ایک عام دوا کووڈ مریضوں کے پھیپھڑوں کے ورم کا ممکنہ علاج

14 جون 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈشوگر کی سطح میں کمی لانے کے لیے دنیا بھر میں تجویز کی جانے والی دوا میٹ فورمن کورونا وائرس کے مریضوں میں پھیپھڑوں کے ورم کے علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ دوا جگر میں گلوکوز بننے کی سطح کو کم کرتی ہے جس سے جسم میں بلڈ شوگر لیول کم ہوتا ہے اور جسم کا انسولین پر ردعمل بہتر ہوتا ہے جبکہ یہ ورم کش خصوصیات کی بھی حامل دوا ہے، تاہم اس سرگرمی کی وجہ معلوم نہیں۔

اب امریکا کی کیلیفورنیا کی تحقیق میں میٹ فورمن کی ورم کش سرگرمی کے مالیکیولر میکنزم کو دریافت کیا گیا۔

چوہوں پر کی جانے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس دوا سے کووڈ 19 کے مریض جانوروں میں پھیپھڑوں کے ورم کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ سال سے ہی دنیا بھر میں متعدد کلینکل ٹرائلز میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے ذیابیطس کے مریض اگر پہلے سے میٹ فورمن کا استعمال کررہے ہوتے ہیں تو ان میں بیماری کی شدت اور موت کے خطرے میں کمی آتی ہے۔

ذیابیطس اور موٹاپے دونوں کو کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے خطرہ بڑھانے والے 2 اہم ترین عناصر تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کے شکار افراد میں سنگین نتائج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے والی دیگر ادویات سے کووڈ 19 کے مریضوں میں یہ فائدہ دریافت نہیں ہوسکا۔

اگرچہ کلینیکل ٹرائلز میں میٹ فورمن کو ورم کش سرگرمی سے منسلک کیا گیا مگر کسی بھی تحقیق میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی جبکہ کنٹرول ٹرائلز بھی ہیں ہوئے۔

طبی جریدے جرنل امیونٹی میں شائع تحقیق میں شریک ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرائلز میں ایسے نتاج سامنے آئے جنس سے حتمی نتیجے پر پہنچنا بہت مشکل تھا جس کی وجہ سے ان پر شکوک سامنے آئے تھے۔

انہوں نے چوہوں پر اس کے تجربات کیے اور ایسے جانوروں کو شامل کیا گیا جن کو نظام تنفس کے ایک جان لیوا مرض اے آر ڈی ایس کا سامنا تھا، جس میں پھیپھڑوں میں سیال لیک ہوجاتا ہے اور سانس لینا دشوار جبکہ اہم اعضا تک آکسیجن کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

اے آر ڈی ایس سے ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو کووڈ سے متاثر ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں میں بھی موت کا باعث بنتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چوہوں کو بیمار کرنے سے پہلے میٹ فورمن کا استعمال علامات کی شدت میں کمی لاتا ہے۔

اسی طرح بیماری کے شکار جانوروں میں اس دوا سے موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے کیونکہ وہ مدافعتی خلیات کے باعث ہونے والے ورم کی روک تھام کرتے ہیں، ایسا کووڈ کے مریضوں میں بھی عام ہوتا ہے۔

کووڈ کے مریضوں میں ورم کی وجہ سے جسم اپنے ہی خلیات اور ٹشوز کے خلاف سرگرم ہوجاتا ہے جس کی وجہ ایک آئی ایل 1 نامی پروٹین بنتا ہے، جس کی شرح کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے مریضوں کے پھیپھڑوں میں بہت زیادہ دریافت کی گئی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ میٹ فورمن کووڈ کے مریضوں کے پھیپھڑوں میں ورم کو متحرک ہونے سے روکنے اور اس کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجربات سے یہ ٹھوس عندیہ ملتا ہے کہ اس دوا سے کووڈ 19 کے سنگین شدت سے متاثر افراد کے لیے نیا علاج فراہم کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اس حوالے سے ابھی کووڈ 19 کے انسانی مریضوں پر ٹرائل کی ضرورت ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں