اسلام آباد: پمز کے ڈاکٹروں سمیت 181 ملازمین کورونا وائرس کا شکار

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2020

ای میل

پمز میں کورونا کے شکار عملے میں ڈاکٹر اور نرسز بھی شامل ہیں— فائل/فوٹو: وکی پیڈیا
پمز میں کورونا کے شکار عملے میں ڈاکٹر اور نرسز بھی شامل ہیں— فائل/فوٹو: وکی پیڈیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس نے شدت اختیار کر لی ہے جہاں ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے 181 ملازمین وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر منہاج نے ملازمین کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی۔

ڈاکٹر منہاج کا کہنا تھا کہ متاثر ہونے والے تمام 181 ملازمین کو قرنطینہ کردیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہسپتال میں عملے کی کمی ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں: دارالحکومت میں کورونا کیسز میں اضافہ، پمز ہسپتال میں شیڈول سرجریز ملتوی

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے نئے وارڈز کھولنے کے لیے مزید ڈاکٹر، نرس سمیت دیگر عملہ درکار ہوگا۔

انہوں نے نے او پی ڈی کی بندش کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ او پی ڈی بند کرنے کا حتمی فیصلہ وزارت صحت اور این سی او سی کرے گی۔

پمز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی کینٹین اور کیفے ٹیریا کو وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیفے ٹیریا پر بیٹھنے اور خرید و فروخت کے باعث عملے میں کورونا پھیلا ہے۔

گزشتہ روز اسلام آباد کی انتظامیہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے تمام نجی اور سرکاری ہسپتالوں سے کہا تھا کہ کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر آئیسولیشن وارڈز کی تعداد میں اضافے کے علاوہ مزید بستروں اور وینٹی لیٹرز کا انتطام کریں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے ہسپتالوں کو آئیسولیشن وارڈز کی تعداد بڑھانے کی ہدایت

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت 12 سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آئیسولیشن وارڈ، 362 بستر اور 69 وینٹی لیٹرز کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں وینٹی لیٹرز اور ہسپتالوں کے بستروں کا استعمال ملک میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ یعنی 68 اور 69 فیصد ہے۔

دارالحکومت کی انتظامیہ کے ترجمان نعمان ناظم نے ڈان کو بتایا کہ 5 نجی ہسپتالوں کے نمائندوں نے چیف کمشنر کے دفتر میں ڈائریکٹر آصف رحیم سے ملاقات کی اور 45 سے 48 بستروں کا بندوبست کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

انہوں نے بتایا کہ پمز ہسپتال کو بھی بستروں کی گنجائش 115 سے بڑھا کر 175 کرنے کا کہا گیا ہے۔

پمز میں رواں ماہ کے اوائل میں ہی اسلام آباد میں کووڈ 19 کے کیسز میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے پیش نظر تمام شیڈول سرجریز کو ملتوی کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کورونا کی دوسری لہر: پاکستان کے ہسپتالوں میں گنجائش ایک بار پھر ختم ہونے لگی

ڈان کو دستیاب سرکلر کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت پر تمام شیڈول سرجریز کو منسوخ یا ملتوی کردیا گیا ہے جس کی وجہ کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ ہے، صرف ایمرجنسی اور کینسر کے آپریشنز کیے جائیں گے۔

ہسپتال کے میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بیماری کے پھیلاؤ میں اضافے کو دیکھ کر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب کوئی مریض ہسپتال آئے گا تو نہ صرف وہ وائرس لاسکتا ہے بلکہ ہسپتال آکر وائرس کا شکار بھی ہوسکتا ہے'۔