بھارت کے غیر ملکی صحافیوں کو پاکستان جانے کی اجازت نہ دینے پر حکومتی عہدیداران کی تنقید

اپ ڈیٹ 04 اگست 2021
ان غیر ملکی صحافیوں کو 5 اگست کو آزاد کشمیر کے اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنا تھی—فایل فوٹوز: ڈان نیوز، پی آئی ڈی
ان غیر ملکی صحافیوں کو 5 اگست کو آزاد کشمیر کے اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنا تھی—فایل فوٹوز: ڈان نیوز، پی آئی ڈی

سینئر وزرا اور مشیر قومی سلامتی نے بھارت میں مقیم 5 صحافیوں کو پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرنے پر نریندر مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خوف کی شکار' بھارتی حکومت کے زیر اثر آزاد بیانیے اور آزادِ صحافت کے لیے جگہ سکڑ رہی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف کی جانب سے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایک روز قبل بھارت کی مودی حکومت نے پاکستان کی جانب سے صحافیوں کو واہگہ کے راستے اسلام آباد آنے کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: حکومت کی کووڈ پالیسی پر تنقید کرنے والے میڈیا اداروں پر چھاپے

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث واہگہ بارڈر کراسنگ سفارتکاروں اور کچھ افراد کے سوا تمام مسافروں کے لیے بند ہے۔

بھارتی حکومت کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹوئٹ میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے 'آمرانہ دور' میں آزاد صحافت کے لیے جگہ سکڑ رہی ہے۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ ان غیر ملکی صحافیوں کو 5 اگست کو آزاد کشمیر کے اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنا تھی، ہم چاہتے ہیں کہ بھارت تمام خودمختار صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر میں جانے اور حقائق رپورٹ کرنے کی اجازت دے۔

سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں مقیم نیویارک ٹائمز، رائٹرز اور دی اکنامسٹ کے نمائندوں کو پاکستان آنے سے روکنا بھارت کے اس خوف میں مبتلا ہونے کا واضح ثبوت ہے کہ وہ سچائی کا سامنا نہیں کر سکتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے غیر مکی صحافیوں کے واہگہ کے راستے پاکستان آنے پر پابندی کا بھارتی فیصلہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، عالمی صحافیوں کو پاکستان آنے سے روک کر دنیا کی 'سب سے بڑی جمہوریت' ہونے کا نام نہاد دعوٰی ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کے خلاف تنقیدی کوریج کے بعد بھارتی اخبار کے دفتر پر چھاپہ

انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو پاکستان آنے سے روک کر مودی حکومت نے اپنے ان دعووں کی نفی کی ہے جو اس کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں اعتدال پسندی، بات چیت اور عالمی قانون کے درس کے طور پر دنیا کے سامنے کیے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میڈیا کے پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ ڈالنا اور آزادانہ رپورٹنگ کے مسلمہ بین الاقوامی حق سے روکنا 5 اگست 2019 کے فسطائی، یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی انتہاپسندانہ ذہنیت کا تسلسل ہے۔

دوسری جانب مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے بھی بھارت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ایک خوف کی شکار حکومت کے اقدامات ہیں جس نے بہت کچھ چھپایا ہے اور دنیا کو آزاد کشمیر کی حقیقت دیکھنے نہیں دینا چاہتی۔

حال ہی میں بھارتی نشریاتی ادارے ’دی وائر‘ کو انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کی کھڑکی کھلی ہے لیکن بھارت کو سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان میں بہت سی آوازوں کو یقین ہے کہ موجودہ حکومت ایسا ہونے نہیں دے گی۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں