پاک-بھارت مذاکرات میں تیسرے فریق کو ثالث کا کردار ادا کرنا ہو گا، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2021
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو مناسب ماحول پیدا کرنا ہوگا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر/دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو مناسب ماحول پیدا کرنا ہوگا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر/دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں تیسرے فریق کی ثالثی درست ہوگی اور بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو مناسب ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ترک صدر نے وزیر اعظم کو فون کیا جس میں افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار پر بات چیت ہوئی اور ترک صدر نے افغان طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ کی بھارت کے پاکستان کو ایک ناکام حملے سے منسلک کرنے پر تنقید

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان 13 اپریل کو ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور امریکی وزیر خارجہ نے خطے اور افغانستان میں امن کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے جرمن پارلیمنٹ کے صدر کو کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ نے جرمنی کا دورہ کر کے اپنے ہم منصب سے دوطرفہ تعلقات پر مذاکرات کرنے کے ساتھ ساتھ پاک بھارت تعلقات، جموں و کشمیر، افغان امن عمل سمیت دوطرفہ امور پر بھی گفتگو کی جبکہ وزیر خارجہ نے جرمن پارلیمنٹ کے صدر سے بھی ملاقات کی۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے اور قابض فوج نے مزید سات کشمیریوں کو شہید کر دیا جس کی پاکستان مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن یادیو کیس: حکومت کو دفتر خارجہ کے ذریعے بھارتی حکومت سے رابطے کا حکم

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرے کو 600 سے زائد دن ہو گئے ہیں، کووڈ-19 کے باوجود جیلوں میں کشمیریوں کو برے حالات میں رکھا گیا ہے لہٰذا عالمی برادری بھارت کو مجبور کرے کہ انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنائے۔

بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ممالک کے درمیان رابطے جنگوں میں بھی رہتے ہیں اور پاکستان کبھی بھارت سے مذاکرات سے نہیں ہچکچایا، ہم جموں و کشمیر سمیت تمام امور پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو جموں و کشمیر کے مسئلے کو عالمی قوانین کے مطابق حل کے لیے مثبت بات چیت کرنا ہو گی اور بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو مناسب ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں تیسرے فریق کی ثالثی درست ہوگی اور جب بھی بات چیت ہوئی تو اس کا مرکزی موضوع جموں و کشمیر تنازع کا حل ہو گا۔

ملک میں جاری حالیہ احتجاج اور مظاہروں کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ تمام سفارتکاروں کی سیکیورٹی یقینی بنانا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر خارجہ سے کوئی ملاقات طے نہیں، شاہ محمود قریشی

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے ویکسین حاصل کرنے کے لیے براہ راست رابطہ نہیں کیا اور پاکستان کوویکس پروگرام کے ذریعے ویکسین لے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری امن کی خواہش بھارت کی طرف سے بالاکوٹ مس ایڈونچر کے بعد پائیلٹ کی واپسی سے ظاہر ہے اور ہم خطے میں تنازعات کے خاتمے کی خواہش رکھتے ہیں البتہ کسی بھی مس ایڈونچر کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں