کورونا وائرس کی قسم ایلفا بہت زیادہ طاقتور کیسے بن گئی؟

08 جون 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دسمبر 2020 میں برطانوی ماہرین نے کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کی دریافت کے بارے میں بتایا تھا جو برطانیہ میں بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔

اب اس قسم کو عالمی ادارہ صحت نے ایلفا کا نام دیا ہے اور جس ملک تک پہنچی ہے، وہاں دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ عام ہوچکی ہے۔

اس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے سائنسدان حیران تھے کہ آخر اس نے دنیا کو کیسے فتح کرلیا۔

اب ایک نئی تحقیق اس کی کامیابی کے راز کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایلفا قسم جسم کے دفاعی نظام کے ابتدائی دفاع کو ناکارہ کردیتی ہے جس سکے باعث وہ بہت تیزی سے خلیات میں اپنی نقول بنانے لگتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے ہیں۔

ایلفا قسم میں 233 میوٹیشنز ہوئی ہیں جو اسے دیگر کورونا وائرس سے الگ کرتی ہیں اور برطانیہ میں اس کے پھیلاؤ کے بعد جینیاتی جانچ پڑتال سے جاننے کی کوشش کی گئی کہ یہ دیگر اقسام کے مقابلے میں تیزی سے کیسے پھیلتی ہے۔

زیادہ تر ماہرین نے 9 میوٹیشنز پر توجہ مرکوز کی گئی تھی جو اسپائیک پروٹین میں ہوئی تھیں، ان میں سے ایک میوٹیشن کورونا وائرس کو چھپا کر خلیات پر حملہ آور ہونے میں مدد کرتی ہے۔

مگر دیگر سائنسدانوں نے اس پر توجہ مرکوز کی کہ ایلفا قسم سے جسم کے مدافعتی ردعمل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس مققصد کے لیے لندن کالج یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہرین نے انسانی پھیپھڑوں کے خلیات میں کورونا وائرسز کو اگایا اور پھر ایلفا سے متاثر خلیات کا موازنہ کورونا کی دیگر ابتدائی اقسام سے کیا گیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ایلفا سے متاثر خلیات میں انٹرفیرون نامی پروٹین کی مقدار ڈرامائی حد تک گھٹ گئی جو مدافعتی دفاع کو متحرک کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ ان خلیات میں انٹرفیرون سے متحرک ہونے والے دفاعی جینز دیگر اقسام سے متاثر خلیات کے مقابلے میں غیرمتحرک تھے۔

محققین نے بتایا کہ اس طرح کورونا کی یہ قسم مدافعتی نظام کے اہم ترین خطرے کی گھنٹی کو بجنے نہیں دیتی، آسان الفاظ میں خود کو نادیدہ بنالیتی ہے۔

محقین نے پھر یہ دیکھا کہ یہ قسم کس طرح خود کو نادیدہ رکھنے میں کامیابی حاصل کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے متاثرہ خلیات میں کورونا وائرس کی نقول کا جائزہ لیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ایلفا سے متاثر خلیات میں دیگر اقسام کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ نقول بن جاتی ہیں اور ایسا ایک جین Orf9b کی وجہ سے ہوا۔

اس سے قبل ان ماہرین نے ایک تحقیق میں دریافت کیا تھا کہ یہ جین ایسا وائرل پروٹین بناتا ہے جو ایک انسانی پروٹین ٹام 70 میں داخل ہوجاتا ہے، یہ پروٹین کسی حملہ آور وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے انٹرفیرون کے اخراج کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔

تمام تر شواہد کو اکٹھا کرنے کے بعد محققین کا کہنا تھا کہ ایلفا قسم میں ایک ایسی میوٹیشن موجود ہے وہ Orf9b پروٹینز کی بہت زیادہ مقدار بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔

یہ پروٹین انسانی ٹام 70 پروٹینز میں داخل ہوکر انٹرفیرونز بننے اور مدافعتی ردعمل میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

اس طرح وائرس مدافعتی حملے سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے نقول بنانے کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔

ایک متاثرہ خلیہ بتدریج Orf9b پروٹینز کو ٹام 70 سے نکال باہر کرتا ہے اور بیماری کے حملے کے 12 گھنٹے بعد الارم سسٹم پھر کام کرنے لگتا ہے، مگر اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

محققین کے خیال میں جب مدافعتی ردعمل تاخیر سے حرکت میں آتا ہے تو ایلفا قسم سے متاثر افراد میں دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل حرکت میں آتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف کھانسی سے یہ وائرس منہ سے خارج ہونے لگتا ہے بلکہ ناک سے بھی نکلتا ہے اور اس طرح وہ زیادہ بہتر طریقے سے پھیلنے لگتا ہے۔

اب محقققین نے جنوبی افریقہ میں دریافت قسم بیٹا اور بھارت میں شناخت ہونے والی قسم ڈیلٹا پر بھی اس طرح کا کام کررہے ہیں اور ابتدائی نتائج نے انہیں حیران کردیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ بیٹا اور ڈیلٹا بھی متاثرہ خلیات میں انٹرفیرونز کی سطح کو گھٹاتے ہیں مگر ان میں Orf9b پروٹینز سے خلیات کو ڈبونے کے آثار ہیں ملتے۔

محققین کے خیال میں ان دونوں اقسام نے خودمختار طور پر مدافعتی نظام کو دھوکا دینے کے طریقوں کو ڈھونڈ لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں مختلف انداز سے مدافعتی ردعمل کو دھوکا دیتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں