فلسطینی حمایت میں لکھاری کا اسرائیلی کمپنی کو کتاب کی اشاعت کی اجازت دینے سے انکار

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2021
فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہوں، سلی رونی—فائل فوٹو: thephoenix.ie
فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہوں، سلی رونی—فائل فوٹو: thephoenix.ie

جزیرہ نما یورپی ملک آئرلینڈ کی 30 سالہ ناول نگار سلی رونی نے کہا ہے کہ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی پبلشر کو اپنا ناول شائع کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق سلی رونی نے 12 اکتوبر کو شائع ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اسرائیلی ریاست کی نسل پرستانہ اور ظالمانہ حکمت عملیوں اور کارروائیوں کے باعث پبلشر کو اپنے نئے ناول کی مقامی زبان میں اشاعت کرنے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے اسرائیلی ریاست کو عالمی قوانین کے عین مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والی ریاست قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ ظالم ممالک پر ثقافتی، تجارتی اور سفارتی پابندیاں عائد کی جانی چاہیے۔

ناول نگار نے فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کی آزادی کی جدوجہد کی بھی تائید کی اور کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کے پہلے دونوں ناول اسرائیل میں عبرانی زبان میں شائع ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سلی رونی کو اسرائیلی پبلشر نے ان کے نئے ناول ’بیوٹی فل ورلڈ: ویئر آر یو‘ کا عبرانی زبان میں ترجمہ شائع کرنے کی اجازت کے لیے ٹینڈر بھجوایا تھا، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔

آئرش ناول نگار نے جس پبلشر کا ٹینڈر مسترد کیا، اسی اشاعت کمپنی نے سلی رونی کے پہلے دونوں ناول اسرائیل میں ’عبرانی‘ زبان میں شائع کر رکھے ہیں۔

ناول نگار کے پہلے دونوں ناول اسرائیل میں شائع ہو چکے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
ناول نگار کے پہلے دونوں ناول اسرائیل میں شائع ہو چکے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز

سلی رونی کے پہلے دونوں ناولز کو اسرائیل میں کافی پسند کیا گیا تھا اور اسی وجہ سے ہی اسرائیلی پبلشر نے ان کے گزشتہ ماہ ستمبر میں شائع ہونے والے نئے ناول ’بیوٹی فل ورلڈ: ویئر آر یو‘ کے ترجمے کے حقوق حاصل کرنے کے لیے ناول نگار کو ٹینڈر بھجوایا تھا۔

سلی رونی نے اسرائیل کمپنی کا ٹینڈر مسترد کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا کہ وہ اقوام متحدہ (یو این) کی جانب سے فلسطینی عوام کے طے کردہ حقوق کی حمایت کرتی ہے اور اسرائیلی کو نسل کش ریاست سمجھتے ہوئے اس کا ثقافتی بائیکاٹ کر رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں متعدد عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا، جن میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے گئے مظالم کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بک ریویو: ملے جو کہکشاں میں

ناول نگار نے لکھا کہ اسرائیلی ریاست کا ثقافتی، تجارتی اور سفارتی بائیکاٹ اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ ماضی میں جنوبی افریقہ میں ایسے بائیکاٹ کی وجہ سے بہتری آئی تھی۔

انہوں نے اپنے تیسرے ناول کو اسرائیلی کمپنی کو اشاعت کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کو فلسطینی عوام کے نام کیا۔

دوسری جانب سلی رونی کے فیصلے کو اسرائیلی حکام نے ’یہودیت مخالف‘ فیصلہ قرار دیا ہے جب کہ بعض تنگ نظر یہودی اسکالرز اور معروف شخصیات نے بھی ناول نگار کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

سلی رونی کی جانب سے اسرائیلی پبلشر کا ٹینڈر مسترد کیے جانے کے بعد اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی اور مشرق وسطیٰ سمیت امریکا اور برطانیہ میں بھی مذکورہ موضوع پر آن لائن بحث کی گئی۔

نوجوان ناول نگار کا تیسرا ناول ستمبر 2021 میں شائع ہوا تھا—فائل فوٹو: فیس بک
نوجوان ناول نگار کا تیسرا ناول ستمبر 2021 میں شائع ہوا تھا—فائل فوٹو: فیس بک

ضرور پڑھیں

رُوداد ایک مقدمے کی

رُوداد ایک مقدمے کی

وہ سب کچھ بیج کر کینیڈا چلے گئے جہاں وہ اپنی نئی بیوی کے ساتھ مل کر ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں اور کوئی بھی بات نہیں بھولتے۔

تبصرے (0) بند ہیں