• KHI: Zuhr 12:29pm Asr 5:11pm
  • LHR: Zuhr 12:00pm Asr 4:53pm
  • ISB: Zuhr 12:05pm Asr 5:02pm
  • KHI: Zuhr 12:29pm Asr 5:11pm
  • LHR: Zuhr 12:00pm Asr 4:53pm
  • ISB: Zuhr 12:05pm Asr 5:02pm

پاکستان میں 'ٹک ٹاک' پر ایک بار پھر پابندی عائد

شائع July 21, 2021
پابندی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کے تحت لگائی گئی — فائل فوٹو / اے پی
پابندی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کے تحت لگائی گئی — فائل فوٹو / اے پی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے معروف شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن 'ٹک ٹاک' کو ایک بار پھر بلاک کردیا۔

پی ٹی اے سے جاری بیان کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں اتھارٹی نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ تک رسائی کو بلاک کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی پلیٹ فارم پر نامناسب مواد کی مستقل موجودگی اور پلیٹ فارم کے ایسے مواد کو روکنے میں ناکامی کی وجہ سے کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال 28 جون کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی جس کے خلاف پی ٹی اے نے متفرق درخواست دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ کا 10 تک دن ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم

پی ٹی اے نے عدالت کے سامنےموقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ کی درخواست پر پی ٹی اے نے فیصلہ کرنا ہے، فیصلے کے بعد درخواست گزار سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سنا جائے فیصلے کے وقت ہمارا موقف نہیں سنا گیا تھا۔

بعد ازاں ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے ٹک ٹاک پر عائد کی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

قبل ازیں رواں سال مارچ میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی غیر اخلاقی مواد کی موجودگی کے باعث ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی احکامات کے بعد فوری طور پر ٹک ٹاک کو بند کردیا گیا تھا اور شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن کچھ دن تک بند رہی تھی۔

غیر اخلاقی مواد کی موجودگی کی وجہ سے ہی اکتوبر 2020 میں پی ٹی اے نے بھی ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کردیا تھا، اس سے قبل پی ٹی اے نے ایپلی کیشن انتظامیہ کو فحش مواد ہٹانے کے لیے نوٹسز جاری کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کا ملک بھر میں ٹک ٹاک بند کرنے کا حکم

بعد ازاں ٹک ٹاک انتظامیہ نے لاکھوں نامناسب مواد پر مبنی ویڈیوز ہٹانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کی سروس بحال کی تھی۔

مارچ 2021 میں بھی پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک کی سروس 10 دن تک معطل رہی تھی، بعد ازاں ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے فحش ویڈیوز ہٹائے جانے کے دعوے اور یقین دہانی پر اپریل میں اس کی سروس بحال کردی گئی تھی۔

کارٹون

کارٹون : 27 مئی 2024
کارٹون : 26 مئی 2024