صحافت کا سہرا: پی ٹی وی میں نوکری ہونے کے باوجود میں وہاں کیوں نہیں گیا؟ (تیسری قسط)

06 جولائ 2021

گزشتہ اقساط: پہلی قسط، دوسری قسط


خبردار: اس کے بعد چوتھی قسط میں ہم پاکستان میں صحافتی دور کی بساط لپیٹ کر سیدھے انگلستان چلیں گے اور وہ اس لیے کہ فدوی کی باقی صحافتی زندگی بی بی سی لندن (اردو اور ہندی سے) وابستہ رہ کر انگلینڈ میں گزری جو 40 سال سے زیادہ عرصے پر محیط رہی۔

اچھا تو دوسری قسط میں ہم پاکستان میں تھے اور نوبت یہاں تک آچکی تھی کہ اداکارہ تارا گھنشیام کے ساتھ TroPik شرٹ کے کمرشل (ایڈ) میں آنا کم از کم مابدولت کو تو ہرگز راس نہ آیا بلکہ باکس آئٹم بن کر اخبار میں خبر تو یہ چھپی کہ 'شفیع نقی جامعی کو اسلامی جمعیت طلبہ سے خارج کردیا گیا' بھلا بتاؤ!

اور اس خبر کے پیچھے جن سورماوؤں کا ہاتھ تھا ان کا ہمیں فی الفور تو پتا نہ چلا ورنہ نتائج قدر مختلف ہوتے مگر جمعیت سے 'مبینّہ' طور پر خارج کیے جانے کی خبر بجلی بن کر گری اور غیر خاندانی مشاورت اور قدر گرما گرم بحث کا سبب بھی بنی۔

فدوی کے تمام سیاسی اور صحافتی عزائم ڈھیر ہوکر رہ گئے، یہی نہیں بلکہ خود مابدولت کے عزیز و اقارب میں ہمہ وقت ٹو لینے اور چیل کی سی نظر رکھنے والی خواتین میں سے فوری طور پر کم از کم 2 خواتین کے دماغ میں یہ نامعقول خیال بھی اچانک کود کر آیا کہ 'لڑکا جوان ہوچکا ہے اور اس سے قبل کہ کوئی اونچ نیچ ہوجائے یا خدا نخواسطہ خود یہ کوئی 'ایسی ویسی' حرکت کر بیٹھے اس کی فوراً شادی کردو۔'

توبہ ہے، مطلب یہ تھا کہ لمبی اڑان بھرنے سے پہلے اس کے پَر کتر دو۔

آئیے پہلے ان بے ہنگم لبھیڑوں (غیر معقول تاویلات) سے نمٹ لیں ورنہ ہمارا صحافتی سیاق و سباق ادھورا رہے گا اور بات کبھی سمجھ میں نہ آسکے گی۔

گویا مندرجہ بالا وہ صورتحال تھی جس نے میرا اور میری اب تک کی تاریخ کا رخ بدل ڈالا۔

دیکھیے اسلامی جمعیت طلبہ سے خارج کیے جانے کی خبر بالکل غلط اور بے بنیاد تھی کیونکہ جو آپ کا ممبر نہیں، رکن نہیں حتیٰ کہ جس نے آپ کا 'چونّی تک کا فارم' بھی نہ بھرا ہو اسے خارج کرنا لغو اور واہیات بات نہیں تو اور کیا ہے؟ ہاں یہ بات درست ہے کہ فدوی نے جمعیت کی حمایت اور جمعیت کے پینل سے کراچی یونیورسٹی طلبہ یونین کا صدارتی انتخاب لڑا اور 'تھمپنگ میجارٹی' سے جیتا تھا۔

لیکن اب یہ اخراج وخراج کے چکّر نے جو بحران پیدا کردیا تھا اس سے نمٹنے کے لیے مشفق منور حسن نے مدد کی اور وہ ایسے کہ جب جمعیت کے سرکردہ رہنما اور جامعہ کراچی طلبہ یونین کے سابق سیکریٹری اور میرے یار غار اکرم کلہوڑی کے ساتھ فدوی سر پکڑ کر بیٹھا تو ہمارے مشترکہ مشیر منور حسن صاحب کا نام آیا اور پھر فوراً ہی ہم دونوں ان سے ان کے دفتر جاکر ملے۔

چند گھنٹوں پر مشتمل ملاقات، تفصیلی مشاورت اور تجزیے (بشمول دوپہر کا کھانا کھانے، کئی بار چائے پینے اور شام دیر تک بیٹھنے، جس میں ظہر، عصر اور مغرب کی 3 نمازیں بھی شامل تھیں) ہم جس نتیجے پر پہنچے اس کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔

  • جمعیت سے اخراج کا معاملہ پس پشت ڈال دیجیے اگر جمعیت نے بھنّا کر پتھر مارا ہے تو اینٹ کا جواب پتّھر سے دیے بغیر آگے بڑھیے، قلم سنبھال لیجیے، قلم کی تلوار کا وار کاری ہوتا ہے گردن اتار دیتا ہے آپ کی بھناہٹ اور انتقامی آگ بھی ٹھنڈی پڑجائے گی۔
  • فوری طور پر اخبارات و رسائل وغیرہ میں لکھنا شروع کیجیے تاکہ آپ کا سنجیدہ تشخص برقرار رہے اور اللہ کے بعد قلم اور زبان کی طاقت پر بھروسہ کیجیے۔
  • انہوں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے تیقن سے کہا 'اس دانشمندانہ سلسلے میں ہر ممکنہ مدد فراہم کی جائے گی' اور جو واقعتاً فراہم بھی کی گئی، یعنی 'اخبار جسارت' میں جانا اور وہاں سے صحافت کی ابتدا کرنا کوئی کشف، الہام یا محض اتفاق ہرگز نہیں تھا اور فدوی کو اس اعتراف میں بھی فخر محسوس ہو رہا ہے کہ منور حسن صاحب کی فل پلاننگ اپنا کام دکھا رہی تھی۔
  • مدلّل طریقے اور 'فلاں فلاں' کی مثالیں دے کر ہمیں قائل کیا گیا کہ وقت ضائع کیے بغیر، یورپ یا امریکا میں کوئی ڈھنگ کی اسکالرشپ 'پکڑ لیجیے' جن کی ان دنوں باڑ آیا کرتی تھی۔ مغربی یورپ اور شمالی امریکا نے 'سرد جنگ' کے انہی دنوں میں اپنے نت نئے تعلیمی اسکالرشپس سے دل و دماغ جیت رکھے تھے۔ ہم بھی انہی اسکالرشپس میں سے 2 کے حقدار قرار دیے جاچکے تھے۔
  • کہا گیا کہ اسلامی جمعیت طلبا کے خلاف کوئی معمولی سی بھی پریس کانفرنس کیے بغیر اور 'منفی سرگرمیوں' میں خفیہ یا برملا ہاتھ دکھائے بغیر اور کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کیے بغیر رخت سفر باندھیے، 'یہاں سے کٹ لیجیے' اور جہاں کہیں بھی آپ جائیے گا (ظاہر ہے کمیونسٹ یا سوشلسٹ ملکوں کے علاوہ) وہاں ہمارے 'رفیق' اور 'کارکن' پائیے گا۔
  • آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کیجیے کیونکہ 'سن آف دی سوائل' آپ ہیں نہیں تو کچھ بننے کے لیے آپ کو بہت زیادہ محنت کرنی ہی پڑے گی۔
  • پھر ہوگا یہ کہ چند سال میں آپ ذہنی بلوغیت تک پہنچ جائیں گے اور یہ 'Ad ویڈ' میں آنے والی سرگرمیوں سے باز آجائیے۔
  • اور پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد (خرافات میں پڑے بغیر) جلد ازجلد واپس آئیے اور 'ملک و قوم کی خدمت' کیجیے۔
  • اور شفیع صاحب! اسی ضمن میں آخری بات یہ بھی کہ جب تک پاکستان میں ہیں تب تک اخبار، ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے بہرطور منسلک رہیے، یعنی صحافت اور اس سے متعلقہ میدان ہمیں دکھا دیے گئے اور ان میں کام آنے والے گھوڑے بتا دیے گئے کہ یہ ریس طویل بھی ہوسکتی ہے۔

اب آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ فدوی نے مشفق منور حسن صاحب کی کئی تجاویز پر تو پورے عزم مصمم کے ساتھ فوری طور پر عمل کیا لیکن پھر ہوا یہ کہ کبھی تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے اور کبھی کاتب تقدیر کے پہلے سے طے شدہ تقدیری معاملات نے فدوی کو سنبھلنے اور پنپنے نے کا موقع ہی نہ دیا۔

یہاں ہم یہ واضح کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ قلم کے زور پر اور پاکستان میں کی گئی دیسی ساخت کی اپنی 'چو مکھی صحافت' کو تو ہم یہاں ہاتھ کے ہاتھ سنبھال رہے ہیں لیکن باقی کو ہم فی الوقت باقی چھوڑ رہے ہیں، ویسے بھی وہ حوادث زمانہ تو ہیں لیکن ڈائرکٹ صحافت نہیں ہیں۔

خواہ وہ اخبار ہو، ریڈیو ہو یا ٹی وی، سبھی کو مابدولت نے مقدور بھر آزمایا اور اتنا تو سمجھ میں آنے لگا کہ اردو اخباری صحافت میں کمائی اور مستقبل زیادہ نہیں ہے اور دوسری طرف 'انگریزی' فدوی کی اتنی مضبوط نہیں تھی کہ اخباری صحافت میں جو سامنے آئے اسے چت کردیا جائے۔

یہ بھی پتا چل گیا کہ 'کراچی میں گرومندر سے میری ویدر ٹاور اور پھر کیماڑی تک' جانے والی سستے ٹکٹ کی بس نمبر 8A میں آپ بھی 'چندریگر روڈ پر واقع' صحافیوں کے بازار تک تو پہنچ جائیں گے لیکن اردو اور انگریزی صحافت کی قدر اور قیمت میں بڑا فرق دکھائی دے گا۔

انگریزی کے ڈان کراچی کی اشاعت اگر 70 ہزار تھی تو 'جنگ کراچی' اشاعت میں اپنی تصویروں اور مصالحہ دار خبروں کے ساتھ تقریباً 3 لاکھ کا نگاڑہ پیٹتا تھا۔

جبکہ مارننگ نیوز ڈھاکہ کی اشاعتی کود پھاند کوئی 80 ہزار کے لگ بھگ تھی اور ایک بہت بڑا فرق کام، نام اور محنتانے میں پایا جاتا تھا اور وہ ایسے کہ جنگ، جسارت، حریت وغیرہ چھپتے تو زیادہ تھے لیکن ان کے مالکان 'بول بچن زیادہ' اور پیسے کم دیتے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں ڈان، مارننگ نیوز اور لاہور سے پاکستان ٹائمز وغیرہ کی اشاعت تو کم تھی مگر ان اخبارات میں عزت اور تنخواہ زیادہ ملتی تھی۔

صحافت میں نام پوچھ لینے والی دوسری بڑی تجربہ گاہ یعنی 'ریڈیو' کے لیے اس وقت بھی آواز تو تھی مگر دیگر 'مطلوبہ عناصر' نہ تھے اور ویسے بھی کب تک (آرٹس کونسل کے کرتا دھرتا اور اسٹیشن منیجر) محترم یاور مہدی کی شفقت، بزم طلبہ میں شرکت، ایوب خاور کے 'سمندر جاگ رہا ہے' جیسے ڈراموں میں صدا کاری، عظیم سرور کا 'عالمی اسپورٹس راؤنڈ اپ' میں ہمارے جیسے ابھرتے ٹیلنٹ کا ساتھ نبھا سکتا تھا، یا قمر جمیل جیسے شاعر و ادیب کی صحبت، نیلام گھر فیم تاجدار عادل، باکمال پروڈیوسر اور ڈائریکٹر محمد نقی اور پھر ابراہیم صاحب کہ جن کے مائیک سے شاید ہی کوئی مشہور و معروف ایسا کوئی کھلاڑی بچا ہو جو ان کے بذلہ سنج انٹرویوز کی زد میں نہ آیا ہو جو ہم پر دستِ شفقت رکھے رہتے ـ ـ ـ کہنے کا مختصراً مطلب یہ ہے کہ ایسے دیگر متعدد افراد کی صحبتوں نے فدوی کو دانستہ اور نادانستہ طور پر صحافتی طغیانی سے روشناس کروا تو دیا لیکن ہائے رے قسمت!

ریڈیو پاکستان کراچی
ریڈیو پاکستان کراچی

محمد ابراہیم، یاور مہدی اور تاجدار عادل
محمد ابراہیم، یاور مہدی اور تاجدار عادل

عظیم سرور
عظیم سرور

محمد نقی
محمد نقی

ہماری بے قراری نے ہمیں ریڈیو کا بھی ہونے نہ دیا۔

جب تک پاکستان میں رہا فدوی کچھ بن جانے اور کچھ کر دکھانے کی دھن میں رہے، طرفہ تماشا تو یہ بھی ہے کہ جب ایک معقول نئے آئیڈیا پر مشتمل ٹی وی ڈراما اسکرپٹ لکھ کر پی ٹی وی کے در پر دستک دے بیٹھے تو وہاں سے 'بلاوا' بھی آگیا، مسٹر برہان الدین حسن، پی ٹی وی کے بڑے افسر اور مسٹر عبدالکریم بلوچ کراچی ٹی وی کے انچارج ہوا کرتے تھے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کی عمارت
پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کی عمارت

برہان الدین حسن
برہان الدین حسن

عبدالکریم بلوچ
عبدالکریم بلوچ

بلوچ صاحب نے ہمارے فراہم کردہ اسکرپٹ کو تو در خور اعتناع نہ سمجھا لیکن داخلی مشاورت کے بعد یہ مژدہ جاں فزا ضرور سنایا کہ 'دیکھیے ایک نئے پریزنٹر کی تلاش ہے اور حال ہی میں 'کمال کا شو' (جو فلمی اداکار سید کمال پیش کیا کرتے تھے اور آفتاب عظیم اس کے پروڈیوسر ہوا کرتے تھے) میں آپ کی شرکت اور ترکی بہ ترکی جوابات دینے (یعنی با الفاظ دیگر للّو چلانے) کی بنیاد پر آپ پر بھی نظر پڑی ہے 'یہ رہا آپ کے لیے اسکرپٹ، اسے اچھی طرح سے پڑھیے، اب سے کوئی ایک ہفتے بعد 'آدم جی سائنس کالج آڈی ٹوریم میں ریہرسل ہے اور وہیں 'آڈیشن' بھی قرار پائے گا، سو گڈ لک، باقی اسٹیج کون سنبھالے گا یہ ڈیسائڈ کرنا پنچوں کا کام ہوگا!'

فلمی اداکار کمال
فلمی اداکار کمال

آدم جی سائنس کالج کے آڈی ٹوریم میں منعقدہ معرکہ ہم نے مارا یعنی بحیثیتِ ایک اور 'پریزینٹر' ہم منتخب بھی ہوگئے لیکن تقدیر کے کام نرالے ہوتے ہیں اور صرف کاتبِ تقدیر کو پتا ہوتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے لیکن میرا اس بات پر یقین ہے کہ جو آپ کے حق میں بہتر ہوتا ہے، وہی ہوتا بھی ہے اور ایسے میں کہ جب ٹی وی آڈیشن اور نئے پریزینٹر والے اس معرکے میں کامیابی کے بعد بغلیں بجاتے ہر دوست کو یہ بتاتے پھر رہے تھے کہ 'دیکھو، تم کسی اور کو نہ بتانا، ہمارا ہوگیا' کہ بہنوئی کے پاس Telex اور ہمارے پاس بذریعه Telegram یہ پیغام آیا کہ 'مبارک ہو' اور باقی تفصیل تھی جس کا مختصراً احوال یہ کہ 'لندن یونیورسٹی سے منسلک دنیا کے انتہائی مشہور و معروف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے ایک London School Of Economics And Political Science آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔'

دیکھا آپ نے کہ فدوی کو ٹی وی میں بھی بحیثیت، کسی بھی حیثیت میں جانا نصیب نہ ہوا۔

اور پھر 1978ء اور 1979ء کے تعلیمی سیشن کے لیے فدوی نے لندن کا رخ کیا، اور یوں پاکستان میں صحافتی مستقبل اپنے قدرتی انجام کو پہنچا۔


تصیحی نوٹ: دوسری قسط میں ہم نے لکھا تھا کہ اپنی اشاعت کے پہلے مقررہ دن پرنٹنگ سسٹم بیٹھ جانے کے سبب دی نیوز چھپ نہ سکا تھا وہ فدوی کی غلطی تھی، سید راشد حسین نے ریکارڈ درست کرنے کی غرض سے لکھا ہے کہ 'چھپا تو پہلے ہی دن تھا لیکن بہت دیر سے بازار میں آیا تھا'۔

دوسری تصحیح سلام سلامی کی جانب سے آئی کہ جامعہ ملّیہ ملیر سیکنڈری اسکول سے شائع ہونے والے 'وال پیپرز' میں 10ویں جماعت کے وال پیپر کا نام 'غزال' تھا، ممکن ہے 'کرن' کے نام سے بھی کوئی پرچہ ہو، انہیں یاد نہیں ہے۔

(میں ذاتی طور پر سلام سلامی کی بات کو صحیح مانتا ہوں)

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف