ہوجائیں گے۔

اس صورتحال سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور ان ممالک میں عدم مساوات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’عالمی بینک کے مطابق اگر حکومتوں نے عدم مساوات کو سالانہ 2 فیصد کی شرح سے بھی بڑھنے دیا تو 2030ء تک تقریباً 50 کروڑ افراد روزانہ ساڑھے 5 ڈالر سے کم کی آمدن پر گزارا کر رہے ہوں گے اور غربت کے شکار افراد کی تعداد وائرس سے پہلے والی تعداد سے بڑھ جائے گی‘۔

مزید پڑھیے: ’جو تاجر پہلے لوگوں کی مدد کرتے تھے، وہ اب خود محتاج ہوگئے ہیں‘

جنوبی ایشیا میں دنیا کی کل آبادی کا چوتھائی حصہ رہتا ہے اور یہی خطہ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں لکھا تھا کہ ’عالمی بینک کی رپورٹ اس خطے کے حوالے تشویشناک پیش گوئی کر رہی ہے جس کے مطابق وائرس کے اثرات کی وجہ سے معاشی کارکردگی 40 سال کی پست ترین سطح پر آسکتی ہے۔ سب سے بُرا یہ ہوگا کہ اس پورے خطے کی جی ڈی پی میں خاطر خواہ کمی آئے گی‘۔

اگر ایسی صورتحال پیش آتی ہے تو کئی دہائیوں میں حاصل ہونے والی ترقی ضائع ہوجائے گی اور کروڑوں لوگ دوبارہ غربت کا شکار ہوجائیں گے۔ یو این ڈی پی نے پاکستان سمیت 70 ممالک کا جائزہ لیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اس وائرس کی وجہ سے 40 کروڑ سے زائد افراد غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی لڑکھڑا رہی تھی اور ایسی صورتحال میں کورونا وائرس مزید مہلک ثابت ہوگا۔ لاکھوں لوگ پہلے ہی غربت کا شکار ہیں اور نوکریوں میں کمی کی وجہ سے انہیں ایک تاریک مستقبل کا سامنا ہے۔ یوں یہاں سنگین سیاسی اور معاشی نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے، اور یہ صورتحال صرف پاکستان کو ہی درپیش نہیں ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔


یہ مضمون 3 فروری 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔