فیس بک نے آسٹریلیا میں خبر رساں اداروں کے مواد پر پابندی لگادی

اپ ڈیٹ 18 فروری 2021

ای میل

اب فیس بک آسٹریلوی میڈیا کے لنکس شیئر نہیں کیے جا سکیں گے—اسکرین شاٹ
اب فیس بک آسٹریلوی میڈیا کے لنکس شیئر نہیں کیے جا سکیں گے—اسکرین شاٹ

عام طور پر دنیا کے کئی ممالک متنازع پالیسیوں کی وجہ سے فیس بک پر پابندی عائد کرتے آئے ہیں تاہم اب پہلی بار فیس بک نے آسٹریلیا کے خبر رساں اداروں کے مواد کو سوشل سائٹ پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی۔

آسٹریلیا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں پر عام لوگ خبروں اور معلومات کے انحصار کے لیے فیس بک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

آسٹریلیا کے خبر رساں اداروں، نیوز آؤٹ لیٹس اور ٹی وی چینلز سمیت ہر طرح کے نشریاتی اداروں کے فیس بک پر پیجز موجود ہیں، جہاں پر ان کے لاکھوں و کروڑوں فالوورز ہیں۔

آسٹریلوی نشریاتی ادارے فیس بک کے ذریعے بھی اپنے قارئین یا ناظرین تک مواد کی ترسیل کرتے آئے تھے تاہم 17 فروری سے فیس بک نے آسٹریلیا میں ہر طرح کے نشریاتی مواد پر پابندی عائد کردی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق آسٹریلوی حکومت کے مجوزہ قانون کے رد عمل میں فیس بک نے 17 فروری سے نشریاتی اداروں کے مواد کی شیئرنگ پر پابندی عائد کردی۔

آسٹریلوی شہری دوسرے ممالک کی خبروں کے لنکس بھی شیئر نہیں کر سکیں گے—فوٹو: اے پی
آسٹریلوی شہری دوسرے ممالک کی خبروں کے لنکس بھی شیئر نہیں کر سکیں گے—فوٹو: اے پی

نئی پابندی کے تحت اب کوئی بھی آسٹریلوی صحافتی ادارہ اپنا کسی طرح کا مواد فیس بک پر شیئر نہیں کر سکے گا اور نہ ہی عام افراد کو نیوز ویب سائٹس، ٹی وی چینلز اور ریڈیو سمیت دیگر طرح کے نشریاتی اداروں کے لنکس یا مواد شیئر کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہی نہیں بلکہ فیس بک کی پابندیوں کے باعث عام آسٹریلوی شہری دیگر ممالک کی ویب سائٹس، اخبارات، ٹی وی چینلز و ریڈیوز کی خبریں یا مواد بھی شیئر نہیں کر سکیں گے۔

اسی طرح دیگر ممالک میں بیٹھے لوگ بھی آسٹریلوی خبر رساں اور نشریاتی اداروں کے مواد کو فیس بک پر شیئر نہیں کر سکیں گے۔

اے پی کے مطابق فیس بک کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندی کا اطلاق 17 فروری سے ہوگیا ہے اور اس ضمن میں فیس بک انتظامیہ نے بھی اپنی بلاگ پوسٹ میں تصدیق کی جب کہ آسٹریلوی حکومت کے عہدیداروں نے بھی تصدیق کی کہ 17 فروری سے فیس بک کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی۔

فیس بک نے پابندیاں کیوں لگائیں؟

فیس بک نے مذکورہ پابندیاں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ایک مجوزہ قانون سے اختلافات کے بعد لگائیں۔

آسٹریلوی حکومت نے پارلیمنٹ گزشتہ برس دسمبر میں ایک مجوزہ بل پیش کیا تھا، جس میں فیس بک اور گوگل سمیت دیگر امریکی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کو پیسے دینے کا پابند کیا جانا تھا۔

مذکورہ بل کے مطابق فیس بک اور گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں ہر طرح کے آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کو کچھ نہ کچھ رقم فراہم کریں گی، کیوں کہ انٹرنیٹ کمپنیوں کی وجہ سے میڈیا کی کمائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

مجوزہ بل کے مطابق فیس بک اور گوگل کی وجہ سے آسٹریلوی میڈیا کی اشتہارات کی مد میں ہونے والی کمائی کم ہوگئی، اس وجہ سے انٹرنیٹ کمپنیاں میڈیا اداروں کو رقم فراہم کریں گی۔

آسٹریلوی حکومت کے مجوزہ بل پر ابتدا سے ہی فیس بک اور گوگل نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایسے قوانین کو نہیں مانیں گے جب کہ حکومت نے بھی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی تھی۔

فیس بک کے برعکس گوگل نے آسٹریلوی حکومت کی شرائط کو مان لیا تھا اور اس نے قوانین کی منظوری سے قبل ہی آسٹریلوی میڈیا سے مذاکرات شروع کردیے تھے تاہم فیس بک نے شرائط کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا مواد کو شیئر کرنے پر پابندی لگادی۔