کابل: تین علیحدہ دھماکوں میں 5 افراد ہلاک، دو زخمی

20 فروری 2021

ای میل

پہلے دو دھماکے 15 منٹ کے فرق سے ہوئے جبکہ تیسرا دو گھنٹے بعد ہوا جس میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ - فوٹو:اے پی
پہلے دو دھماکے 15 منٹ کے فرق سے ہوئے جبکہ تیسرا دو گھنٹے بعد ہوا جس میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ - فوٹو:اے پی
پہلے دو دھماکے 15 منٹ کے فرق سے ہوئے جبکہ تیسرا دو گھنٹے بعد ہوا جس میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ - فوٹو: اے پی
پہلے دو دھماکے 15 منٹ کے فرق سے ہوئے جبکہ تیسرا دو گھنٹے بعد ہوا جس میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ - فوٹو: اے پی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تین علیحدہ علیحدہ دھماکوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق کابل پولیس کے ترجمان فردوس فرامرز نے بتایا کہ پہلے دو دھماکے 15 منٹ کے فرق سے ہوئے جبکہ تیسرا دو گھنٹے بعد ہوا جس میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: نیٹو نے افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کو مؤخر کردیا

کسی بھی تنظیم نے فوری طور پر اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ فوری طور پر یہ بھی واضح نہیں ہوسکا ہے کہ دھماکوں کی وجہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغان دارالحکومت کابل میں ہونے والے زیادہ تر بم حملوں میں اسٹکی بم استعمال ہوئے جس میں میگنٹ کا استعمال ہوتا ہے جس کے ذریعے دھماکا خیز مواد گاڑیوں سے چپکا دیے جاتے ہیں اور ریموٹ کنٹرول یا ٹائمر کے ذریعے دھماکا کیا جاتا ہے۔

دوسرے دھماکے میں شمال مغربی کابل کے پڑوس میں ایک کار کو نشانہ بنایا گیا جس میں افغان فوج کے جوان سفر کر رہے تھے۔

اس دھماکے میں افغان فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ایک راہگیر شہری بھی مارا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کو افغانستان میں صحافیوں کی ہلاکتوں پر تشویش

تیسرے دھماکے میں مغربی کابل میں پولیس کی ایک کار تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں دو پولیس افسر ہلاک ہوگئے۔

دریں اثنا پہلے دھماکے میں شہری کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں دونوں مسافر زخمی ہوئے۔

کابل پولیس نے بتایا ہے واقعے کہ تفتیش جاری ہے۔

افغانستان میں ملک بھر میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات تاخیر کا شکار ہونا بتائی جارہی ہے۔

داعش کی مقامی وابستہ تنظیم نے ان حملوں میں سے چند کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم بہت سے افراد اس کی ذمہ داری طالبان پر عائد کرتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔