افغانستان: قائم مقام وزیر دفاع کے گھر پر حملہ، 8 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 04 اگست 2021
حملے کے فورا بعد سکیورٹی اہلکار وقوعہ پر پہنچ گئیں---فائل فوٹو: اے پی
حملے کے فورا بعد سکیورٹی اہلکار وقوعہ پر پہنچ گئیں---فائل فوٹو: اے پی

افغانستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ منگل کی رات قائم مقام وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی کی رہائش گاہ کے قریب کار بم دھماکے میں ایک خاتون سمیت 8 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے کے قریب کابل کے ضلع شرپور علاقے میں ہوا جہاں زیادہ تر اعلیٰ سرکاری افسران کی رہائش گاہیں واقع ہے۔

مزیدپڑھیں: طالبان کا افغانستان کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

بم دھماکا بسم اللہ محمدی کے گھر کے قریب ہوا جس کے بعد 4 مسلح افراد قریبی گھر میں داخل ہوئے اور اس دوران ان کی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم حملے کے فوری بعد سیکیورٹی اہلکار جائے وقوع پر پہنچے۔

اسی حملے سے متعلق ایک ذرائع نے بتایا کہ 3 حملہ آور دھماکے کے فورا بعد رکن پارلیمنٹ محمد عظیم محسنی کے گھر میں داخل ہوئے تھے جبکہ محمد عظیم محسنی نے تصدیق کی کہ جب حملہ ہوا تب وہ گھر پر نہیں تھے،

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ’حملہ آوروں کی تعداد 4 سے 7 تھی‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'امریکیوں کی ایک اور نسل کو جنگ کیلئے افغانستان نہیں بھیجوں گا'

ایک سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ قائم مقام وزیر دفاع بسمہ اللہ محمدی کے گھر کا ایک سیکورٹی گارڈ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے اور دوسرا زخمی ہوا۔

جب حملہ ہوا تب بسمہ اللہ محمدی اور ان کا خاندان گھر پر نہیں تھا، قانون ساز اور افغان کمانڈر ہیبت اللہ علی زئی کا گھر بھی اس علاقے میں واقع ہیں جہاں دھماکا ہوا تھا۔

ابتدائی طور پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تھی تاہم آج طالبان نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

اس ضمن میں بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے حکومتی رہنماؤں کے خلاف مزید حملوں کا انتباہ بھی دیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس واقعہ میں 20 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مزید پڑھیں: طالبان کا چمن سے ملحقہ افغان سرحد پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

پولیس کا کہنا تھا کہ 5 میں سے 4 حملہ آور بھی وزیر کے ولا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جبکہ وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ ایک خودکش بم حملہ تھا، حملہ آوروں اور افغان اہلکاروں کے مابین 3 گھنٹے سے زیادہ دیر تک لڑائی جاری۔

دوسری جانب بسمہ اللہ محمدی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ’فکر مت کریں، سب ٹھیک ہے‘۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آخر تک امریکی فوج کا انخلا مکمل ہوجائے گا اور ساتھ ہی طالبان نے متعدد اضلاع پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

علاوہ ازیں مختلف اضلاع اور شہروں میں طالبان اور افغان فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں