کراچی، ’کے الیکٹرک‘ کی کارکردگی اور ’اگر، مگر‘ کا تڑکا

05 اپريل 2021

ای میل

کراچی شہر میں ان دنوں گرمی کی شدت اپنے عروج پر ہے اور اس بڑھتی گرمی کے ساتھ ہی انہیں بجلی کی فراہمی سے متعلق پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔

کراچی کے شہریوں کی یہ پریشانی بالکل بجا ہے۔ اس شہر کے باسی کئی سالوں سے موسمی حالات کے باعث بجلی کی فراہمی میں آنے والے تعطل کو برداشت کرتے آرہے ہیں۔ شہر میں گرمی بڑھ جائے یا پھر تیز بارش ہوجائے، بجلی کا طویل تعطل شہریوں کا نصیب بن جاتا ہے۔

لیکن کیا اس سال بھی سب کچھ ویسا ہی ہوگا؟ یا پھر ’کے الیکٹرک‘ شہر میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ’کچھ‘ کر بھی رہی ہے؟ یہ کراچی والوں کے لیے شاید سب سے اہم اور بڑا سوال ہے۔

اس سوال کا جواب جانتے ہیں ’کے الیکٹرک‘ کی ان دستاویزات سے جو اس نے نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو ارسال کی ہیں۔

کراچی شہر میں گزشتہ سال بجلی کی انتہائی طلب 3 ہزار 600 میگاواٹ تھی جبکہ ’کے الیکٹرک‘ کی بجلی فراہمی کی انتہائی صلاحیت 3 ہزار 200 میگاواٹ رہی۔ اس طرح شدید گرمیوں میں ’کے الیکٹرک‘ کو 400 میگاواٹ سے زائد کی قلت کا سامنا تھا۔

اگر اس سال کی بات کی جائے تو طلب بڑھنے کی وجہ سے انتہائی طلب 3 ہزار 800 میگاواٹ سے زائد رہنے کی پیش گوئی کی جارہی ہے، یعنی بجلی کی طلب میں گزشتہ سال کی نسبت 200 میگاواٹ کا اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب ’کے الیکٹرک‘ کا کہنا ہے کہ 3 ہزار 200 میگاواٹ میں مزید 850 میگاواٹ بجلی شامل کی جارہی ہے جس سے بجلی کی مجموعی ترسیل 4 ہزار 50 میگاواٹ ہوجائے گی یعنی طلب کے مقابلے تقریباً 250 میگاواٹ بجلی اضافی ہوگی۔

’کے الیکٹرک‘ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنریشن ایفیشنسی میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔ مالی سال 2020ء میں جنریشن ایفیشنسی 38 فیصد رہی جبکہ سال 2017ء میں یہ 36.7 فیصد تھی۔

’کے الیکٹرک‘ کے طرزِ عمل کی وجہ سے شہر میں بہت زیادہ احتجاج اور سیاسی درجہ حرارت بلند ہوا تو نیپرا کو بھی مداخلت کرنا پڑی اور ساتھ ہی سپریم کورٹ نے بھی ازخود نوٹس لے لیا۔ ہر طرف سے سوالات اٹھے تو ’کے الیکٹرک‘ نے اپنے مستقبل کے منصوبے جاری کردیے۔ ’کے الیکٹرک‘ نے سال 2021ء سے 2023ء تک کے لیے 260 ارب روپے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ جس میں ویلیو چین کو بہتر بنایا جائے گا تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے ریگولیٹر کی منظوری درکار ہے۔

کے الیکٹرک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد نیپرا اور عدالت عظمیٰ بھی حرکت میں آئی
کے الیکٹرک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد نیپرا اور عدالت عظمیٰ بھی حرکت میں آئی

’کے الیکٹرک‘ نے شہر میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے پیداوار، ترسیل اور اپنے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بہتر بنانے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔

بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں اضافہ

’کے الیکٹرک‘ نے سال 2023ء کے ترقیاتی پروگرام میں بجلی کی فراہمی میں تقریباً 2 ہزار میگاواٹ اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ اس میں سے تقریباً 850 میگاواٹ بجلی اس سال شدید گرمیوں کا موسم شروع ہونے سے قبل سسٹم کا حصہ بن جائے گی۔ ’کے الیکٹرک‘ نے بن قاسم پاور سپلائی تھری (بی کیو ایس) میں 65 کروڑ ڈالر کا قرض لیا ہے۔

’کے الیکٹرک’ نے بن قاسم میں نیا پاور پلانٹ لگانے کا کام شروع کیا ہوا ہے۔ یہ پاور پلانٹ مجموعی طور پر 450، 450 میگاواٹ کے 2 یونٹس پر مشتمل ہے۔ پہلا یونٹ مئی میں کمیشن ہونے کی توقع ہے جبکہ دوسرا یونٹ اس سال دسمبر تک کمیشن ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ’کے الیکٹرک‘ اپنے 100 میگاواٹ کے فرنس آئل کے پلانٹ کو بند کردے گی اور یوں ’کے الیکٹرک‘ کی اپنی پیداواری صلاحیت میں 800 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا۔

کے الیکٹرک کا بن قاسم پاور پلانٹ
کے الیکٹرک کا بن قاسم پاور پلانٹ

’کے الیکٹرک‘ کے حکام کا کہنا ہے کہ بن قاسم پاور پلانٹ کے لیے ہائی پریشر پائپ لائن کی تنصیب کا عمل بھی جاری ہے۔

لیکن اس پاور پلانٹ کے ساتھ ایک بہت بڑا ’اگر‘ بھی موجود ہے کیونکہ ’کے الیکٹرک‘ کو آر ایل این جی پلانٹ چلانے کے لیے سوئی سدرن سے گیس کی ضرورت ہوگی اور سوئی سدرن نے طویل عرصے سے واجب الادا گیس کا بل اور اس پر سود نہ ملنے کی صورت میں نیا معاہدہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت توانائی کے حوالے سے بین الوزارتی کمیٹی میں زیرِ بحث ہے۔

این ٹی ڈی سی سے اضافی بجلی

’کے الیکٹرک‘ نے نیشنل گرڈ سے 1100 میگاواٹ بجلی حاصل کرنی ہے، جس میں سے اس سال 450 میگاواٹ بجلی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے حاصل ہوگی جبکہ ’کے الیکٹرک‘ کو اس سے قبل قومی گرڈ سے 700 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔

450 میگاواٹ اضافی بجلی لینے کے لیے جامشورو اور بلدیہ گرڈ کو اپ گریڈ کرنے کا کام جاری ہے۔ ’کے الیکٹرک‘ نے کام کو تیز کرنے کے لیے این ٹی ڈی سی کو آلات فراہم کردیے ہیں اور مئی کے شروع میں اس منصوبے پر عمل درآمد مکمل ہونے کی امید کی جارہی ہے۔

مگر اس میں بھی ایک اہم معاملہ زیر التوا ہے۔ ’کے الیکٹرک‘ نے این ٹی ڈی سی کو ادائیگیاں کرنی ہیں جس کی وجہ سے ابھی تک این ٹی ڈی سی اور ’کے الیکٹرک‘ کے درمیان اضافی بجلی کی فراہمی کا معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ اضافی بجلی ’کے الیکٹرک‘ کے نظام میں آ بھی جائے تو کیا بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری رہے گی؟ کیونکہ گزشتہ سال بارشوں کی وجہ سے شہر میں بجلی کی فراہمی بُری طرح متاثر ہوئی تھی۔

’کے الیکٹرک‘ کا کہنا ہے کہ ڈسٹری بیوشن نظام کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 9 ارب 50 کروڑ روپے کا منصوبہ جاری ہے جو آئندہ 3 سال میں مکمل ہوگا۔ ’کے الیکٹرک‘ کا نیٹ ورک 28 لاکھ صارفین پر مشتمل ہے جن میں 7 لاکھ صنعتی اور کمرشل صارفین ہیں۔ ان صارفین کو بجلی فراہم کرنے کے لیے 1900 فیڈرز ہیں اور یہ تمام نیٹ ورک پرانا ہے۔ کچھ علاقوں کو بارشوں کے پانی سے بچانے کے لیے فیڈرز اور گرڈ اسٹیشن کو اونچا کرنے کا منصوبہ جاری ہے۔

’کے الیکٹرک‘ کا کہنا ہے کہ ڈیفنس، کلفٹن اور صدر کے علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر اپ گریڈیشن کا کام کیا جارہا ہے۔ ’کے الیکٹرک‘ نے کلفٹن کے علاقے مرچنٹ فلیٹس میں پہلے سب اسٹیشن کو اپ گریڈ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ انتہائی متاثرہ 38 فیڈرز پر بھی کام جاری ہے۔

مگر اپ گریڈیشن کا منصوبہ 3 سال میں مکمل ہونا ہے اور اگر اس سال بھی گزشتہ سال کی طرح بارشیں ہوئیں، جس کا امکان موجود ہے، تو شہری ایک بار پھر کئی دن تک بجلی سے محروم رہ سکتے ہیں۔

ٹرانسمیشن نظام میں بہتری

ٹرانسمیشن لائنوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے ٹی پی 1000 منصوبے پر کام جاری ہے۔ اس کے 500 کلو واٹ اور 220 کلو واٹ پر کام ہورہا ہے جس سے ’کے الیکٹرک‘ 1400 میگاواٹ اضافی بجلی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی تاہم یہ منصوبہ ابھی منظوری کا منتظر ہے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں
کے الیکٹرک کی جانب سے ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں

’کے الیکٹرک‘ کی دستاویزات کے مطابق اس نے اپنے طور پر بجلی کی پیداوار، ترسیل اور ڈسٹری بیوشن کے نظام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا عمل شروع کیا ہوا ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ گرمیوں اور مون سون میں ’کے الیکٹرک‘ اپنے نظام کو کس قدر بحال رکھ پاتی ہے۔ گرمی میں پارہ چڑھنے اور بارش کی پہلی بوند گرنے سے یہ نظام کھڑا رہ پائے گا یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔