پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں 100 فیصد تک اضافہ

اپ ڈیٹ 06 فروری 2021
حکومت نے رواں سال کے پہلے نصف حصے میں اب تک کی سب سے زیادہ 275 ارب 32 کروڑ روپے کی پیٹرولیم لیوی جمع کی ہے، وزارت خزانہ - فائل فوٹو:رائٹرز
حکومت نے رواں سال کے پہلے نصف حصے میں اب تک کی سب سے زیادہ 275 ارب 32 کروڑ روپے کی پیٹرولیم لیوی جمع کی ہے، وزارت خزانہ - فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: گزشتہ سال کا اپنا ہی ریکارڈ کو توڑتے ہوئے حکومت نے رواں سال کے پہلے نصف حصے میں اب تک کی سب سے زیادہ 275 ارب 32 کروڑ روپے کی پیٹرولیم لیوی جمع کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جولائی تا دسمبر 2020 کے جاری کردہ مالی اعدادوشمار سے ظاہر ہوا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی وصولی مالی سال2019 میں اسی عرصے میں جمع کیے گئے 137 ارب 95 کروڑ روپے سے تقریبا 100 فیصد زیادہ ہے۔

یہاں تک کہ گزشتہ سال کا پیٹرولیم لیوی بھی اپنے آپ میں ایک ریکارڈ تھا جو مالی سال 2018 کی پہلی ششماہی سے 68 فیصد زیادہ تھا۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم لیوی 106 فیصد تک بڑھادی گئی

تاہم پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے حصے، جولائی تا دسمبر 2018، میں81 ارب 91 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے تھے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں (جولائی سے دسمبر 2017) کے دوران اکٹھا کیے گئے 93 ارب 84 کروڑ روپے سے 13 فیصد کم تھے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی پٹرولیم مصنوعات پر عائد زیادہ لیوی وصول کرنے پر سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے اور ابتدا میں اس نے پی ایل کے نرخوں کو کم کرنا کے بھی آغاز کیا تھا۔

اس طرح پٹرولیم لیوی فی لیٹر کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات پر وفاقی حکومت کی طرف سے عائد ٹیکسز کا سب سے بڑی ریونیو ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت مختلف مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ 6 سے 14 روپے فی لیٹر پی ایل وصول کرتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی، پیٹرول کی قیمت میں 3.20 روپے تک اضافہ

تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پیٹرول، ڈیزل اور ہائی آکٹین پر فنانس بل 2017-18 میں زیادہ سے زیادہ پی ایل کی شرح 30 روپے فی لیٹر شامل کی تھی لیکن وہ اس طرح کے نرخوں کو در حقیقت کبھی بھی چارج نہیں کرسکی تھی۔

اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے ابتدائی طور پر اعلان کیا تھا کہ فنانس بل سے اس شق کو واپس لے لیا جائے گا جس کو چھیڑا نہیں گیا تھا۔

بعد ازاں پی ٹی آئی نے تقریباً تمام مصنوعات پر پی ایل میں اضافہ کرنا شروع کیا جو چند ماہ قبل تک 30 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں پی ایل اکٹھا کرنے کے لیے 450 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

تاہم گزشتہ چھ مہینوں میں 275 ارب روپے یا مجموعی طور پر ہدف کا 61 فیصد اکٹھا کرلینے کے بعد حکومت کو اب پیٹرولیم لیوی کم کرنے پر غور کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مالی سال20-2019: پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وصولی میں 43 فیصد اضافہ

اس وقت حکومت پیٹرول پر 21.04 روپے فی لیٹر پی ایل، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 22.11 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل پر 6.91 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل پر 5.54 روپے فی لیٹر وصول کررہی ہے۔

اسی طرح حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 41 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 42 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کررہی ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت جی ایس ٹی کے بجائے پیٹرولیم لیوی کے نرخوں پر تبادلہ خیال کررہی ہے کیونکہ لیوی وفاقی خزانے میں رہتی ہے جبکہ جی ایس ٹی تقسیم ہونے والا ٹیکس ہے اور اس کا 57 فیصد حصہ صوبوں کو ملتا ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں