کے-ٹو بیس کیمپ کے علاقے میں انٹرنیٹ، موبائل فون کوریج فراہم کردی گئی

اپ ڈیٹ 18 مئ 2021
4 جی بی ٹی ایس کو کے 2 بیس کیمپ کے کونکورڈیا علاقے میں نصب کیا گیا—فائل فوٹو: عماد بروہی
4 جی بی ٹی ایس کو کے 2 بیس کیمپ کے کونکورڈیا علاقے میں نصب کیا گیا—فائل فوٹو: عماد بروہی

اسلام آباد: گلگت بلتستان میں حال ہی میں نصب کردہ 4 جی بیس ٹرانسیور اسٹیشن فعال ہوگیا تاکہ کے-ٹو بیس کیمپ کے علاقے میں ٹیلی کمیونکیشن کو بہتر بنایا جاسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس اسٹیشن کے فعال ہونے سے علاقے میں موبائل فون کوریج اور انٹرنیٹ تک رسائی کوہ پیماؤں اور ٹریکنگ گروپس کے لیے ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ رابطوں میں رہنے اور کسی ہنگامی صورتحال میں مدد حاصل کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

اس کے علاوہ اس سے موسم کی نگرانی بہتر اور ملک بھر میں سیاحت کے فروغ کے حکومتی وژن کے مطابق ایڈوینچر اور سیاحت بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گوجال: جہاں سے پاکستان 'شروع' ہوتا ہے

سیاحت کی صلاحیتوں سے مالا مال اس خطے میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ٹیلی کام آپریٹرز ٹیلی کمیونکیشن بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

4 جی، بی ٹی ایس کو کے-ٹو بیس کیمپ کے کونکورڈیا علاقے میں نصب کیا گیا۔

اس سائٹ کو متوفی کوہ پیما علی سد پارہ کی یاد میں ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جس کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے حالیہ دورے کے دوران کیا۔

مزید پڑھیں: کے-ٹو مہم جوئی کے دوران لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ کی موت کی تصدیق

اسپیشل کمیونکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے بیس کیمپ میں کمیونکیشن سہولیات بہتر بنانے کے لیے اسے فعال بنایا ہے۔

ایس سی او کو 1976 میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام سروس کو آپریٹ اور برقرار رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جو وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والا ایک سرکاری ادارہ ہے۔


یہ خبر 18 مئی 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

ضرور پڑھیں

رُوداد ایک مقدمے کی

رُوداد ایک مقدمے کی

وہ سب کچھ بیج کر کینیڈا چلے گئے جہاں وہ اپنی نئی بیوی کے ساتھ مل کر ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں اور کوئی بھی بات نہیں بھولتے۔

تبصرے (0) بند ہیں