آن لائن تعلیم کس طرح نوجوانوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے؟

اپ ڈیٹ 13 اگست 2021

ملک میں اس وقت کورونا وائرس کی چوتھی لہر جاری ہے اور ایک بار پھر تمام تعلیمی ادارے بند ہیں، یعنی یہ سارا نظام آن لائن ہوچکا ہے۔

ویسے تو پاکستان واحد ملک نہیں جو اس فارمولے پر عمل پیرا ہے، بلکہ پوری دنیا اس مسئلے کو جھیل رہی ہے، اور یہ مشکل فیصلہ کرنا یقیناً حکومتوں کی مجبوری ہے کہ یہ بیماری اب تک پوری دنیا میں ہی تباہی پھیلا چکی ہے اور طلبہ کی حفاظت کے لیے تعلیم کو آن لائن کرنا ہی واحد آپشن رہ گیا ہے۔

گزشتہ لہر کے بعد وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں شکوہ کیا تھا کہ، جب میں نے اسکول، کالجوں اور جامعات کے دوبارہ کھلنے پر کچھ طلبہ کا منفی رویہ دیکھا تو مجھے حیرانی ہوئی۔ کیونکہ تعلیم مستقبل کا دروازہ ہے اور تعلیمی ایام زندگی کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دوستوں کے درمیان حصولِ تعلیم کے فیصلے کا خیر مقدم کرے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور جامعات کی انتظامیہ کے پاس تعلیمی ادارے کھولنے اور بند کرنے کے علاوہ بھی کوئی تیسرا پلان ہے تاکہ بنا رکاوٹ تعلیمی سلسلہ جاری رہ سکے؟ اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں مل رہا۔ صورتحال یہ ہے کہ انتظامیہ آن لائن ذریعہ تعلیم کے لیے ابھی تک سنجیدہ نہیں کیونکہ طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت کو ابھی تک ڈیجیٹل مواد کی سہولیات اور انٹرنیٹ کے بارے میں آگاہی فراہم نہیں کی گئی۔

طلبہ  نے لاہور میں کیمپس امتحانات کے خلاف احتجاج کیا — فائل فوٹو: وائٹ اسٹار
طلبہ نے لاہور میں کیمپس امتحانات کے خلاف احتجاج کیا — فائل فوٹو: وائٹ اسٹار

ماہرِ تعلیم پروفیسر طاہر نعیم ملک کا خیال ہے کہ، ’آن لائن ذریعہ تعلیم کے لیے جامعات تیار نہیں تھیں کیونکہ بہت سارے طالب علم اور اساتذہ آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی جیسی چیزوں سے بالکل ناآشنا تھے، یہی وجہ ہے کہ جب کورونا کی وبا نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا تب آن لائن ذریعہ تعلیم کا پہلے سے نہ کوئی نظام موجود تھا اور نہ ہی تجربہ۔ حالانکہ اس عمل کو سیکھنے کے لیے کورونا کے انتظار کی ضرورت نہیں تھی اور جدید ترین دور میں جامعات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور اسٹوڈیوز پہلے ہی متعارف ہوجانے چاہیے تھے، اور اگر ایسا ہوتا تو کسی بھی طور پر ہمیں اس پریشانی کا سامنا نہیں ہوتا۔ خیر اگر پہلے ہمیں اس بات کا خیال نہیں آیا تو اب اس بارے میں سوچ لینا چاہیے اور درسگاہوں کو ان سہولیات سے آراستہ کرنا چاہیے‘۔

مزید پڑھیے: آئندہ چند سال یونیورسٹیوں کے لیے ہنگامہ خیز کیوں ہوں گے؟

پروفیسر طاہر ملک کے مطابق، ’ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا کردار بھی مایوس کن ہی رہا ہے، مثلاً جب طلبہ احتجاج کر رہے تھے تب ایچ ای سی انتظامیہ نے نہ اس ضمن میں ان سے مذاکرات کیے، نہ مؤقف جانا اور نہ ہی اساتذہ سے یہ مسائل جاننے کی کوشش کی جو انتہائی افسوسناک رویہ تھا۔ کورونا کی پہلی وبا میں یہ بتایا گیا تھا کہ بچوں کو پروموٹ کردیں گے اور اسکول، کالجوں میں ایسا ہوا بھی لیکن جامعات کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کوئی واضح پالیسی نہیں بنا سکا‘۔

پروفیسر طاہر ملک نے بتایا کہ ’میں سمجھتا ہوں ‏دیگر ملکوں کے مقابلے میں ہم طلبہ کو مہنگا ترین انٹرنیٹ فراہم کررہے ہیں، کیا طلبہ کو تعلیمی ضرورت کے لیے انٹرنیٹ پر ٹیکس معاف نہیں کیا جاسکتا؟ اور کیا حکومت طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون پر بھی عائد ٹیکس معاف نہیں کرسکتی؟‘

آئیے اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آن لائن ذریعہ تعلیم میں طلبہ کو کون سے مسائل درپیش ہوتے ہیں اور وہ آن لائن پڑھائی کے بعد آن لائن امتحانات پر کیوں زور دیتے ہیں، اور اس کے حل کے لیے حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نمل یونیورسٹی، اسلام آباد میں زیرِ تعلیم شعبہ ابلاغِ عامہ کے طالب علم سمین خان وزیر آن لائن تعلیم میں درپیش مسائل بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ، 'میرا کورونا کی پہلی لہر کے دوران یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تھا اور یہ میرا پہلا سمسٹر تھا جس میں ہمیں 2 دن، پیر اور منگل کو یونیورسٹی کیمپس میں کلاسیں لینی ہوتی تھیں اور باقی 3 دن بدھ، جمعرات اور جمعہ کو آن لائن کلاسیں ہوتی تھیں۔ ہمیں کیمپس میں لی گئی کلاس تو اچھی طرح سمجھ آجاتی تھی مگر آن لائن کلاسوں میں کئی مرتبہ موضوعات کو ٹھیک سے سمجھنے میں دقت پیش آتی۔ چونکہ اسلام آباد میں انٹرنیٹ کا اتنا زیادہ مسئلہ نہیں تھا اس لیے میں اسی وقت اپنے پروفیسرز سے نہ سمجھ آنی والی بات پوچھ لیتا تھا یا پھر جب کیمپس میں کلاس ہوتی تھی تو اس میں ٹیچر یا پھر ہم جماعتوں سے مضمون سے متعلق سمجھ لیتا تھا'۔

آن لائن ذریعہ تعلیم کے لیے جامعات تیار نہیں تھیں کیونکہ بہت سارے طالب علم اور اساتذہ آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی جیسی چیزوں سے بالکل ناآشنا تھے—رائٹرز
آن لائن ذریعہ تعلیم کے لیے جامعات تیار نہیں تھیں کیونکہ بہت سارے طالب علم اور اساتذہ آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی جیسی چیزوں سے بالکل ناآشنا تھے—رائٹرز

سمین خان کے مطابق ’مڈٹرم امتحانات کیمپس میں لیے گئے جو مجھے صحیح نہیں لگا کیونکہ ہمیں زیادہ تر آن لائن پڑھایا گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ ہم سے امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں گے۔ پھر جب کورونا وبا میں ایک بار پھر تیزی آئی تو ہماری کلاسز کو مکمل آن لائن کردیا گیا لیکن ہمیں یہی بتایا جاتا رہا کہ جنوری میں طے شدہ فائنل امتحانات اِن کیمپس لیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے: آن لائن تعلیم سے متعلق غلط فہمیوں کو دُور کرنے کی ضرورت ہے

’جب حکومت نے تعلیمی ادارے یکم فروری سے کھولنے کا اعلان کیا تو بتایا گیا کہ 15 جنوری سے پیپرز آن لائن ہوں گے جس کی ڈیٹ شیٹ بھی آگئی تھی لیکن پھر یہ اعلان کیا گیا کہ آپ کے امتحانات 15 جنوری کو نہیں ہوں گے جو ایک غیر مناسب فیصلہ تھا کیونکہ اس سے ہمارا کافی وقت ضائع ہورہا تھا اور دوسرا وہ ڈیٹ شیٹ اس لیے منسوخ کی گئی تاکہ یکم فروری کے بعد یہ ہم سے اِن کیمپس امتحانات لے سکیں۔

’اس میں ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اگلے سمسٹر میں بھی ہمیں شاید پہلے کی طرح پڑھایا جائے گا یعنی پہلے 2 دن اِن کیمپس کلاس اور باقی دن آن لائن، جو ہم جیسے غریب اور دُور دراز رہنے والے طالب علموں کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہم صرف ہفتے میں محض 2 دن اِن کیمپس کلاس لینے کے لیے پورے 30 دن ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف اضافی خرچوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔‘

سمین وزیر مزید کہتے ہیں کہ ’میں جس علاقے سے ہوں وہاں انٹرنیٹ کا کافی مسئلہ ہے۔ اس پریشانی کے سبب کئی مرتبہ کلاسز لینے سے محروم رہا اور کئی مرتبہ آدھی کلاس کے دوران موبائل نیٹ ورک کے سگنل کی عدم فراہمی کے سبب پوری کلاس لینے سے بھی رہ جاتا ہوں۔ میں وزیرِ تعلیم شفقت محمود کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہوں کہ اب جب ایک بار پھر کورونا کی نئی لہر سر اٹھا رہی ہے تو حکومت ہم جیسے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے طالب علموں کے بارے میں کچھ سوچے کہ ہم کن مشکلات سے کلاسز لیتے ہیں۔ ایک تو ہمیں سب سے پہلے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے اور دوسرا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون بھی مہیا کیے جائیں تاکہ کورونا کی وجہ سے یا پھر خدانخواستہ دوسری کسی ناگہانی کی صورت میں ہماری تعلیم متاثر نہ ہو اور ہم گھر سے اپنا تعلیمی سلسلہ باآسانی جاری رکھ سکیں‘۔

طلبہ آن لائن پڑھائی کے بعد آن لائن امتحانات پر کیوں زور دیتے ہیں
طلبہ آن لائن پڑھائی کے بعد آن لائن امتحانات پر کیوں زور دیتے ہیں

ڈیجیٹل ایکٹیوسٹ رجب علی فیصل نے بتایا کہ، ڈیجیٹل دنیا کی رینکنگ میں پاکستان ابھی بہت پیچھے ہے اور ہر جگہ تھری جی اور فور جی کی سہولت میسر نہیں لہٰذا سب سے بڑا مسئلہ جو ایک طالب علم کو پیش آتا ہے وہ یہی ٹیکنیکل مسئلہ ہے۔ کوئی طالب علم خیبر پختونخوا، تو کوئی بلوچستان اور گلگت وغیرہ سے ہے جہاں کئی علاقوں میں اس دورِ جدید میں بھی بجلی کی سہولت تک دستیاب نہیں تو انٹرنیٹ تو بہت آگے کی چیز ہے۔ دوسرا آن لائن کلاسز میں ٹائم مینجمنٹ نہیں ہوتی مثال کے طور پر 10 بجے کلاس کا وقت ہے تو پروفیسرز جامع کا سست وائی فائی یا پھر کسی اور وجہ سے ساڑھے 10 بجے کلاس لیتے ہیں اور ایسا بعض اوقات اِن کیمپس کلاسز میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے‘۔

مزید پڑھیے: علم کی 'آن لائن' شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب!

علی فیصل نے مزید بتایا کہ ’حکومتی عدم توجہی کے سبب آن لائن کلاسز میں طالب علم کمزور انٹرنیٹ سروس کی وجہ سے اس طرح متحرک نہیں ہوتا جیسے کلاس میں ہوتا ہے کیونکہ اس میں استاد ہر ایک طالب علم کے چہرے کے تاثرات براہِ راست پڑھ رہا ہوتا ہے اور پھر وہ وقتاً فوقتاً طالب علموں سے پڑھائے جانے والے مضمون سے متعلق رائے کے ساتھ ساتھ سوالات بھی پوچھ رہا ہوتا ہے تاکہ انہیں وہ اپنا مضمون بہتر طریقے سے پڑھا سکے۔ ظاہر ہے یہی کوشش آن لائن کلاسز میں بھی ہوتی ہے، تاہم سست انٹرنیت کے سبب استاد لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ کچھ نہیں کرپاتا جو وہ اِن کیمپس کرسکتا ہے۔ اگرچہ اِن کیمپس کلاسز کا تو کوئی نعم البدل نہیں لیکن تعلیمی سلسلے کی بندش سے تو آن لائن ذریعہ تعلیم یقیناً بہتر ہے‘۔

ڈیجیٹل کارکن علی فیصل نے آن لائن امتحانات میں نقل کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’کوئی طالب علم کیمرے کے سامنے ایک مختصر وقت میں کیسے نقل کرسکتا ہے کیونکہ اس میں ایک پیپر میں مختلف سوالات کے الگ الگ حصے ہوتے ہیں اور ان سب کا اپنا اپنا وقت مقرر ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم پیپر میں دیے گئے سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرے بھی تو وہ وقت اتنا مختصر ہوتا ہے کہ اس دورانیے میں وہ جواب نہیں ڈھونڈ پائے گا۔ چونکہ اب چوتھی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ طلبہ کے ان مسائل پر توجہ دے اور جامعات کی چھٹیاں ختم ہونے سے قبل ہی کوئی ٹھوس حل تلاش کرے‘۔

نور ملک گومل یونیورسٹی سے ایم ایس سی کررہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’مجھے تقریباً 3 سال ہونے والے ہیں ابھی تک میری 2 سالہ ایم ایس سی کی ڈگری مکمل نہیں ہو پارہی۔ میرا داخلہ 2018ء کے آخر میں ہوا تھا اور اوائل سمسٹرز کے امتحانات بھی ہوگئے مگر بعدازاں کورونا وبا نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا اور تعلیمی نظام درہم برہم ہوگیا۔ یہ وہ وقت تھا جب انتظامیہ کے پاس تعلیمی اعتبار سے کوئی بہتر پلان موجود نہیں تھا۔ اس وقت بار بار پتا کرنے پر بتایا جاتا رہا کہ آن لائن امتحانات ہوں گے، پھر کہا گیا آپ کو پروموٹ کیا جائے گا۔ مگر میں تاحال اپنی ڈگری کے مکمل ہونے کے انتظار میں ہوں۔ ایک عجیب مذاق ہے کہ ہمیں ہر کچھ دن بعد امتحانات کی تاریخ دی جاتی ہے اور پھر تاریخ تبدیل کردی جاتی ہے‘۔

نور کا مزید کہنا تھا کہ، ’میں بڑے شوق سے صبح 3 بجے اُٹھ کر پڑھتی اور امتحانات کی تیاری کرتی تھی مگر اب مزید محنت کرنے اور پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا کیونکہ ہر دفعہ امتحان کا شیڈول تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اب تو انہوں نے ہمیں جو ڈیٹ شیٹ فراہم کی ہے اس پر ایم ایس سی لکھنے کے بجائے ایم اے لکھ دیا گیا حالانکہ ہم نے ایم ایس سی میں داخلہ لیا تھا‘۔

نظام تعلیم کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کا وقت آگیا ہے
نظام تعلیم کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کا وقت آگیا ہے

نور ملک نے ایچ ای سی کے ایک فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ، ’اب مجھے ایچ ای سی اس بات کا جواب دے کہ میں کس سے منصفی چاہوں کہ میری 2 سالہ ڈگری پر 3 سال سے بھی زیادہ وقت لگ گیا ہے، جبکہ امتحانات ہونے اور پھر نتائج آنے تک تقریباً 2 سالہ ڈگری پر 4 سال لگ جائیں گے۔ اب اس کا ذمہ دار کون ہے؟ دوسری طرف ایچ ای سی انتظامیہ نے بنا سوچے سمجھے پرائیوٹ و ریگولر بی اے اور ماسٹرز کی ڈگریوں پر پابندی لگا دی ہے، جس کی وجہ سے ایسے لاکھوں نوجوان متاثر ہوسکتے ہیں جو محنت مزدوری کے ساتھ پرائیویٹ ڈگری بھی کرتے ہیں کیونکہ جامعات یا کالج میں باضابطہ طور پر ریگولر تعلیم حاصل کرنا ہر طالب علم کے بس میں نہیں جبکہ اب بی ایس پروگرام کے تحت ریگولر 4 سالہ ڈگری کا خرچہ کوئی غریب طالب علم کیسے برداشت کرے گا؟‘

ماہرین اس نظام کو بہتر کرنے کے لیے چاہے کتنی بھی تجاویز دے دیں یا طلبہ جتنے بھی مطالبات کرلیں، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ ایچ ای سی اور وزارتِ تعلیم پرائیویٹ ایجوکیشن والے معاملہ پر نظر ثانی نہیں کرے گی۔ اس رائے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس معاملے میں اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور احتجاج کیا اس حوالے سے ایچ ای سی نے کوئی کام نہیں کیا تو بھلا ایسے کسی معاملے میں کیسے کوئی کام ہوسکتا ہے جس پر ابھی تک کوئی خاص ردِعمل بھی نہیں آیا۔

مزید پڑھیے: 205 میں سے صرف 40 یونیورسٹیز کے پاس آن لائن تعلیم دینے کی صلاحیت ہے، ایچ ای سی

دوسری طرف ہمارے محترم وزیرِ تعلیم جناب شفقت محمود صاحب کے بھی قول و فعل میں فرق دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً وہ جامعات کھولنے اور اِن کیمپس امتحانات کا فیصلہ آن لائن میٹنگ میں کرتے ہیں، اور اس عمل پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو کھلا تضاد ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک بار پھر بیٹھنا چاہیے اور تفصیل سے اس معاملے پر غور کرنا چاہیے کہ وہ تعلیم کے کس ماڈل کو اپنانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امتحانات تعلیمی اداروں میں ہی ہونے چاہیے تو پھر ان کو آن لائن تعلیم کو ترک کرنے کا اعلان کردینا چاہیے۔

جہاں تک پرائیویٹ تعلیم ختم کرنے والا معاملہ ہے تو اس پر ہماری سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں سمیت سیاستدانوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کو پُرزور آواز اٹھائی چاہیے تاکہ جو غریب نوجوان حصولِ علم کا شوق رکھنے کے باوجود محنت مزدوری کی وجہ سے ریگولر تعلیم حاصل نہیں کرسکتے وہ تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں۔

تبصرے (1) بند ہیں

Polaris Aug 14, 2021 10:57am
Learning online for many students is not convenient due to various reasons and therefore online examination results may not be realistic.