فیس بک کمائی کی خاطر نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، سابق ملازمہ

04 اکتوبر 2021
فرانسس ہافن رواں برس کے آغاز تک فیس بک کی ملازمہ تھیں—اسکرین شاٹ/ سی بی ایس ویڈیو
فرانسس ہافن رواں برس کے آغاز تک فیس بک کی ملازمہ تھیں—اسکرین شاٹ/ سی بی ایس ویڈیو

فیس بک کی ایک سابقہ ملازمہ نے انکشاف کیا ہے کہ کمائی کی خاطر سوشل ویب سائٹ کا الگورتھم ہی اس انداز کا بنایا گیا ہے کہ وہ پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فیس بک کی سابق ملازمہ فرانسس ہافن نے امریکی ٹی وی چینل ’سی بی ایس‘ کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیس بک کو صارفین کی ذہنی صحت یا فلاح و بہبود سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف اپنی کمائی کو اہمیت دیتا ہے۔

فرانسس ہافن کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فیس بک، تشدد اور نفرت انگیز مواد سمیت غلط معلومات پر مبنی پوسٹس کو ہذف کرتا ہے یا انہیں ہٹا دیتا ہے، تاہم ایسا نہیں ہے۔

ان کے مطابق فیس بک صرف 5 فیصد تک نفرت انگیز جب کہ ایک فیصد سے بھی کم پرتشدد مواد کو ہٹاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک کی تحقیق میں انسٹاگرام نوجوانوں کیلئے نقصان دہ قرار، رپورٹ

انہوں نے بتایا کہ وہ رواں سال کے آغاز تک فیس بک کی ٹیم کا حصہ تھیں، بعد ازاں وہ ان سے الگ ہوگئیں اور ماضی میں وہ گوگل اور پنٹریسٹ جیسی ویب سائٹس کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں۔

انہوں نے گوگل اور پنٹریسٹ سے فیس بک کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیس بک ان سے زیادہ خطرناک اور پرتشدد مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ فیس بک کا الگورتھم اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ مبہم اور غلط معلومات کو فروغ دیتا ہے، تاکہ لوگ کافی دیر تک ویب سائٹ پر چیزوں کو سرچ کرکے حقائق جاننے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسے عمل سے اس کی کمائی بڑھتی ہے۔

فیس بک نے حال ہی میں اعتراف کیا تھا کہ انسٹاگرام نوجوانوں میں ڈپریشن کا باعث بنتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
فیس بک نے حال ہی میں اعتراف کیا تھا کہ انسٹاگرام نوجوانوں میں ڈپریشن کا باعث بنتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

فرانسس ہافن نے دعویٰ کیا کہ فیس بک کو صارفین کی فلاح و بہبود یا ذہنی صحت کی کوئی پرواہ نہیں، اس کا فوکس اپنی کمائی بڑھانا ہے اور وہ اس کے لیے غلط معلومات، پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

مذکورہ خاتون کے حوالے سے ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’دی ورج‘ نے بتایا کہ وہ ماضی میں فیس بک کی پروڈکٹ منیجر رہی ہیں۔

خاتون نے مذکورہ انکشافات حال ہی میں فیس بک کی جانب سے اندرونی طور پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا کہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے پس منظر میں کیے۔

فیس بک کی اندرونی طور پر کی جانے والی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ انسٹاگرام نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

مذکورہ تحقیق فیس بک کے زیر انتظام اندرونی طور پر 3 سال تک جاری رہی تھی جس میں دریافت کیا گیا تھا کہ انسٹاگرام نوجوان صارفین بالخصوص لڑکیوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج 2019 میں کمپنی کو پیش کیے گئے تھے جن میں دریافت کیا گیا کہ انسٹاگرام استعمال کرنے والی ہر 3 میں سے ایک نوجوان لڑکی کو باڈی امیج ایشو کا سامنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام پر معروف شخصیات کا مواد منفی رجحانات کی جانب راغب کرتا ہے، تحقیق

مذکورہ تحقیق کے مطابق نوجوانوں نے یہ بھی بتایا کہ انسٹاگرام کے استعمال سے ان میں ذہنی بے چینی اور ڈپریشن بھی بڑھ جاتا ہے۔

اسی حوالے سے ہی کی گئی ایک اور تحقیق کے مطابق انسٹاگرام پر معروف شوبز شخصیات جیسا کہ کم کارڈیشین، بلی آئلش، کنڈیل جینر، جسٹن بیبر، ڈانسر چارلی ڈی امیلیو، آریانا گرانڈے اور کاڈیشین خاندان کے دیگر ارکان کو فالو کرنے والے افراد منفی رجحانات کا شکار ہوجاتے ہیں اور وہ خود سے متعلق بھی غلط سوچنے لگتے ہیں۔

نتائج میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ معروف شخصیات کو فالو کرنے یا ان کا مواد دیکھنے والے صارفین میں کس طرح کے منفی رجحانات پیدا ہوتے ہیں یا وہ خود کو کس اور کیوں دوسروں کے مقابلہ برا محسوس کرتے ہیں؟

تاہم نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباًس تمام معروف شوبز و ٹی وی شخصیات کو فالو کرنے والے صارفین کی سوچ منفی ہوجاتی یا ان کے دماغ میں برے خیالات آنے لگتے ہیں۔

نتائج سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ایلین ڈی جینرس، ڈائنے جانسن، ول اسمتھ اور فٹ بالر نیمار کو فالو کرنے والے صارفین میں منفی رجحانات کی شدت کم ضرور ہوتی ہے مگر وہ بھی منفی خیالات سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔

ایک اور تحقیق میں فیس بک انتظامیہ نےمانا کہ انسٹاگرام پر شخصیات کو فالو کرنے والے لوگ منفی رجحانات کی جانب راغب ہوتے ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام
ایک اور تحقیق میں فیس بک انتظامیہ نےمانا کہ انسٹاگرام پر شخصیات کو فالو کرنے والے لوگ منفی رجحانات کی جانب راغب ہوتے ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں