امریکی ریاست انڈیانا میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 8 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2021
فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے— فوٹو: اے ایف پی
فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے— فوٹو: اے ایف پی

امریکا میں مشہور کوریئر کمپنی کے دفتر کے احاطے میں فائرنگ کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہو گئے اور بعد میں حملہ آور نے خودکشی کرلی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی ریاست انڈیانا کے دارالحکومت میں پولیس نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشہور کوریئر کمپنی 'فیڈ ایکس' کے دفتر کے احاطے میں فائرنگ کا واقعہ ہوا جس میں 8 افراد ہلاک ہو گئے۔

مزید پڑھیں: امریکی ریاست کولوراڈو میں فائرنگ، پولیس افسر سمیت 10 افراد ہلاک

پولیس کے ترجمان گینے کُک نے کہا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے متعدد افراد کو ہستال منتقل کردیا گیا جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات یہی ہیں کہ مبینہ حملہ آور نے خود کو گولی مار لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے چار افراد کو گولیاں لگیں جبکہ دیگر 3 افراد کو معمولی چوٹیں آئیں اور ان سب کو ایمبولینس میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

کوریئر کمپنی کے قریب ہی ایک پلانٹ پر کام کرنے والے شخص نے رپورٹرز کو بتایا کہ اس نے ایک شخص کو مشین گن نما اسلحہ لے جاتے ہوئے دیکھا تھا اور بعد میں دس سے زیادہ گولیاں چلنے کی آواز سنی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں تین مساج پارلرز میں فائرنگ، خواتین سمیت 8 افراد ہلاک

جیرمیا ملر نامی عینی شاہد نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو خود کار رائفل لے جاتے ہوئے دیکھا اور وہ سرعام فائرنگ کررہا تھا، میں ڈر کے مارے فوری چھپ گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے دوست کی والدہ آئیں اور انہوں نے ہم سب کو فوراً گاڑی میں چھپ جانے کا مشورہ دیا، اس کے بعد ہم اپنے دوستوں اور کام پر آنے والے ساتھیوں کو گھر سے نہ نکلنے کا مشورہ دیتے رہے۔

مسلح شخص کی شناخت نہیں ہو سکی اور یہ مانا جا رہا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد اس نے بالآخر خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔

پولیس ترجمان جینے کُک نے بھی حملہ آور کی خوکشی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کر کے عوام کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔

مزید پڑھیں: امریکا: 'حادثاتی فائرنگ' میں سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت پر دوسرے روز بھی مظاہرے

کُک نے کہا کہ اب عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور پولیس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات اکٹھا کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 8 افراد گولیوں سے شدید زخمی ہوئے اور پھر دم توڑ گئے جبکہ اس کے علاوہ چند افراد زخمی بھی ہوئے۔

کوریئر کمپنی فیڈ ایکس کے ترجمان نے واقعے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ واقعہ ان کی کمپنی کے دفتر کے احاطے میں پیش آیا۔

انہوں نے واقعے کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم انڈیانا پولیس ایئرپورٹ کے قریب اپنی کمپنی میں فائرنگ کے واقعے سے آگاہ ہیں اور حکام سے مکمل تعاون کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: نائٹ کلب میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک، 8 زخمی

ان کا کہنا تھا کہ تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے اور ہم اس واقعے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈ ایکس کمپنی ایک بڑی تباہی سے بچ گئی کیونکہ فیڈ ایکس کے اس پلانٹ پر 4 ہزار سے زائد عملہ کام کرتا ہے اور فائرنگ کے وقت ایک بڑی تعداد دفتر میں موجود تھی۔

کمپنی کے ایک ملازم ٹموتھی بوئلیٹ نے کہا کہ انہوں نے فائرنگ کی آوازم کے بعد 6 سے 7 پولیس کی گاڑیوں کو آتے ہوئے دیکھا اور پھر زمین پر ایک لاش پڑی ہوئی نظر آئی۔

ایک ایشیائی نژاد باشندے نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ جب فائرنگ ہوئی تو ان کی بھتیجی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکا: نائٹ پارٹی میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک، 14 زخمی

پرمیندر سنگھ نے کہا کہ ایک فائر ان کی بھتیجی کے الٹے بازو میں لگا جس سے وہ زخمی ہو گئی اور اس وقت ہسپتال میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں حالیہ عرصے میں شوٹنگ کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں جنوبی کیلی فورنیا میں ایک دفتر کی عمارت میں فائرنگ سے بچے سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

22 مارچ کو کولوراڈو میں ایک سپر اسٹور میں فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد کی موت واقع ہو گئی تھی۔

کولوراڈو میں فائرنگ سے چند دن قبل ہی جیارجیا میں چھ ایشیائی نژاد خواتین سمیت 8 افراد کا قتل کردیا گیا تھا۔

یہ رواں سال انڈیایا میں رونما ہونے والا فائرنگ کا تیسرا واقعہ ہے جہاں اس سے قبل جنوری میں ایک حاملہ خاتون سمیت 5 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ مارچ میں ایک بچے سمیت چار افراد کی موت ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: شاپنگ مال میں فائرنگ سے 20 افراد ہلاک، حملہ آور زیرحراست

امریکا میں ہر سال فائرنگ کے واقعات میں 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوتے ہیں لیکن امریکا میں اس سلسلے میں قانون سازی سیاست کی نظر ہوتی رہی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے فائرنگ سے ہونے والے واقعات کی روک تھام کے لیے رواں ماہ چھ اہم اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں