جعلی پیر نے علاج کیلئے لڑکے کو دہکتے کوئلوں پر پھینک دیا

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

لڑکے کا چہرہ جھلس گیا تھا—فوٹو: محمد علی
لڑکے کا چہرہ جھلس گیا تھا—فوٹو: محمد علی

پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں ایک جعلی پیر کی سفاکیت نے ایک 14 سالہ بچے کی جان لے لی۔

ضلع مظفر گھڑ کے تھانہ محمود کوٹ کی حدود میں پیش آئے واقعے میں ایک جعلی پیر نے مبینہ طور پر علاج کے بہانے لڑکے کو دہکتے کوئلوں پر پھینک دیا، جس سے وہ جھلس گیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

علاوہ ازیں پولیس کے مطابق لڑکے کے والد مختار احمد کی مدعیت میں دفعہ 302 اور 34 کے تحت واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی۔

مزید پڑھیں: بیٹے کی خواہش لیے جعلی پیر کے پاس جانے والی خاتون ریپ کا شکار ہوگئی

ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا گیا کہ ان کا 14 سالہ بیٹا محمد ساجد گزشتہ 20 سے 25 روز سے بیمار تھا جس کا علاج کرایا تاہم اس کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور پھر دوستوں کے مشورے پر ایک پیر عبدالغفار کے پاس بیٹے کو دم درود اور تعویزات کے لیے لے کر گئے۔

انہوں نے ایف آئی آر میں بتایا کہ پیر کی جانب سے ان کے بیٹے کی طبیعت کو دیکھ کر دم درود کیا گیا اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ ہمارے بیٹے پر جنات کا سایہ ہے۔

لڑکے کے والد نے ایف آئی آر میں یہ مؤقف اپنایا کہ پیر کی جانب سے ان کے بیٹے پر دم درود کے دوران اپنی مدد کے لیے ایک شخص کو بھی بلایا گیا اور یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعد ازاں پیر کی جانب سے دہکتے کوئلوں کا ایک تھال بھی منگوایا گیا اور ہمیں یہ کہا گیا کہ اسے حرمل کا دھواں دینا ہے، تاہم اس دوران پیر کا ساتھی ان کے بیٹے محمد ساجد کو ایک علیحدہ کمرے میں لے گیا اور وہاں اسے دھواں دیتا رہا۔

ایف آئی آر کے مطابق پیر کی مدد کے لیے آنے والا نامعلوم شخص ان کے بیٹے محمد ساجد کو گردن سے پکڑ کر اس کا منہ دہکتے کوئلوں کے تھال میں ڈالتا رہا اور ایک گھنٹے بعد کمرے سے باہر لے کر آیا جس سے ان کے بیٹے کا چہرہ جھلس گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب پیر عبدالغفار سے ان کے بیٹے کے چہرہ جھلس جانے کی وجہ پوچھی تو یہ کہا گیا کہ بیٹے پر جنات کا سایہ ہے اور یہ 2 سے 3 گھنٹے میں ٹھیک ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان: ’جعلی پیر‘ کے ہاتھوں 2 خواتین کا ریپ

تاہم ایف آئی آر میں والد نے بتایا کہ بعد ازاں وہ اپنے بیٹے کو گھر لے آئے جہاں ان کا بیٹا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

مذکورہ ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا گیا کہ سید عبدالغفار شاہ جعلی پیر ہے جو لوگوں کو لوٹ کر ان کی جانوں سے کھیل رہا ہے جبکہ ان کے بیٹے کی موت پیر اور اس کے ساتھ موجود نامعلوم شخص کی وجہ سے ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی پیر مجھے دھمکاتا بھی رہا کہ اگر کسی کو بتایا تو یہ جن تمہارے گھر بھیج دوں گا، لہذٰا میری درخواست ہے کہ ان دونوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔