عدنان صدیقی اور فیصل قریشی، نصیبو لال کے دفاع میں سامنے آگئے

اپ ڈیٹ 12 فروری 2021

ای میل

4 منٹ کے دورانیے پر مشتمل پی ایس ایل 6 کے آفیشل گانے کی ویڈیو 6 فروری کو ریلیز کی گئی— فوٹوز : ٹوئٹر/فیس بک
4 منٹ کے دورانیے پر مشتمل پی ایس ایل 6 کے آفیشل گانے کی ویڈیو 6 فروری کو ریلیز کی گئی— فوٹوز : ٹوئٹر/فیس بک

رواں ماہ 20 فروری سے شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے سیزن کا آفیشل گیت ’گروو میرا‘ گزشتہ ہفتے ریلیز کیا گیا تو اکثر شائقین اس پر برہم نظر آئے۔

4 منٹ کے دورانیے پر مشتمل پی ایس ایل 6 کے آفیشل گانے کی ویڈیو 6 فروری کو ریلیز کی گئی تھی، جو دیکھتے ہی وائرل ہوگئی۔

رواں برس پی ایس ایل کا ترانہ گلوکارہ نصیبو لال اور آئمہ بیگ نے گایا ہے اور نوجوان نسل میں کھیل اور گانوں کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں ہپ ہاپ بینڈ ینگ اسٹنرز کے ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 6 کے گانے کو سن کر کرکٹ اور میوزک مداح برہم

گزشتہ برس پی ایس ایل فائیو کے گانے ’تیار ہیں‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن نصیبو لال اور آئمہ بیگ کے گانے ’گروو میرا‘ کو سننے کے بعد اکثر مداحوں کو پچھلے سیزن کا گانا بہتر لگنے لگا۔

جس کے بعد سوشل میڈیا پر پی ایس ایل سے متعلق مختلف ہیش ٹیگز بھی ٹرینڈ کررہے تھے اور صارفین کی بڑی تعداد نے تنقید کی تاہم بعدازاں اس گانے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔

سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کے بعد شوبز شخصیات کی جانب سے اس پر ردعمل دیا جارہا ہے اور اب بھی نامور اداکاروں عدنان صدیقی اور فیصل قریشی نے گلوکارہ نصیبو لال کی حمایت کی ہے۔

اداکار فیصل قریشی نے ٹوئٹ کی کہ ہم کب چیزوں کو اس کے تناظر میں رکھنا اور اس کے مطابق ردعمل ظاہر کرنا سیکھیں گے؟

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 6: کا آفیشل گیت ’گروو میرا‘ریلیز

انہوں نے لکھا کہ گانے پر نفرت دکھائی جارہی ہے؟ اسپورٹس کا جذبہ دکھائیں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خوشی منائیں۔

فیصل قریشی نے کہا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ نصیبو لال جو عوام میں بہت مقبول ہیں وہ اپنے 'گروو' اور اونچے سُروں سے اسٹیڈیم میں چھاجائیں گی۔

دوسری جانب عدنان صدیقی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ہم فنکاروں کے لیے کم از کم جو کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے۔

انہوں نے لکھا کہ کی بورڈ کا استعمال کرکے تنقید کرنا اور کسی کی محنت کے ٹکڑے ٹکڑے کردینا بہت آسان ہے۔

عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ کیسے نصیبو لال کے گائے ہوئے گانے بھول گئے جو انہوں نے ہمیں دیے، 'گروو میرا' اس طرح تنقید کا مستحق نہیں۔