بھارت: بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ میں 32 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 24 جولائ 2021
بھارت میں بارش سے متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کیا جارہا ہے— فوٹو: اے پی
بھارت میں بارش سے متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کیا جارہا ہے— فوٹو: اے پی

بھارتی حکام کے مطابق ملک کے مغربی علاقوں میں مون سون کی موسلادھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ رات گئے جاری رہنے والے آپریشن میں ایک ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق ضلعی کلیکٹر نیدھی چوہدری نے کہا کہ مہاراشٹر کے شمالی ضلع رائے گڑھ میں لینڈ سلائینڈنگ کے 3 واقعات میں اموات ہوئیں، ہائی وے پر مکانات کی چھتوں اور بسوں میں پھنسے متعدد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کے عہدیدار ساگر پھاٹک کا کہنا تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 32 افراد ہلاک جبکہ 30 لاپتا ہیں۔

نیدھی چوہدری نے مزید کہا کہ بارش آہستہ ہوگئی ہے جبکہ پانی کی سطح بھی کم ہوچکی ہے جس کے بعد امدادی ٹیمیں بآسانی متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں شدید بارش، مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال

بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کے مشرق میں واقع شیواجی نگر کے علاقے میں تیز بارش کے باعث مکان گرنے سے 2 افراد ہلاک جبکہ 8 زخمی ہوئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع رتنگری کے پہاڑی علاقوں میں تیز بارش کے بعد 200 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔

بھارتی نیوز ایجنسی نے رپورٹ دی کہ ساحلی علاقے چپلون کا کم و بیش آدھا علاقہ سیلاب کی زد میں آگیا ہے یہاں تقریباََ 70 ہزار افراد مقیم ہیں۔

رتنگری کے ضلعی حکام بی این پٹیل نے فوج، کوسٹ گارڈ اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپونس فورس سے امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

بھارتی نیوی نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا کہ متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کوپٹرز اور کشتیوں سمیت ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 180 تک پہنچ گئی

حکام کی جانب سے جمعے کے روز تلنگانہ کی جنوبی ریاست کے ساتھ ساتھ حیدرآباد اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی تیز بارشوں کے باعث سیلاب کے خدشات سے آگاہ کیا گیا۔

بھارتی ماہر موسمیات کا کہنا تھا کہ اس مہینے حیدرآباد میں 30 سینٹی میٹر (11.8 انچ) بارش ریکارڈ کی گئی ہے، بھارت کے ایک معروف انفارمیشن ٹیکنالوجی حب کے مطابق یہ جولائی کے مہینے میں 10 سال میں سب سے زیادہ بارش ہے۔

سیلاب کے بعد پانی کے اہم ترین ریزروائر عثمان ساگر سے پانی کے اخراج کے لیے دس سال میں پہلی مرتبہ بند کھولے گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھارتی معاشی اور فنی دارالحکومت ممبئی میں تیز بارش کے باعث 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت میں جون سے ستمبر کے دوران مون سون کی بارشوں میں لینڈ سیلائیڈنگ اور سیلاب معمول ہے، موسلادھار بارشوں کے باعث ناقص تعمیر شدہ انفرا اسٹکچر کمزور ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: آسمانی بجلی گرنے سے ایک روز میں 38 افراد ہلاک

مون سون سیزن کے دوران لگائے جانے والی فصلوں کے لیے مون سون اہم ہے لیکن بارش سے بڑے پیمانے پر نقصان کے ساتھ ہر سال کئی افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں