پاکستان کو بھارت سے بحیثیت صدر سلامتی کونسل مثبت رویے کی اُمید

01 اگست 2021
مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم بربریت پر یورپین کمیشن کی تنقید— فائل فوٹو: اے ایف پی
مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم بربریت پر یورپین کمیشن کی تنقید— فائل فوٹو: اے ایف پی

دفتر خارجہ نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ بھارت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی صدارت کی ایک ماہ طویل مدت کے دوران منصفانہ طرزِ عمل اختیار کرے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان کو اُمید ہے کہ 'بھارت سیکیورٹی کونسل کی صدارت کے قواعد وضوابط کی پابندی کرے گا'۔

خیال رہے کہ دو سال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بھارت اتوار سے شروع ہونے والے اگست کے مہینے میں 15 اقوام پر مشتمل کونسل کی صدارت کرے گا۔

یو این ایس سی کی صدارت ریاستوں کے انگریزی حرف تہجی میں ناموں کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر تبدیل ہوتی ہے، بھارت یکم جون 2021 کو یو این ایس سی میں شامل ہوا تھا، جو 31 دسمبر 2022 کو اپنی دو سالہ مدت کے دوران 2 مرتبہ صدارت حاصل کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ بھارت یہ عہدہ سنبھال رہا ہے ہم اسے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی اس کی قانونی ذمہ داری یاد دلائیں گے۔

خیال رہے کہ بھارت کی صدارت کا وقت اہم ہے، حالانکہ یہ اتفاق ہے کہ اس دوران بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے الحاق کو دو سال مکمل ہوئے ہیں جبکہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل ہونے کو ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں مزید تقسیم کے حوالے سے پاکستان کا اقوام متحدہ کے رہنماؤں کو خط

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی صدارت کا مطلب ہے کہ اس موقع پر پاکستان، مقبوضہ کشمیر کے حالات پر سلامتی کونسل میں کوئی بات نہیں کر سکے گا۔

قبل ازیں زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ 5 اگست 2021 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے نتیجے میں طویل فوجی محاصرے اور کشمیریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق پر سخت پابندیوں کو دو سال مکمل ہوجائیں گے۔

گزشتہ 2 برس کے عرصے کے دوران سلامتی کونسل میں تین مرتبہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر بات ہوچکی ہے۔

دوسری جانب افغانستان سے غیر ملکی فورسز کا انخلا اگست کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا اور افغانستان سے متعلق کسی بڑی پیش رفت کی صورت میں بھی بھارتی صدارت اہمیت کی حامل ہوسکتی ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو افغانستان میں امن اور مفاہمت کی کوششیں ناکام بنانے والے کے طور پر دیکھا ہے۔

ہر ملک کی صدارت کا سب سے اہم جز اس کا 'پروگرام آف ورک' ہوتا ہے، جس میں ایک ماہ کے دور میں اس کی ترجیحات درج ہوتی ہیں۔

بھارت کے 'پروگرام آف ورک' سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنا دور علاقائی حریفوں پاکستان اور چین کو 'تنگ' کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔

بھارت نے دو اہم منصوبوں میں انسداد دہشت گردی پر بریفنگ اور میری ٹائم سیکیورٹی پر بحث شامل ہے۔

مزید پڑھیں: 'سلامتی کونسل کے اراکین نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا'

بھارت کی مستقل نمائندہ یو این سفیر ٹی ایس تیرومرتی نے ٹائمز آف انڈیا کے ادارتی صفحے میں لکھا کہ بھارت 'ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے کی کوشش کے خلاف ڈٹا ہے اور دہشت گردوں کی مدد اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو بے نقاب کیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ہمارے پڑوس میں ہے اور اے آئی، ڈرون، بلاک چین ٹیکنالوجی اور آن لائن فاننسگ کے بڑھتے ہوئے استعمال زیادہ تشویش ناک ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ انسداد دہشت کی بریفنگ اپنے پڑوسی ملک پر الزام لگانے کے لیے استعمال کرے گا۔

اسی طرح توقع ہے کہ میری ٹائم سیکیورٹی بحث میں جنوبی چین سمندر میں چین کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔

میری ٹائم سیکیورٹی پر تیرومرتی نے مؤقف اختیار کیا کہ مشترکہ خوشحالی کے لیے میری ٹائم سیکیورٹی پر جامع نقطہ نظر لازمی ہے کیونکہ یہ قانونی سرگرمیوں کا تحفظ کر کے سمندری دائرہ کار میں ابھرتی ہوئی دشمنی، غیر قانونی یا خطرناک کارروائیوں کو روکنا اور خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی کے وزیر اعظم کے ساگر وژن کا احاطہ کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے یورپین پارلیمنٹ کے اراکین کی جانب سے یورپین کمیشن کے صدر اور نائب صدر کو لکھے گئے خط کو خوش آئند قرار دیا، جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق میں خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سلامتی کونسل میں بھارت کو روکتے تو 2026 میں پاکستان کے رکن بننے کے امکانات کم ہوجاتے، وزیر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خط 'مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے لیے نازک حالات پر مسلسل عالمی تنقید کا ایک اور مظاہرہ تھا"۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جھوٹے پروپیگنڈے کو ہوا دینے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر ہونے کی وضاحت دے رہا ہے، عالمی تنقید اور مذمت کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت جاری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ عالمی برادری کی مسلسل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں