خواتین کے لباس سے متعلق وزیراعظم کے بیان پر معروف مرد شخصیات کی تنقید

اپ ڈیٹ 23 جون 2021
وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے—فوٹوز: انسٹاگرام
وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے—فوٹوز: انسٹاگرام

وزیر اعظم عمران خان کو حال ہی میں اسٹریمنگ ویب سائٹ ’ایچ بی او میکس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں خواتین کے لباس سے متعلق بیان دینے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

امریکی اسٹریمنگ ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم پاکستان اور امریکا کے تعلقات سمیت افغانستان میں پاکستان کے کردار اور چین میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر بھی کھل کر بات کی تھی۔

اسی پروگرام میں جب انٹرویو کرنے والے صحافی جوناتھن نے وزیراعظم سے ماضی میں ریپ کو فحاشی کے ساتھ منسلک کرنے کے ان کے بیان سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ 'یہ سراسر بکواس ہے میں نے ایسا نہیں کہا، میں نے پردے کے تصور پر بات کی تھی پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں فتنے سے گریز کیا جائے'۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان ایک مکمل مختلف معاشرہ ہے'اگر آپ معاشرے میں فتنے کو پروان چڑھائیں گے اور ان نوجوانوں کے پاس کہیں اور جانے کا راستہ نہیں ہوگا تو اس کے اثرات مرتب ہوں گے'۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ 'اگر خواتین بہت مختصر لباس پہنیں گی تو اس کا مردوں پر اثر ہوگا تاوقتیکہ کہ وہ روبوٹ ہوں، میرا مطلب عمومی سمجھ کی بات ہے کہ اگر آپ کا معاشرہ ایسا ہو کہ جہاں لوگوں نے ایسی چیزیں نہ دیکھی ہوں تو اس کا ان پر اثر ہوگا۔

وزیر اعظم عمران خان کے مذکورہ جواب پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں شوبز شخصیات بھی شامل ہیں۔

عثمان خالد بٹ-اداکار

اداکار عثمان خالد بٹ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'یقیناً مرد روبوٹ نہیں ہیں، ہاں ان میں خواہش، فتنہ، کشش موجود ہوتی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ریپ اس وجہ سے نہیں ہوتا، ریپ طاقت سے متعلق ہے، کسی پر غلبہ حاصل کرنا، ہمدردی نہ ہونا اور دشمنی پال لینا، یہ ایک عورت ہو یا مرد یا بچہ اسے ختم کرکے صرف ایک چیز سمجھتا ہے، یہ انسانیت سے عاری ہے'۔

ایک ٹوئٹ کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ 'میں نے اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک علیحدہ تعلیم حاصل کی، جہاں لباس سے متعلق سخت قواعد تھے اور لڑکے اور لڑکیوں کو میل جول کی اجازت نہیں تھی، کسی بھی طریقے سے میں نے کسی پر جنسی حملہ نہیں کیا'۔

وزیراعظم آفس سے جاری کیے گئے انٹرویو کے غیر ایڈٹ شدہ کلپ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ وزیراعظم نے بچوں سے زیادتی پر بھی بات کی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو کچھ انہوں نے جنسی تشدد سے متعلق کہا وہ زیادہ پریشان کن نہیں تھا۔

ضرار کھوڑو-صحافی

سینئر صحافی ضرار کھوڑو نے لکھا کہ ' ہم سب یا ہم میں سے اکثر دل سے اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑے ہوئے کہ ریپ 'ہوس' کا جرم ہے، 'جنون کا جرم' جس میں مرد کو خود پر اختیار نہ ہونا شامل ہے، مجھے بھی اس پر یقین کرنے پر مجبور کیا گیا تھا'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'مگر جب آپ بڑے ہوتے ہیں تو یہ جانیں کہ ایسا نہیں ہے، اگر آپ اصل کیسز دیکھیں، اصل اعداد و شمار اور مظالم دیکھیں تو آپ کو سمجھ آئے گا کہ آپ غلط تھے جسے تسلیم کرنا مشکل ہے کہ آپ کو جو آسان سی بات ماضی میں بڑوں، دوستوں یا معاشرے کی جانب سے بتائی گئی آپ کو اس پر یقین کرنا چھوڑنا ہوگا'۔

ضرار کھوڑو نے لکھا کہ 'یہ ماننا کہ وہ غلط تھے مشکل لیکن کبھی کبھار نئی چیزیں سیکھنا، آگے بڑھنے کا مطلب ہے کہ جو پہلے سیکھا تھا اسے بھلایا اور اس میں بہت ہمت لگتی ہے اور میں نے وہ ہمت کی'۔

انہوں نے کہا کہ لیکن اس سے انکار کرنا صرف بزدلی ہے، اس کی آپ صرف مذمت کرسکتے ہیں کیونکہ وہ دن جب آپ سیکھنا چھوڑدیں اور اپنی لاعلمی پر متکبر ہوجائیں تو اس دن سے آپ مرنا شروع ہوجاتے ہیں'۔

جبران ناصر-وکیل اور سماجی کارکن

جبران ناصر نے لکھا کہ ' وزیراعظم عمران خان، ریپسٹ، بدسلوکی اور ہراسانی میں ملوث افراد کو انسان کہنا بند کریں اور متاثرین پر اعتراض اٹھانا بند کریں'۔

انہوں نے کہا کہ'آپ کو شاید اس بات کا احساس نہیں ہوگا لیکن جب آپ بار بار زور ڈالتے ہیں کہ عورت کا لباس فتنے کی وجہ ہے جو جنسی تشدد کا باعث بنتا ہے تو آپ بالکل ایسا ہی کرتے ہیں'۔

عثمان مختار-اداکار

اداکار عثمان مختار نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی اسٹوری میں لکھا کہ ریپ، ریپ ہوتا ہے، اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ خاتون نے مختصر لباس پہنا ہوتا ہے بلکہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ جو شخص یہ گھناؤنا، انسان سوز عمل کرتا ہے وہ ایک مجرم ہے'۔

عثمان مختار نے مزید لکھا کہ 'یہ طاقت کے ناجائز استعمال کا معاملہ ہے، یہ ایک منحرف دماغ کی ایک حرکت ہے، نہ کہ خواتین کے جھانسے میں آئے نان روبوٹس کا کام'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ کہنا تو اس کے مترادف ہے کہ اگر کسی کے گھر میں بندوق ہو تو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اور یہ اس لیے ٹھیک ہے کہ بندوق اس کے ارد گرد پڑا ہوا تھا لہذا ایسا ہونا تو لازمی تھا'۔

عثمان مختار نے کہا 'وزیراعظم صاحب، برائے مہربانی متاثرہ فرد کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کریں، یہ قدم اٹھانے کا وقت ہے، دھرتی پر موجود اس گند کو اتنی سزا دینے کا وقت ہے کہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہ کرسکے'۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

تبصرے (0) بند ہیں