چپس کی قلت سے پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت متاثر ہونے لگی

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2021
— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

سیمی کنڈکٹر چپس کی قلت کا بحران اب پاکستان میں بھی گاڑیوں کی تیاری اور سپلائی پر اثر انداز ہونے لگا ہے۔

اگست میں ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چپس کی قلت کے باعث لگ بھگ تمام کمپنیاں بک کرائی جانے والی گاڑیوں کو بروقت ڈیلیور کرنے سے قاصر ہوگئی ہیں۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ انتظار نئی ہونڈا سٹی کے ماڈلز بک کرانے والوں کو کرنا ہوگا جن کو آج بک کروانے پر ڈیلیوری مارچ 2022 میں ہوگی۔

ہونڈا کے دیگر ماڈلز کی ڈیلیوری کے لیے جنوری اور فروری 2022 تک انتظار کرنا ہوگا۔

اب پاک وہیلز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیمی کنڈکٹر چپس کی قلت کے باعث پاک سوزوکی نے ستمبر 2021 میں آلتو اور کلٹس کی بکنگ کو غیر معینہ مدت تک معطل کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بکنگ معطل کرنے کی وجہ سیمی کنڈکٹر چپس کی قلت ہے اور ملک بھر میں ڈیلرز کو اگلے نوٹس تک گاڑیوں کی بکنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اگست میں ڈان سے بات کرتے ہوئے پاک سوزوکی کے ترجمان شفیق احمد شیخ نے بتایا تھا کہ کچھ ماڈلز کی ڈیلیوری کا وقت 2 ماہ جبکہ دیگر کا 15 دن سے ایک ماہ کا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی کو متعدد ممالک میں لاک ڈاؤن کے باعث درآمدی پرزوں کے حصول میں تاخیر کے مسائل کا سامنا ہے، ہم گاڑیوں کو جلد از جلد ڈیلیور کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے اپریل میں سوزوکی کلٹس آٹو میٹک کو بک کرایا تھا، ان کے لیے گاڑیوں کی ڈیلیوری ستمبر تک ہونے کا امکان ہے۔

چپس کی قلت کا مسئلہ ایشیا میں مارچ 2021 میں ابھرنا شروع ہوا تھا کیونکہ کورونا وائرس کے باعث مختلف ممالک میں لگائے جانے والے لاک ڈاؤنز ختم ہونے کے بعد ان چپس کی طلب میں اضافہ ہوا تھا۔

تمام کمپنیوں کے مطابق چپس کی قلت اور بہت زیادہ ایڈوانس بکنگ کی وجہ سے وہ بروقت گاڑیوں کو ڈیلیور کرنے سے قاصر ہیں۔

پاک وہیلز کے مطابق سوزوکی سے قبل ہنڈائی نشاط، الحاج پروٹون اور دیگر کی جانب سے بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق چپس کی قلت کا مسئلہ عالمی سطح پر 2023 تک برقرار رہ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ سیمی کنڈکٹرز چپس گاڑیوں کی تیاری کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں اور ان کی قلت کے باعث یہ مسائل سامنے آرہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں