کورونا وائرس سے جنگ: ہر ڈاکٹر کے پاس سنانے کو ایک کہانی ہے

17 فروری 2021

ای میل

پاکستان میں کورونا وائرس کی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے ہم سب کی ہچکولے کھاتی زندگی کی ناؤ اب منجدھار سے نکلنے لگی ہے اور طوفان تھمنے لگا ہے، لیکن اس عالمی وبا کے معیشت سمیت دیگر شعبوں پر پڑنے والے منفی بلکہ تباہ کن اثرات سے نکلنے کے لیے کئی برس درکار ہوں گے۔

2020ء میں اس بیماری نے شدت اختیار کی اور امریکا سے روس تک کوئی ملک اس قاتل وبا سے بچ نہ سکا۔ اس آفت نے دنیا بھر کی حکومتوں کی توجہ ناصرف اسپتالوں میں بنیادی ساز و سامان کی کمی کی طرف دلائی جیسا کہ اٹلی اور اسپین سمیت دیگر شدید متاثرہ ممالک میں دیکھا گیا۔ ساتھ ساتھ اس وبا نے دنیا بھر کی حکومتوں کو شعبہ صحت کی طرف توجہ دینے پر مجبور کیا لیکن کم وسائل میں بہترین خدمت اور کٹھن وقت میں ڈاکٹرز، نرسز او پیرا میڈیکل اسٹاف کا جذبہ دیدنی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہیلتھ کیئر ورکرز کو حکومت اور عوام کی جانب سے آج بھی خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔

26 فروری 2020ء پاکستان کے لیے پریشان کن دن ثابت ہوا جب ملک میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ کورونا زدگان کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور اسپتالوں پر بوجھ بھی بڑھتا گیا۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں پانچ دن میں 10 ڈاکٹر کورونا سے جاں بحق

22 مارچ کو اس وقت افسوسناک خبر سننے کو ملی جب گلگت بلتستان میں ڈاکٹر اسامہ کورونا سے لڑتے ہوئے چل بسے۔ مارچ 2020ء کے بعد ہر دن کورونا اپنے پنجے گاڑتا رہا لیکن مسیحا اپنے فرض سے پیچھے نہ ہٹے۔ انہوں نے نہ اپنی فکر کی اور نہ گھر والوں کا خیال کیا، بس ایک ہی کام کیا اور وہ تھا مریضوں کی دیکھ بھال۔

ڈاکٹر اسامہ کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے جان کی بازی ہارنے والے پاکستان کے پہلے ڈاکٹر تھے
ڈاکٹر اسامہ کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے جان کی بازی ہارنے والے پاکستان کے پہلے ڈاکٹر تھے

پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈاکٹروں کی کس ٹیم نے کورونا مریض کو انٹوبیٹ کیا؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں کورونا وارڈز میں متعین ڈاکٹروں کو تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ پمز کریٹیکل کیئر اور انستھیزیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ پروفیسر رانا عمران سکندر نے کورونا مریضوں کے علاج کے لیے ڈاکٹر فضل ربی، ڈاکٹر منیب اور ڈاکٹر مجاہد گیلانی پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جس نے 26 مارچ 2020ء کو پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کو انٹوبیٹ (مصنوعی سانس کی مشین یا وینٹلی لیٹر) کیا۔

یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کہ پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر ہی وہ پہلے ڈاکٹر ہیں جنہوں نے کورونا وائرس کی ویکسین پاکستان آنے کے بعد خود کو رضا کارانہ طور پر پیش کیا اور 2 فروری کو انہیں ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی گئی۔ ڈاکٹر رانا عمران سکندر کا کہنا ہے کہ ’جس دن پمز اسپتال میں کورونا کا پہلا مریض داخل ہوا اس دن سے لے کرآج تک کا وقت ایک ڈراؤنا خواب لگتا ہے۔ پہلے دن ہمیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ یہ آفت ختم بھی ہوگی یا نہیں؟ کتنی اموات ہوں گی؟ خوف کا غلبہ تھا جو اب ختم ہورہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی، نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی حکمتِ عملی اور گائیڈ لائنز نے اس وبا پر قابو پانے میں ہماری رہنمائی کی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں قرآن پاک کی آیت کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘۔

ان کی ٹیم کے ایک اور رکن اور کورونا آئی سی یو کے شریک انچارج ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا ہے کہ ’جب ہم پہلے مریض کو وینٹلی لیٹر پر منتقل کررہے تھے تب ایک خوف تھا۔ اس بیماری سے لوگ دُور بھاگ رہے تھے اور ہم اتنا ہی نزدیک جارہے تھے۔ اس کے بعد کئی مریض آتے چلے گئے اور ان کی اموات ہوتے دیکھیں۔ نوجوان مریضوں کی اموات کے بارے میں ان کی فیملی کو بتانا بہت تکلیف دہ تھا۔ کئی ایسے مریض بھی تھے جن کو الحمد اللہ ہم وینٹلی لیٹر سے واپس بھی لائے۔ ہمارا مقصد ایک ہی تھا، مریضوں کی جان بچانا۔ یہ صرف میرا ہی نہیں بلکہ میرے ساتھ کام کرنے والے ہر ڈاکٹر، پیرامیڈک اور نرس کا جذبہ تھا کہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرنی، ہر قیمت پر مریض کی جان بچانی ہے‘۔

ڈاکٹروں کا صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ یہ کہ مریضوں کی جان بچانی ہے
ڈاکٹروں کا صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ یہ کہ مریضوں کی جان بچانی ہے

ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے بتایا کہ ’کورونا وارڈ میں مریض کے کسی بھی رشتہ دار کو جانے کی اجازت نہیں تھی اور اس وقت ان مریضوں کے لیے سب کچھ ہم ہی ہوتے تھے۔ کئی مریضوں کی باتیں نہیں بھولتیں، جب میں ایک مریضہ کو وینٹی لیٹر پر منتقل کررہا تھا، اس خاتون نے میرا بازو پکڑ کر کہا کہ میں تیار ہوں لیکن میرے گھر والوں سے ایک دفعہ میری بات کروا دیں۔ اسی طرح ایک بزرگ کو جب میں وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے لگا تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔ تو اس طرح اس وقت مریض کے لیے آپ ہی سب کچھ ہوتے ہیں‘۔

یہاں ڈاکٹر مجاہد گیلانی کے خاندان کے بارے میں بات نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا تعلق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے ہے اور کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے پوتے اور آسیہ اندرابی کے بھانجے ہیں۔

پمز کووڈ وارڈ کے رجسٹرار ڈاکٹر فضل ربی نے بتایا کہ ’مارچ 2020ء سے اب تک ہم اس وارڈ میں موجود ہیں، جب ہم پہلا مریض وینٹ پر منتقل کررہے تھے تب ایک ہی عزم تھا کہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرنی، صرف قوم کی پرواہ کرنی ہے۔ اس ساری صورتحال میں خواتین طبّی عملے کی ہمت اور حوصلہ بہت دیدنی تھا جنہوں اسپتالوں پر منڈلاتے خوف کے سائے میں دن رات کام کیا‘۔

کورونا وارڈ میں ڈاکٹر ہی مریض کے رشتے دار ہوتے ہیں
کورونا وارڈ میں ڈاکٹر ہی مریض کے رشتے دار ہوتے ہیں

انہوں نے کہا کہ ’جب آپ اپنے ساتھی ڈاکٹر کو وینٹ پر منتقل کرتے ہیں تب بہت تکلیف ہوتی ہے۔ پمز میں میڈیکل ایمرجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر منظور کورونا کے باعث زندگی کی بازی ہارے اور 2 پیرامیڈک شہید ہوئے۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو کل ہمارے ساتھ اسی وارڈ میں کام کررہے تھے لیکن آج یہاں نہیں۔ انہوں نے اپنا فرض پوری طرح نبھایا۔ جب مجھے کورونا ہوا تو میں نے گھر والوں سے چھپایا۔ میری والدہ جب مجھ سے فون پر ویڈیو کال کرتیں تو کہتیں کہ اپنا بازو دکھاؤ کہیں کینولا تو نہیں لگا ہوا۔ میری بیٹی مجھے نوکری چھوڑ کر گھر آنے کا کہتی تھی لیکن ہمیں ایک ہی فکر لاحق تھی کہ ان مریضوں کا خیال اگر ہم نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا؟‘

مزید پڑھیے: کورونا کے سونامی سے پاکستان کا نظام صحت کمزور پڑنے لگا

ڈاکٹر فضل ربی نے ایک شکوہ کیا کہ ’وفاقی سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ کورونا کے مریضوں کی نگہداشت اور علاج معالجے کے دوران اگر کوئی ہیلتھ ورکر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو شہدا پیکج اس کے لیے بھی ہوگا۔ اس میں جو معاوضہ ادا کیا جائے گا اس کی رقم 30 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک ہے جبکہ مختلف گریڈز کے حوالے سے اس کا تعین کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے ساتھیوں کو یہ اب تک نہیں مل سکا‘۔

ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ  اگر عملے کا کوئی فرد جان کی بازی ہار جائے تو اس کے لیے شہدا پیکج ہو
ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ اگر عملے کا کوئی فرد جان کی بازی ہار جائے تو اس کے لیے شہدا پیکج ہو

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کی پلمونولوجسٹ (پھیپھڑوں کی بیماریوں کے علاج کی ماہر) ڈاکٹر انیلہ عباسی کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ ڈاکٹر انیلہ عباسی کی شادی 5 سال قبل ہوئی تھی لیکن ان کو اولاد کی نعمت نصیب نہ ہوسکی۔ ڈاکٹر انیلہ گزشتہ ماہ جب کورونا وائرس کا شکار ہوئیں تو اس وقت وہ 8 ماہ کی حاملہ تھیں اور 3 فروری کو طبیعت ناساز ہونے پر انہیں وینٹلی لیٹر پر منتقل کردیا گیا اور ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے‘۔

بطور میڈیکل آفیسر مجھے خود بھی کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے کا موقع ملا۔ دورانِ علاج کیا ہوتا ہے، اکثر مریضوں کو تو یہ یاد بھی نہیں رہتا، ان کا حال صرف وہاں موجود طبّی عملہ بتا سکتا ہے۔ کسی مریض کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہوتی کہ ہمیں لگتا کہ یہ نہیں بچے گا مگر اگلے دن جب وہ ہمیں بیٹھا ہوا، باتیں کرتا نظر آتا تو ہماری ہمت بندھ جاتی۔ مشینوں کی بِیپ پر کانپتے جسم اور زندگی کی جنگ لڑتے مریضوں کو صحتیاب ہونے پر اسپتال سے باہر نکلتے ہی جب تازہ ہوا کا جھونکا لگتا ہے تو پھر ان کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ، فرحت بخش احساس اور ہمارے لیے کی جانے والی دعائیں، یہ سب وہ احساسات ہیں، جنہیں کبھی نہیں بھلایا جاسکے گا۔

سب سے زیادہ خوفناک وہ دشمن ہے جو نظر نہیں آتا۔ یہ کسی بھی لمحے کسی بھی انسان پر حملہ آور ہوسکتا ہے اور احتیاط اب بھی ہم پر واجب ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکر کو ان تجربات کا سامنا کرنا پڑا اور ہر ایک کے پاس سنانے کے لیے کئی کہانیاں ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ منظرِ عام پر آتی رہیں گی۔