صحافت کا سہرا: کاروبارِِ صحافت اور رموزِِ صحافت کا درس (دوسری قسط)

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2021

گزشتہ قسط یہاں پڑھیے


حسبِ وعدہ اس قسط میں پہلے محترم میر خلیل الرحمٰن سے صحافت اور کاروبارِ صحافت اور محترم یوسف صدیقی صاحب سے محض رموزِ صحافت سیکھنے کا ذکر رہے گا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ میرا صحافتی زانوے تلمذ طے کرنے کا سلسلہ تو 9ویں جماعت میں ہی شروع ہوچکا تھا لیکن خود مجھے اس کا پتا نہ تھا۔

جامعہ ملّیہ ملیر سٹی (میرا گہوارہ علمی) 'پائلٹ' اسکولوں میں شامل تھا۔ ہمارے اسکول کے علاوہ، حبیب پبلک اسکول (جہاں سے معروف حسین حقانی سابق سفیر امریکا نے پڑھا) اور سندھ مدرسہ (جہاں سے قائدِاعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم حاصل کی) یہ تینوں اسکول اپنی منفرد خصوصیات کے سبب 'پائلٹ' یعنی عمدہ ماڈل، اعلیٰ اور بہترین تعلیمی نتائج فراہم کرنے والے اداروں میں شامل تھے۔ پائلٹ کی وضاحت ہاتھ کے ہاتھ اس لیے ضروری سمجھی کہ آپ میں سے کوئی اسے 'ہوا بازی' سکھانے والا ادارہ نہ سمجھ بیٹھے۔

جامعہ ملّیہ ملیر میں جہازی سائز 'وال پیپرز' بھی نکلتے تھے۔ شہر کی بلند و بالا عمارتوں پر لگے، دُور سے دکھائی دیے جانے والے آج کل کے اشتہاری بورڈز کی طرح کے ان بورڈز پر ہر 3 یا 4 ہفتوں بعد شائع ہونے والے یہ قلمی اخبار میری صحافت کی عملی ابتدا تھے۔ ان کے تمام مضامین 'مدیر' منتخب کرتا تھا اور 'اداریہ' بھی سینئرز (ہمارے اساتذہ کرام) کی مشاورت و رہنمائی سے وہی لوگ لکھا کرتے تھے جو ہمارے 'رپورٹرز' (خبر نویس) بھی تھے۔ یعنی زیادہ تر وہی طلبہ تھے جو 'شوقیہ کتابت اور خطاطی' کرتے اور المعروف 'صادقین' صاحب سے مرعوب تھے اور 'آرٹ ورک' پر طلبہ کی اجارہ داری تھی جو کارٹون اور خاکے بنانے میں درک رکھتے تھے۔

پہلا 'دیواری اخبار' ہمارے اردو کے استاد و شاعر مظہر عرفانی صاحب کی کار گزاری سمجھا جاتا تھا لیکن یہ وال پیپر دراصل 7ویں جماعت پاس، نوعمر، عبدالسلام سلامی کی چلبلاتی اپج کا مرہون منت تھا لیکن نام سلام نے مظہر عرفانی کا استعمال کیا، ریکارڈ کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ 'جامعہ ملّیہ ملیر کی تاریخ میں یہ پہلا وال پیپر تھا' اور نام اس کا 'سویرا' تھا۔

لیکن ان دنوں اساتذہ میں اور ان کے ہمہ جہت شاگردانِ رشید میں بھی ایک صحت مند مسابقت تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیکھتے ہی دیکھتے 'نور' نامی ایک دوسرا وال پیپر بھی نکل آیا جس کی پشت پر فزکس کے استاد سعید صاحب کا ہاتھ تھا، اور پھر اردو کے، ایک اور استاد گرامی فرید صاحب بھی پیچھے رہنے والوں میں سے تو نہ تھے نا، تو انہوں نے بھی 'کرن' نامی ایک اور دیواری اخبار کی داغ بیل 9ویں اور 10ویں جماعت والوں سے ڈلوادی۔

یوں سبزہ زاروں اور جنگلات میں گھرے 'پیلے' رنگ کے لیکن 'پرائیوٹ' اسکول کی ایک ہی راہداری میں رکھے یہ تینوں دیواری اخبار خوب پڑھے جاتے بلکہ 'ریڈر شپ' لگاتار بڑھنے کا تاثر دینے کے لیے، خاص طور پر انٹرویل میں چند مخصوص طلبہ کی ٹولیاں تو پورا کا پورا انٹرویل اسی ریڈرشپ کی نذر کردیتی تھیں، یعنی کہ 'معصوم صحافتی اور ادارہ جاتی' رقابتوں کو یہی 'طلبہ ٹولیاں' ہوا دیتی رہتی تھیں۔

ہائے! وہ دن بھی کیا دن تھے!

میر خلیل الرحمٰن صاحب کی صحافتی قابلیت، صلاحیت اور عملی دانشمندی کے بارے میں زیادہ کچھ کہنے کی میں اہلیت نہیں رکھتا، نہ میں بقول سابق سو موٹو چیمپیئن (متنازعہ) چیف جسٹس 'نہ صادق اور نہ ہی امین'، لیکن اتنا تو مجھے بھی یقین ہے کہ بڑے میر صاحب کے پاس 'ایسے تمام ترازوؤں' کے 'سکہ رائج الوقت' بانٹ یقیناً تھے جو انتہائی کارساز تھے ورنہ اتنا بڑا اور اس قدر کامیاب 'میڈیا ہاؤس' نہ بنا پاتے کہ جس کے کسی بھی اخبار کے اداریے سے ابتداً آنے والی مبینہ تجویز، کاخ امراء کے در و دیوار ہلا دیتی تھی (اور آج بھی ہلا دیتی ہے)۔

خواہ وہ 'ایوب و یحییٰ' ہوں یا 'ضیا و مشرف' اس قماش کے تمام لوگ، بغل میں بینت بردار، لرزہ بر اندام رہتے اور جس دن اس میڈیا ہاؤس سے 'صحافتی طبل جنگ' بجتا تھا تو وہ برطانوی راج والے 'بلیک اسٹالین' گھوڑوں تک کی ایسی قبض کشائی کرتا تھا کہ چمڑا سینے والی دستی مشین کا استعمال لازمی ہوجاتا تھا۔

'جنگ و جیو میڈیا ہاؤس' کے سرکردہ زعما کرام میں شامل عارف الحق عارف کے بقول وہ (میر خلیل الرحمٰن) اپنے دور کے کامیاب ترین اور دُور اندیش بزنس مین تھے۔ جس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ بی کام کرنے کے بعد انہوں نے اور ان کے دوست دادا عشرت علی نے ابتدا میں ایک اخبار اور فلمی پرچہ نکالنے کا فیصلہ کیا۔

میر خلیل الرحمٰن
میر خلیل الرحمٰن

دادا نے جنگ اور میر صاحب نے فلمی پرچہ، لیکن تھوڑے عرصے بعد میر صاحب بھانپ گئے کہ زیادہ کامیابی سے چلنے والا روزنامہ جنگ اخبار ہے فلمی رسالہ نہیں، تو دادا سے کہا کہ دادا آپ کو فلم اور فلمی ستاروں سے دلچسپی ہے آپ یہ رسالہ نکالو اور جنگ مجھے دے دو۔ دونوں کی بھرپور اور ابھرتی، کودتی، چھلکتی مدھر جوانی تھی اور خوبصورتی اس سونے پر سہاگہ تھی۔

دادا کو یہ سودا اچھا لگا اور راضی ہوگئے اور جنگ جنگ والے کا ہوگیا۔ اس کو جاری کرنے کے لیے سرمایہ پلے نہیں تھا، 5 ہزار روپے اپنے ماموں سے ادھار لیے اور اخبار نکال لیا۔ پھر اس اخبار کو اپنی تھکا دینے والی شب و روز محنت و مشقت سے پاکستان کا سب سے بڑا اخبار بنادیا۔ اب یہ پاکستان کا بہت بڑا میڈیا ہاؤس اور ایک کامیاب اخباری اور ابلاغ عامہ کی بڑی ایمپائر ہے۔ ان کے کامیاب بزنس مین ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے؟

عارف الحق عارف
عارف الحق عارف

اسی طرح سے 1991ء میں جب اخبار The News نکالا گیا تو جواں سال سید راشد حسین (انگریزی بہتر طور پر سمجھنے اور لکھنے کی بنیاد پر) اس کے روح رواں تھے، لیکن قسمت کی مار کہ رات ایک ڈیڑھ بجے کے قریب 'پرنٹنگ سیٹ اپ' بیٹھ گیا اور پہلے دن یہ اخبار نہ نکل پایا۔

جب انتظامیہ، ایڈیٹر اور رپورٹرز صاحبان سر جوڑ کر بیٹھے کہ کریں تو کیا کریں تو عین اسی وقت بڑے میر صاحب کی کاروباری فراست کام آئی اور بقول راشد حسین (المعروف ماہر امور مشرقِ وسطیٰ اور تجزیہ کار برائے BBC اردو سیربین اور تیل کے عالمی امور کے بھی ماہر تجزیہ کار) 'میر صاحب نے فیصلہ کیا کہ جنگ دیر سے نکلے گا اور اس وقت تک ہاکرز کے حوالے 'جنگ' نہ کیا جائے گا جب تک کہ یہ نیا اخبار The News چھپ کر نکل نہ جائے اور بٹ نہ جائے!'

سید راشد حسین
سید راشد حسین

راشد حسین کے بقول 'جنگ وہ اخباری خمیر تھا جس کے نان کھائے بغیر کوئی شکم سیر نہ ہوتا تھا اور ساتھ ہی ایک ایسا برگد تھا جس کی چھاؤں میں آئے بغیر کوئی دیگر اخبار رہ نہیں سکتا تھا۔ لیکن طرفہ تماشا یہ بھی تھا کہ جب یہ اخبار اس برگد تلے آجائے تو خود بھی پنپ نہ پاتا تھا یعنی حریت، امن اور انجام جیسے اخبارت تک سورج کی شعاعیں پہنچ ہی نہ پاتی تھیں اور وہ منہ کھولے پڑے رہتے تھے'۔

باالفاظ دیگر صحافتی کاروبار کی monopoly ہو تو ایسی ہو۔

محترم یوسف صدیقی صاحب میری رائے میں اور میری معلومات کے مطابق جنگ کے بنیادی ستونوں میں سے ایک تھے۔ جنگ کی بلڈنگ میں ان کے 'کیوبکل' دفتر میں میری ان سے چند روبرو ملاقاتوں نے میرے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے۔ میری اپنی انتہائی پُرمغز محنت سے بھرپور، ہر ہفتہ دس دن بعد جب 'جنگ لبنان' سے متعلق میں اپنی اگلی قسط لے کر یوسف صدیقی صاحب کے پاس پہنچتا تھا تو پدرانہ شفقت کے ساتھ بٹھانا اور پھر گھنٹہ بھر بٹھا کر ہر ایک فیکٹ اور فگر سے پورے انہماک کے ساتھ گزرنا میں نے ان ہی سے سیکھا۔ 'ایک چائے اور لو گے؟' کے جواب میں جب 'جی' کہوں تو اب کی بار پیلے رنگ کا ایک کیک اور چند ڈبل کریم بسکٹ بھی ساتھ آتے تھے۔

ان دنوں جنگ اخبار کے 'ویک اینڈ ایڈیشن' کے بیرونی صفحات ہلکے آسمانی نیلے رنگ کے چھپتے تھے اور اندر اور باہر کے صفحات کی تصاویر جنگ کی اپنی لائبریری کی پکچرز ہوتی تھیں۔ ہزاروں اسرائیلی فوجیوں نے لبنان سے 'الفتح فائٹرز' کو نکال باہر کرنے کے لیے چڑھائی کر رکھی تھی اور اس جنگ میں، کرسچنز، فلانجسٹز، میرو نائٹس، شیعوں اور مقامی قبائلیوں کے علیحدہ علیحدہ کردار تھے اور ایران و شام کی پراکسی وار بھی اپنا رنگ دکھا رہی تھی جبکہ انکل سیم (امر یکا بہادر) کی ڈالر، ہتھیار و گولہ بارود سمیت کھلی حمایت اسرائیل کے ساتھ تھی۔

یوسف صدیقی
یوسف صدیقی

اس 'گنجلک اور گمبھیر' جنگ نے میری 'ابتدائی' اور یونیورسٹی کے فوری بعد والی صحافت پر گہرا اثر چھوڑا اور میں اپنے صحافتی خضر راہ، پروفیسر شمیم اختر کا بھیجا چاٹ جاتا تھا کہ 'یوں کیوں ہوا؟'۔ وہ مجھے سمجھاتے اور نقشہ اور خاکہ بنا کر بتایا کرتے تھے کہ 'یہ اس لیے ہوا اور ایسا نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ اور ایسا ہونے کے یہ یہ نتائج نکلے'۔

ایسی عرق ریزی کے بعد یوسف صدیقی صاحب، ہماری صحافتی کاوش کو کندھا تھپتھپا کر شاباش دیتے ہوئے 'مین پیج ان اور آؤٹ سائیڈ کور اسٹوری' کے طور پر چھاپتے تھے۔ ہم پھولے نا سماتے تھے اور گردن میں پڑا غیر مرئی سریا اور بڑا ہوجاتا تھا۔

لیکن یہ کہنے میں مجھے قطعاً عار نہیں کہ میرے لیے یہ بڑا پرآشوب دور تھا۔

میرے دوست اور میری تاش پارٹی کے رکن اور میری ہی برادری 'جمعیتِ پنجابی سوداگران دہلی' سے تعلق رکھنے والے اور 'ٹروپک' شرٹ بنانے والی کاٹیج انڈسٹری کے مالک برادران میں سے ایک مشفق 'عبد المالک' مجھے اپنی 'شرٹ' کے کمرشل میں 'کاسٹ اور شوٹ' کرچکے تھے۔ کمرشل فلم سفید ساڑی میں ملبوس 'تارا گھنشیام' کے ساتھ 'گھانچی ملز' والوں کے خوبصورت بنگلے میں شوٹ ہوئی تھی، اچھی بھی تھی۔

لیکن اس کے بعد جوں ہی پاکستان ٹیلی وژن اور سنیما ہالز وغیرہ میں یہ کمرشل فلم چلی تو پھر جو سماجی سونامی آئی اور جیسی خاندانی 'حجامت' ہوئی وہ ناقابلِ برداشت، ناقابلِ بیان اور ہمارے نازک سے دل پر کٹارے چلانے کی مانند رہی اور (کاندھوں تک زلفیں رکھنے والے گلفام یا شہزادہ سلیم جیسے ما بدولت) کسی کام کے نہ رہے۔ زبانی تو یہ بپتا کئی بار سُنا چکے ہیں لیکن یہ تحریری 'ایفی ڈیوٹ' پہلی بار دے رہے ہیں۔

ہم نے تو اس کمرشل سے دمڑی تک نہ لی، سارا کام یاری دوستی میں ہوا لیکن اس کے بعد نہ انار کلی شہزادہ سلیم سے ملی اور نہ ہی ایسی کوئی ضرورت تارا گھنشیام کو پیش آئی البتہ 'تارا' نے کون سے تارے توڑے مجھے اس کا بھی علم تک نہیں۔

باقی یہ 'صحافتی گُدگُدیاں اور قلمی طمانچے' آئندہ قسط میں۔

تبصرے (1) بند ہیں

Mumtaz Ahmed Shah Jun 16, 2021 02:48am
Very interesting and marvelous article written by Mr. Jami Sahib. I remember my childhood days in 1962 or so a student’s program relayed from Radio Pakistan ( karachi) wherein Jami ‘s name always broadcasted to achieve his first prize. ( USA)