تاجر برادری نے بجٹ کو عوام کے لیے خوش آئند قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 11 جون 2021
تاجر برادری نے کہا کہ سیلف اسسمنٹ اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فائدہ ہو گا— فائل فوٹو: ڈان السٹریشن
تاجر برادری نے کہا کہ سیلف اسسمنٹ اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فائدہ ہو گا— فائل فوٹو: ڈان السٹریشن

تاجر برادری نے بجٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں عام آدمی اور کاروباری کو ریلیف اور مراعات فراہم کی گئی ہیں جس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر کے عہدیدار اور چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عام آدمی اور صنعت کو مراعات دی ہیں جبکہ بیوروکریسی کی صوابدید کم کی ہے۔

مزید پڑھیں: مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش، پینشن میں 10 فیصد اضافہ، کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے مقرر

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کی بات کررہے ہیں تو یہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر یہ ایسا سازگار ماحول دیں جس میں لوگ رضاکارانہ بنیادوں پر ٹیکس کے دائرہ کار میں آنا چاہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کا اقدام بہت اچھا ہے کیونکہ یہ ہمارے ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے، میں بیرون ملک جاتا ہوں تو مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ اس ملک میں 22 کروڑ لوگ ہیں اور ٹیکس دینے والے 22 لاکھ لوگ ہیں جس میں سے 12 لاکھ تنخواہ دار طبقہ ہے اور باقی صرف 10 لاکھ رہ جاتے ہیں۔

چیمبر آف کامرس کے عہدیدار نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریونیو ہدف 24 فیصد بڑھانا سمجھ نہیں آتا، ریونیو کلیکشن 24 فیصد سے زائد مانگ رہے ہیں، 12سو 30 ارب روپے سے زائد کہاں سے آئیں گے، کل پتا چلے گا کہ ریونیو کس چیز سے آئے گا۔

بجٹ تجاویز پر پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ سیلف اسسمنٹ اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فائدہ ہو گا لیکن سیلف اسسمنٹ اسکیم کا دورانیہ پانچ سال کرنے کا اعلان کرتے تو اعتماد مزید بڑھتا۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ سے سب خوش ہوں گے، وزیر اعظم عمران خان

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سرپلس بجلی ہے مگر صارف کو پہنچانے کا انتظام نہیں ہے البتہ بجٹ میں ڈائریکشن دی گئی ہے۔

زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ یہ انقلابی بجٹ نہیں مگر ابھی تک بیلنس بجٹ آیا، عام آدمی کے لیے ریلیف ہے جبکہ ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے بہت کچھ رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف قانون سازی درست فیصلہ نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے کہ لوگ ٹیکس نیٹ میں کیوں نہیں، کل آبادی کا 5 فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں، کیا 95 فیصد آبادی کو جیل میں ڈال دیں گے۔

اس موقع پر کراچی چیمبر کے صدر شارق ووہرا نے کہا کہ کراچی چیمبر کی بیشتر تجاویز معمولی ردو بدل کے بعد بجٹ میں شامل کی گئی ہیں اور 40 فیصد آئٹم پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ استثنیٰ کی حد بڑھائی گئی ہے اور ٹرن اوور ٹیکس کم کیا گیا ہے، بجٹ بہتر ہے مگر تفصیلی بات پورے بجٹ کو دیکھ کر کریں گے۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں بجٹ کی مخالفت، پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ (ن) کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

معروف تاجر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ موجودہ صورتحال اور وسائل کو دیکھتے ہوئے بجٹ میں دی گئی مراعات قابل تحسین ہیں

ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جن جن مسائل پر ہم نے ان سے بات کی تھی ان کو حل کرنے کی کوشش کی گئی جیسے پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسز بڑھتے جا رہے ہیں، موبائل کارڈ میں لوڈ پر ودہولڈنگ ٹیکس کٹ جاتا ہے اور ہمارے بالواسطہ ٹیکسز 60 فیصد ہو گئے تھے اور براہ راست ٹیکسز 40 فیصد رہ گئے تھے تو انہوں نے 11 قسم کے ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جبکہ حق صوابدید کو ختم کیا ہے جو کرپشن کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرنس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیدار انجم نثار نے کہا کہ کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا تو بظاہر یہ بجٹ اچھا معلوم ہو رہا ہے لیکن ہمارے ملک میں اچھی اور میٹھی باتیں تو بجٹ تقریر میں ہوتی ہیں اور مشکل باتیں نوٹیفکیشن وغیرہ میں ہوتی ہیں لہٰذا جب تک بجٹ کا مکمل مطالعہ نہ کر لیا جائے اس وقت تک کوئی حتمی جواب نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کئی چیزوں میں چھوٹ دی گئی ہے جس میں زراعت کی اسٹوریج ہے، 850 سی سی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17.5 سے 12.5فیصد کردیا گیا ہے، الیکٹرک گاڑیوں اس میں سیلز ٹیکس کی مد میں چھوٹ دی گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: 'تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا'

دوسری جانب لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیمبر آف کامرس کی بیشتر تجاویز کو قبول کرلیا گیا ہے۔

وفاقی بجٹ تجاویز کے حوالے سے لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں طارق مصباح نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا، اس موقع پر سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چوہدری کے ساتھ ساتھ سابق عہدیدار اور چیمبر آف کامرس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی سے کاروباری لاگت میں کمی واقع ہو گی۔

اس موقع پر لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی سے صنعتی شعبے میں مسابقت کو فروغ ملے گا، زیادہ قیمت کی وجہ سے پاکستانی تجارتی مال کو بین الاقوامی مارکیٹ میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا لیکن اب صورتحال بہتر ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطالبے پر دوا سازی کی صنعت میں خام مال پر کسٹم ڈیوٹی اور اضافی کسٹم کو کم کردیا گیا ہے جس سے ادویات کی قیمتیں کم کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: بجٹ 2022: موبائل فون سستا، کالز مہنگی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیکیج کسانوں کے لیے اچھا ہے، اگر ان کے مسائل حل ہوجائیں تو زراعت کے شعبے کو ترقی ملے گی، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ملک خود کفیل ہوگا کیونکہ 70 فیصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ترقیاتی فنڈ میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو ایک اچھی علامت ہے، اس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، ترقیاتی فنڈ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ترقی کا انجن تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیرات اور رہائش کے شعبے کو ریلیف دینے سے ناصرف ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کو فائدہ اور فروغ حاصل ہو گا بلکہ اس سے منسلک صنعتوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا جبکہ اسپیشل ٹیکنالوجی زون میں پلانٹ لگانے کے لیے مشینری کو چھوٹ دینا ایک اچھا اقدام ہے، اس سے انجینئرنگ اور آئی ٹی سیکٹر کی ترقی میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ روپیے کی برآمد کنندگان کو رقوم کی واپسی کے لیے 118 ارب مختص کیے گئے ہیں جس سے ان کے مالی مسائل کے حل میں مدد ملے گی جبکہ کم سے کم اجرت میں بیس ہزار روپے اضافے سے نچلے طبقے کو ریلیف ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2022: ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 66 ارب روپے مختص

انہوں نے کہا کہ سیلف اسسمنٹ اسکیم قابل تحسین ہے جبکہ گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کا بھی خیرمقدم کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں