بہاولنگر: اغوا برائے تاوان کیس میں 6 پولیس اہلکار برطرف

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2021
ایس پی (انویسٹی گیشن) فاروق انور نے ان اہلکاروں کے خلاف الزامات کی انکوئری کی تھی — فائل فوٹو / پنجاب پولیس فیس بک
ایس پی (انویسٹی گیشن) فاروق انور نے ان اہلکاروں کے خلاف الزامات کی انکوئری کی تھی — فائل فوٹو / پنجاب پولیس فیس بک

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) ظفر بزدار نے دو شہریوں کے اغوا برائے تاوان میں ملوث بی ڈویژن پولیس کے 6 اہلکاروں کو برطرف کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطرف ہونے والے اہلکاروں میں بی ڈویژن کے ایس ایچ او مطلوب احمد، تفتیشی افسر سب انسپکٹر جواد اجمل اور کانسٹیبلز مظفر احمد، محمد ساجد، عاقب علی اور احسن قادر شامل ہیں۔

ڈی پی او کے مطابق ایس پی (انویسٹی گیشن) فاروق انور نے ان اہلکاروں کے خلاف الزامات کی انکوئری کی تھی اور انہیں اپنی رپورٹ میں قصوروار ٹھہرایا تھا۔

اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس (انکوائریز) نے بہاولنگر بی ڈویژن کے ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور سب انسپکٹر سمیت 4 اہلکاروں کو پاکپتن کے رنگ شاہ تھانے میں درج اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فرشتہ قتل کیس: سابق ایس ایچ او سمیت 4 پولیس اہلکار برطرف

انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) پنجاب نے 3 اپریل کو ڈان میں شائع رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے اے آئی جی (انکوائریز) عبادت نثار کو معاملے کی انکوائری کی ہدایت کی تھی۔

خط میں ایس ڈی پی او عارف والا، رنگ شاہ کے ایس ایچ او رانا تنویر، تفتیشی افسر منصب علی، شکایت کنندہ علی زمان، متاثرین محمد منظور اور خورشید قمر، بی ڈویژن کے ایس ایچ او مطلوم احمد، سب انسپکٹر جواد اجمل اور کانسٹیبلز ساجد، عاقب اور مظفر کو 8 اپریل کو انکوائری کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق متاثرین اور پاکپتن پولیس حکام کے بیانات ریکارڈ کیے جانے کے بعد اے آئی جی نے بی ڈویژن کے ایس ایچ او کو قصوروار قرار دیا اور تفتیشی افسر کو انہیں کیس کے مقدمے میں نامزد کرنے کی ہدایت کی۔

اس کے علاوہ اے آئی جی نے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں دو ماہ کی تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا اور پاکپتن پولیس کو انہیں فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ انکوئری میں بی ڈویژن پولیس کا کوئی اہلکار پیش نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: اسامہ ستی کا قتل: واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی کے پانچوں اہلکار برطرف

تفتیشی افسر اے ایس آئی منصب علی نے کہا کہ اے آئی جی کی ہدایت کے مطابق بی ڈویژن کے ایس ایچ او کو کیس میں نامزد کیا جائے گا جبکہ ملزم اہلکاروں نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی تھی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو روز قبل ڈی پی او بہاولنگر ظفر بزدار نے انکوائری کے بعد بی ڈویژن کے ایس ایچ اوو مطلوب احمد کو معطل کردیا تھا۔

دیگر 5 پولیس اہلکاروں کو بھی ایس پی (انویسٹی گیشن) بہاولنگر فاروق احمد نے انکوائری کے بعد قصوروار ٹھہرایا تھا۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں