آئی ایم ایف کی رضامندی سے حکومت نے بلند معاشی اہداف مقرر کردیے

اپ ڈیٹ 28 مئ 2021
آئندہ مالی سال میں  افراطِ زر کے 8 فیصد کے بجائے 8.2 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
آئندہ مالی سال میں افراطِ زر کے 8 فیصد کے بجائے 8.2 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: بظاہر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے سمجھوتے کے ساتھ حکومت معاشی ٹیم کی تبدیلی اور حوصلہ افزا میکرواکنامک اشاریوں کے بعد آئندہ مالی سال کے لیے افراطِ زر کی شرح، معاشی نمو اور مالی اور بنیادی خسارے کے اہداف مقرر کررہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ایک حکومت ٹیم نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4.2 فیصد کی بجائے 5 فیصد مقرر کی گئی ہے جس کی 13 اپریل کو وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دے دی ہے۔

ساتھ ہی افراطِ زر کے 8 فیصد کے بجائے 8.2 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، اسی طرح بجٹ کے مجموعی خسارے کی حد جی ڈی پی کے 6 فیصد سے بڑھا کر 6.3 فیصد کردی گئی ہے جبکہ بنیادی خسارہ 0.1 ایک فیصد کے بجائے 0.6 فیصد رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.94 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ایک ٹیم کی جانب سے نظرِ ثانی شدہ میڈیم ٹرم بجٹ اسٹریٹیجی پیپر (بی ایس پی) پیش کیا گیا۔

پیپر کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام گزشتہ برس 8 کھرب روپے سے بڑھا کر 9 کھرب روپے کردیا گیا ہے۔

حکومتی اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی نے معاشی تخمینوں کے بارے میں سوالات کیے اور کہا کہ اسی طرح کے دلائل اور مقاصد مختلف حکومتوں کے سامنے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔

یہ بات ایک پریزینٹیشن سے بھی ظاہر ہوئی جس میں بجٹ میں افراطِ زر کا تخمینہ 6.5 فیصد لگایا گیا تھا جو 9 فیصد تک بڑھ گئی تھی اور بجٹ خسارے کا تخمینہ 7 فیصد تھا جو گزشتہ برس 7.2 فیصد رہا۔

مزید پڑھیں: رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد رہے گی، حماد اظہر

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ و ریونیو نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے بجٹ اسٹریٹجی پیپیر کی منظوری کے بعد سے کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں جس میں جی ڈی پی کی 3.94 فیصد حوصلہ افزا شرح نمو بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے کفایت شعاری کی ضرورت ہے توسیع کا عمل بھی حکومت کے زیر غور ہے، حکومت موجودہ بجٹ کے سلسلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے کورونا وائرس کی تیسری لہر کے تناظر میں مالی توسیع کے لیے کچھ رعایت کی درخواست کی گئی ہے تا کہ اشیائے خورونوش اور توانائی کی مہنگائی کو روکنے میں مدد دینے کے اقدامات کیے جاسکیں۔

بی ایس پی میں آئندہ مالی سال میں جی ڈی پی کے نظرِ ثانی شدہ حجم 54 ہزار 341 ارب روپے کی بنیاد پر سرکاری قرضوں کے جی ڈی پی کی شرح کے 81.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ یہ حجم 52 ہزار 462 ارب روپے پر 84.3 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کے 10 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ 77 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

اسی طرح بلند درآمدی ضروریات کے پیش نظر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 ارب 80 کروڑ ڈالر رہنے ا امکان ہے جو پہلے 4 ارب 70 کروڑ رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

سیکریٹری خزانہ کامران افضل نے کہا کہ گردشی قرضوں کو کلیئر کرنے کے لیے شعبہ توانائی کی سبسڈیز مزید ٹارگٹڈ ہوں گی اور پاور ڈویژن کے حقیقی تخمینے کے مطابق اسے 5 سوا ارب روپے تک بڑھا دیا جائے گا۔

علاوہ ازیں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے واجبات کی ادائیگی سے 4 کھرب روپے جبکہ بقیہ 4 کھرب روپے حکومت اور اس کے اداروں کے درمیان نان کیش ایڈجسٹمنٹس سے گردشی قرض کو کم کیا جائے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں