زیادہ رنز بنانے کے باوجود ملتان کو ایک اور شکست کیوں ہوئی؟

24 فروری 2021

ابھی اتوار کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف اپنے پہلے مقابلے میں ملتان سلطانز کو آخری 2 اوورز میں 20 رنز کا دفاع کرنا تھا لیکن 19ویں اوور میں ایک چھکا اور 3 چوکے لگنے کی وجہ سے ملتان یہ مقابلہ ہار گیا اور بالکل یہی داستان منگل کو پھر دہرائی گئی، جب پشاور زلمی کو ملتان کے خلاف کامیابی کے لیے 21 رنز درکار تھے اور 19ویں اوور میں 3 چھکوں نے ملتان کو ایک مرتبہ پھر شکست سے دوچار کردیا۔

یہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے جاری سیزن میں ملتان کی مسلسل دوسری شکست تھی اور اگر گزشتہ سیزن کے آخری 3 میچوں کو بھی ملا لیا جائے تو سلطانز کی شکستوں کا سلسلہ 5 میچوں تک دراز ہوچکا ہے۔

آخر سلطانز کے ساتھ مسئلہ ہے کیا؟

اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ کے بارے میں تو کہا جاسکتا ہے کہ 151 رنز کا ہدف اتنا بڑا نہیں تھا کہ اس کا آسانی سے دفاع ہو پاتا لیکن زلمی کے خلاف تو ملتان نے 193 رنز بنائے تھے؟ پھر ایسا کیا ہوا؟

پہلی وجہ پشاور کے بلے بازوں کی بہترین کارکردگی، جنہوں نے شروع ہی سے مقابلے کی فضا بنائے رکھی۔ کامران اکمل نے نوجوان شاہنواز دھنی کی طوفانی گیند ہیلمٹ پر کھانے کے باوجود 24 گیندوں پر 37 رنز کی ایک اچھی اننگز کھیلی۔

پھر امام الحق نے 39 گیندوں پر 48 رنز بنا کر ہدف کی جانب پیش قدمی کو جاری رکھا۔ بعد میں شرفین روتھرفورڈ نے صرف 6 گیندوں پر 15 اور ٹام کوہلر-کیڈمور نے 32 گیندوں پر شاندار 53 رنز سے اننگ کو اگلے گیئر میں ڈالا اور حیدر علی نے آخری اور فیصلہ کُن ضربیں لگا کر میچ کا فیصلہ کردیا۔

یعنی دوسرے الفاظ میں اس میچ میں بھی ملتان کے باؤلرز کا حال بہت بُرا رہا۔ خود دیکھ لیں کہ اسٹرائیک باؤلر سہیل تنویر نے صرف 3 اوورز میں 40 رنز کھائے، کارلوس بریتھویٹ نے 4 اوورز میں 41 اور شاہد آفریدی نے 38 اور تینوں کو ایک وکٹ تک نہیں ملی۔

نوجوان شاہنواز دھنی نے اپنے آخری اوور سے پہلے بہت عمدہ باؤلنگ کی، 3 اوورز میں صرف 20 رنز دے کر 2 وکٹیں لے چکے تھے، بس 19ویں اوور کا دباؤ نہیں جھیل پائے۔ عثمان قادر 29 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کرکے کسی حد تک 'زلمی کے وار' سے بچے رہے۔

یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جہاں ملتان کی شکست کی وجہ پشاور کے بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی تھی، وہیں باؤلرز کا بھی اس میں پورا پورا ہاتھ تھا کہ جو 194 رنز کے ہدف کا دفاع بھی نہ کر پائے۔

بلاشبہ ملتان کے پاس اس وقت بہترین بیٹنگ لائن موجود ہے۔ 'مین اِن فارم' محمد رضوان ہیں جنہوں نے اس میچ میں بھی 28 گیندوں پر 41 رنز بنائے۔ کرس لین ہیں، جو ابھی تک اپنا اصل جلوہ تو نہیں دکھا سکے لیکن بگ بیش لیگ سے ایک اچھی فارم کے ساتھ پاکستان آئے ہیں اور 2 میچوں میں ناکامی کے بعد اب ان پر ایک اچھی اننگز ادھار ہے، جسے وہ کسی بھی میچ میں چکا دیں گے۔

پھر انگلینڈ کے جیمز وِنس ہیں جو بگ بیش ہی سے بہترین فارم کے ساتھ آئے ہیں اور اس میچ میں انہوں نے 55 گیندوں پر 84 رنز کی کمال اننگ کھیلی، جو 'مین آف دی میچ پرفارمنس' ہوتی، اگر پشاور کے ٹام کوہلر مردِ میدان والی اننگ نہ کھیلتے۔ پھر صہیب مقصود بڑے عرصے بعد ترنگ میں نظر آئے، اور صرف 21 گیندوں پر 36 رنز بنائے اور یوں ملتان نے بہت اچھا اسکور کھڑا کیا۔

لیکن آخر میں یہ تمام رنز ناکافی ثابت ہوئے کیونکہ میچ میں کچھ ایسے 'ٹرننگ پوائنٹس' تھے جو بعد میں فیصلہ کُن ثابت ہوئے۔ جیسا کہ ملتان کی اننگ کا آخری اوور۔ 19ویں اوور میں جیمز وِنس ثاقب محمود کو ایک چھکا اور ایک چوکا لگانے کے بعد آؤٹ ہوئے تو امید تھی کہ اب آخری اوور میں نوجوان محمد عمران کے لیے رائلی روسو اور خوشدل شاہ کو روکنا بڑا مشکل ہوگا لیکن عمران نے کمال کا اوور پھینکا۔ انہوں نے آخری 6 گیندوں پر صرف 7 رنز دیے اور آخری 9 گیندوں پر صرف 9 رنز کے اضافے کے ساتھ ملتان کی اننگز 193 رنز تک ہی محدود رہ گئی۔

ایک لمحے ملتان باآسانی 200 کا ہندسہ عبور کرتا نظر آ رہا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ یوں 200 رنز سے زیادہ کے ہدف کا جو حریف پر نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے وہ ملتان نہیں ڈال پایا۔ جو کردار پشاور زلمی کی اننگز کے انہی لمحات میں حیدر علی نے ادا کیا، وہ سلطانز کے خوشدل شاہ سے ادا نہیں ہو پایا۔ پشاور نے آخری 10 گیندوں پر 31 رنز بنائے جبکہ ملتان نے صرف 13 اور یہی مرحلہ آخر میں جیت اور شکست کا فرق بنا۔

پھر ملتان نے چند 'ہاف چانسز' بھی ضائع کیے، جیسے کارلوس بریتھویٹ نے لانگ آن پر ذرا سی تاخیر دکھائی اور امام الحق کا کیچ ضائع ہوا۔ رن آؤٹ کے ایک موقع کا فائدہ بھی نہ اٹھایا جاسکا جس کے بعد ٹام کوہلر نے فیصلہ کن اننگز کھیل ڈالی۔

یہاں پشاور زلمی کے نوجوان محمد عمران کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ایک ایسے ہائی اسکورنگ میچ میں انہوں نے اپنے 4 اوورز میں صرف 24 رنز دے کر 1 وکٹ حاصل کی۔ ان میں آخری اوور بھی شامل تھا کہ جس میں انہوں نے صرف 7 رنز دیے تھے۔ یہ باؤلنگ کتنی شاندار تھی؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پشاور کے وہاب ریاض نے 4 اوورز میں 51، مجیب الرحمٰن نے 40 اور محمد عرفان نے 41 رنز کھائے تھے۔

ملتان کی بیٹنگ لائن بلاشبہ جاندار ہے، اور اس کا ثبوت اب تک کھیلے گئے دونوں میچوں سے بھی ملتا ہے لیکن باؤلنگ کا مسئلہ گمبھیر ہے۔ جو اہم باؤلرز ہیں، وہ آؤٹ آف فارم ہیں جیسا کہ سہیل تنویر۔ اس لیے اگلے میچوں کے لیے ملتان کو بہت کڑے فیصلے کرنے ہوں گے اور سوچ سمجھ کر۔ لیکن صرف ایک اوور بُرا پھینکنے پر شاہنواز دھنی کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ عموماً ہوتا ہے کہ شکست کا نزلہ کمزور پر گرتا ہے۔

بہرحال، اس پہلی کامیابی کے ساتھ بالآخر پشاور زلمی پوائنٹس ٹیبل پر آگیا ہے جہاں فی الحال لاہور قلندرز کا راج ہے۔ ملتان سلطانز کو اب 26 فروری کو 'آل پنجاب ڈربی' میں لاہور قلندرز کا ہی مقابلہ کرنا ہے جو تمام میچ جیتتا آ رہا ہے جبکہ اسی روز پشاور زلمی مقابلہ کریں گے روایتی حریف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا، جو اس وقت 2 شکستوں کے بعد 'زخمی شیر' کی طرح ہے۔

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف