چین کے ساتھ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 26 جولائ 2021
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنا چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے — فوٹو: ٹوئٹر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنا چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے — فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے اور بدلتی ہوئی علاقائی و بین الاقوامی صورتحال کے باوجود یہ متاثر نہیں ہوئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ چین مکمل ہونے کے بعد دفتر خارجہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پاک ۔ چین سدا بہار دوستی ہمیشہ پھلی پھولی ہے اور مستحکم ہوئی ہے جبکہ علاقائی اور عالمی بدلتی ہوئی صورتحال کے بھی اس پر اثرات نہیں پڑے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنا چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوئے، چین میں انہوں نے چینی اسٹیٹ قونصلر اور وزیر خارجہ وانگ ژی سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین دونوں نے سدابہار اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

چین کی وزارت خارجہ کے امور کے ترجمان نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سے متعلق ٹوئٹ میں بتایا کہ ’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے سب سے زیادہ قابل اعتماد اچھے ہمسائے، دوست اور بھائی ہیں‘۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دو روزہ دورے پر چین روانہ ہوگئے

ان کا کہنا تھا کہ ’چین اور پاکستان کی دوستی کبھی نہیں ٹوٹ سکتی‘۔

'قریب تر برادری'

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ نے وانگ ژی کے حوالے سے کہا کہ چین نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے قریب تر برادری کی تعمیر کو فروغ دینے، دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانے، زیادہ سے زیادہ شراکت دار بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ دونوں ممالک نے بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کیا ہے اور تعاون کی ایک سدابہار اسٹریٹجک شراکت قائم کی ہے۔

انہوں یہ ریمارکس چین اور پاکستان وزرائے خارجہ کے ’اسٹریٹجک ڈائیلاگ‘ کے تیسرے دور کے دوران دیے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شرکت کی تھی۔

وانگ ژی نے کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کے تعاون کے بارے میں بھی بات کی جبکہ دونوں فریقین نے ویکسین نیشنلزم سے متعلق اپنے اعتراضات کو دوہرایا۔

داسو پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وانگ ژی نے حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور مستقبل میں ہونے والے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ 'اہم ترین' دو روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے

انہوں نے متاثرین کے علاج اور سیکیورٹی کو مستحکم کرنے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں وانگ ژی نے کہا کہ دونوں ممالک چین ۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اعلیٰ معیار کی تعمیر کو جاری رکھنے، بین الاقوامی اور علاقائی امور میں ہم آہنگی کو مستحکم کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے چین اور پاکستان دونوں ہی افغانستان کی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں