مظفر گڑھ: جعلی پیرنیوں کے تشدد سے 3 سالہ بچی کی موت

18 اپريل 2021
بچی کی والد کی مدعیت میں جعلی پیرنیوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے—فائل فوٹو: شٹراسٹاک
بچی کی والد کی مدعیت میں جعلی پیرنیوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے—فائل فوٹو: شٹراسٹاک

پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے علاقے شاہ جمال میں جعلی پیرنیوں نے مبینہ طور پر جن نکالنے کے بہانے 3 سالہ معصوم بچی کی جان لے لی۔

مظفر گھڑھ کے تھانہ شاہ جمال کی حدود میں پیش آئے واقعے میں جعلی پیرنیوں نے 3 سالہ معصوم بچی سے جن نکالنے کے نام پر اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

تاہم عمیرا بی بی نامی 3 سالہ بچی، زلیخاں اور رخسانہ نامی جعلی پیرنیوں کے تشدد کے باعث دم توڑ گئیں۔

مزید پڑھیں: جعلی پیر نے علاج کیلئے لڑکے کو دہکتے کوئلوں پر پھینک دیا

تھانہ شاہ جمال کی پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں پیرنیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

علاوہ ازیں پولیس کے مطابق 3 سالہ بچی کے قتل میں ملوث دونوں جعلی پیرنیوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد نے بتایا کہ وہ 12 اپریل کو مزدوری کے سلسلے میں سمن آباد گئے تھے کہ ان کی 3 سالہ بیٹی کی طبیعت خراب ہوگئی۔

بچی کے والد کے مطابق ان کی اہلیہ، بچی کو دم کرانے کے لیے پیرنیوں کے پاس لے گئیں جنہوں نے کہا کہ عمیرا بی بی پر جن کا سایہ ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق جعلی پیرنیوں نے دم کے دوران 3 سالہ بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا، اسے ٹانگوں سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ دے مارا جس کے نتیجے میں بچی شدید زخمی ہوئی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

تاہم بچی کے جاں بحق ہونے کے بعد جعلی پیرنیاں اس کی لاش دینے سے انکاری ہوگئی تھیں اور اس کی والدہ کو ڈرایا گیا کہ بچی کی لاش کو دیکھا یا اس کا جنازہ کروایا تو جنات ان کے خاندان کو تباہ کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بیٹے کی خواہش لیے جعلی پیر کے پاس جانے والی خاتون ریپ کا شکار ہوگئی

انہوں نے مزید کہا کہ جعلی پیرنیوں کے ڈرانے پر گھر والوں نے رات 12 بجے بچی کی لاش لے کر اس کو دفنایا۔

بچی کے والدین نے درخواست کی کہ جعلی پیرنیوں نے جن نکالنے کے بہانے ان کی بیٹی پر تشدد کرکے اور اسے جان سے مار کر غیر قانونی اقدام کیا ہے لہذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی ضلع مظفر گڑھ میں ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، گزشتہ برس جولائی میں ایک جعلی پیر کی سفاکیت نے ایک 14 سالہ بچے کی جان لے لی تھی۔

ضلع مظفر گھڑھ کے تھانہ محمود کوٹ کی حدود میں پیش آئے واقعے میں ایک جعلی پیر نے مبینہ طور پر علاج کے بہانے لڑکے کو دہکتے کوئلوں پر پھینک دیا تھا، جس سے وہ جھلس گیا تھا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں