بحریہ ٹاؤن میں فائرنگ، گڈاپ کے اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ایچ او کو ہٹا دیا گیا

08 مئ 2021
وزیراعلیٰ سندھ نے دونوں افسران کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
وزیراعلیٰ سندھ نے دونوں افسران کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے نجی محافظوں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہونے کے بعد گڈاپ ٹاؤن کے اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ نے علاقے میں امن و امان برقرار نہ رکھنے پر گڈاپ ٹاؤن کے ایس ایچ او کو بھی ہٹا دیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: بحریہ ٹاؤن کے گارڈز کی ملیر میں مبینہ فائرنگ سے شہری زخمی

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ ہم کسی پر ظلم نہیں ہونے دیں گے اور مقامی لوگوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے بھی مقامی رہائشیوں اور بحریہ ٹاؤن کے حکام کے مابین پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔

اس سے قبل آج صوبائی وزیر اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم اور رکن صوبائی اسمبلی سلیم بلوچ نے کل کے واقعے میں زخمی ہونے افراد سے ملاقات کے لیے جناح ہسپتال کا دورہ کیا۔

کریم نے کہا کہ ہم کسی کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کریں گے اور متاثرہ افراد سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن نے لیز کے حقوق کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

بعدازاں رکن صوبائی اسمبلی ساجد جوکھیو کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رہنما بھی بلڈوزنگ سے متاثرہ لوگوں سے ملنے گئے، انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ واقعے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم علاقے کے رہائشیوں کے ساتھ ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ ڈپٹی کمشنر اور محصولات کے عہدیداروں سے تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کراچی میں فائرنگ

ایک روز قبل سندھ کے مختلف حقوق کے لیے قائم اتحاد کے ایک کارکن اور کاٹھور کے علاقے کے رہائشی عبدالحفیظ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ جمعہ کی صبح کمال خان جوکیو گوٹھ میں پولیس کے ساتھ مل کر بحریہ ٹاؤن کے محافظوں نے فصلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن مقامی لوگوں نے مزاحمت کر کے انہیں اس عمل سے تروکنے کی کوشش کی۔

عبدالحفیظ کے مطابق مسلح نجی محافظ بعد میں جمعہ کی نماز کے بعد وردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس ہلکاروں کے ہمراہ دوبارہ آئے اور بلڈوزر سے فصلوں کو تباہ کرنا شروع کردیا۔

تقریبا 100 رہائشیوں نے مزاحمت کی اور جیسے ہی مقامی لوگوں نے بحریہ ٹاؤن کے اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کیا، محافظوں نے دیہاتیوں پر فائرنگ کردی، اس موقع پر کم از کم ایک دیہاتی شوکت خاصخیلی گولی لگنے زخمی ہو گئے جبکہ ایک اور شخص معمولی زخمی ہوا۔

حفیظ نے بتایا کہ محافظوں نے مبینہ طور پر زخمی دیہاتی اور 3-4 دیگر مقامی افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔

مزید پڑھیں: ملک ریاض اور ڈیلنگ کا فن

حفیظ نے بعد میں ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ خاصخیلی کو ہسپتال لے جانے کے بجائے بحریہ ٹاؤن کے اہلکار زخمی حالت میں مقامی پولیس اسٹیشن لے گئے تاکہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے، اس کے بعد مقامی افراد تھانے پہنچے اور خاصخیلی کو ساتھ لے کر ہسپتال منتقل کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ کاٹھور کے قریب بحریہ ٹاؤن کے نئے رہائشی منصوبوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے قریب 50 سے 60 ایکڑ زرعی اراضی کو مسمار کیا جارہا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں حفیظ نے کہا کہ اسلحے سے لیس بحریہ ٹاؤن کے ملازمین زمین کے مالک سے کہتے ہیں کہ کام نہیں رکے گا، کاغذات دکھاؤ، یہ زمین انہیں سپریم کورٹ نے دی ہے لیکن جب ان سے دستاویزات دکھانے کو کہا جاتا ہے تو انہیں چپ لگ جاتی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں