دہشت گردی کے واقعات پر چین کے تحفظات دور کیے جائیں، بلاول بھٹو زرداری

اپ ڈیٹ 27 اگست 2021
فوٹو:ڈان نیوز
فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتےہوئے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر چین کے اعتراضات دور کیے جائیں۔

ٹھٹہ میں پریس کانفرنس میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام وزیراعظم عمران خان کی تین سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں:ـ تاریخی مہنگائی، بے روزگاری عمران خان کی تبدیلی کا اصل چہرہ ہے، بلاول

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن غریبوں کے سر چھت چھین لیا اور کشمیر سے کراچی تک نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر پھر رہے ہیں، لیکن روزگار نہیں مل رہا، یہاں تک کہ جن کے پاس روزگار تھا، گزشتہ تین برسوں کے دوران انہیں بھی بے روزگار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کو بند کرکے 10 ہزار ملازمین کو بے روزگار کیا گیا، حال ہی میں عدالت سے حکم آیا ہے، جس کے تحت 16 ہزار خاندانوں سے روزگار چھینا جائے گا، یہ بھی خان صاحب کی کارکردگی میں گنا جائے گا۔

'پاکستان کے عوام نے عمران خان کو مسترد کردیا ہے'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس موجودہ نالائق، نااہل اور ناکام ترین حکومت سے نجات ملے، جس نے ان کے جیب اور پیٹ پر ڈاکا ڈالا ہے۔

وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے جہاں روزگار کی چوری کی ہے، وہی پانی کی چوری کی ہے، جہاں چھت کی چوری کی ہے وہاں خان صاحب نے اس صوبے وسائل چھیننے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی سمجھتی ہے کہ پاکستان کے عوام نے عمران خان کو مسترد کردیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ ان تین برسوں میں حکومت کہیں نظر آئی ہے تو تاریخی غربت اور بے روزگاری کی شکل میں نظر آئی ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ پاکستان کے عوام اب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

افغانستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کابل میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور امید ہے ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: پاک-افغان سرحد پر صورتحال ہمارے کنٹرول میں ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی دہشت گردی افغانستان اور پاکستان کے عوام نہیں چاہتے ہیں، ہم سب کو مل کر، کسی کو یہ اجازت نہیں دینا ہے کہ دونوں ملکوں کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہو۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ لگائی گئی ہے، یہ بڑی کامیابی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں جو بھی صورت حال ہوگی، اس کا اثر یہاں بھی ہوگا اور امید ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا یا افغانستان کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے یہ یقینی بنائے کہ کوئی انتہاپسند انہیں نقصان نہ پہنچا سکے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے جائزہ لے۔

'سی پیک کی سیکیورٹی کا جائزہ لینا پڑے گا'

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے جو نہیں ہو پا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سی پیک کی سکیورٹی کے منصوبے کا جائزہ لینا پڑے گا اور سی پیک کی سیکیورٹی پر ہمیں خرچ کرنا پڑے گا، اس لیے کہ سی پیک پاکستان کی معیشت اور معاشی ترقی کا اثاثہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مخالف دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے عوام، معاشی ترقی اور سی پیک کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے، اس لیے ہم حکومت سےمطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ان دہشت گردی کے واقعات پر چین کے جو تحفظات ہیں، چاہے وہ گوادر میں دہشت گردی کا واقعہ ہو یا داسو میں دہشت گردی کا واقعہ ہو ، اس پر چین کے اعتراضات کو دور کریں۔

سندھ میں پانی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دوران ارسا کا جو کردار رہا ہے وہ جابرانہ ہے، ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا، یہ حکومت وفاق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

'16 ہزارملازمین کی برطرفی کے خلاف اپیل کریں گے'

سپریم کورٹ کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے 16 ہزار ملازمین کی برطرفی کے فیصلے پر سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے یہ ایک غیرآئینی اور غیر جمہوری قدم ہے، جہاں پاکستان میں معاشی بحران ہے، ایسے میں 16 ہزار خاندانوں سے روزگار چھینا گیا ہے، یہ ان کا حق تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمان سے منظور ہونے والا ایک قانون تھا، جس کے تحت انہیں روزگار دیا گیا تھا، سندھ حکومت سے کہا ہے اس کیس میں اپیل کے لیے درخواست دے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت سے بھی وکلا کا پینل دیں گے اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی لائرونگ سے بھی کہیں گے وہ بھی ساتھ دیں، مگر یہ کوئی غیراہم معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک تسلسل ہے۔

'ہمارے چیف جسٹس سے روزگار چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے'

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر روزگار چھیننا ہوتو اسٹیل ملز کے ملازمین کا روزگار چھینا جاتا ہے، پورے ملک میں پبلک سروس کمیشن چل سکتا ہے، اس صوبے کے عوام کو روزگار دلا سکتا ہے مگر سندھ پبلک کمیشن بند کیا جاتا ہے اور سندھ کے نوجوان کا روزگار کا حق اس معاشی بحران میں چھینا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے افسران جو سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو بیک جنبش قلم سے بے روزگار کیا جاتا ہے، پھر یہ 16 ہزار ملازمین جن کو شہید بینظیر بھٹو نے روزگار دیا تھا، ان سے بھی روزگار چھینا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہاں تک کہ ہمارے چیف جسٹس سے روزگار چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کےفیصلے ہمارے وفاق، جمہوریت، عدلیہ کے نظام پر ایک سنگین سوال اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی اس کے خلاف پارلیمان، عوام کے سامنے اور جگہ جگہ نہ صرف مزاحمت کرے گی بلکہ اور قانونی چارہ جوئی کریں گے اور امید رکھتے ہیں ناانصافی کی جا رہی ہے، اس کو قابل عزت جج صاحبان ہماری اپیلوں پر درست کروائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ورنہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں رہا، ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہے گا، ہم عدالت سے بھی اپیل کریں گے کہ اس فیصلے پر رجوع کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں