کرپشن کا ’من گھڑت‘ الزام: ٹی وی چینل نے اسحٰق ڈار سے معافی مانگ لی

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2021
چینل کی جانب سے ہتک آمیز الزامات 8 جولائی 2019 اور 8 اگست 2019 کے دو نیوز شوز میں لگائے گئے تھے — فائل فوٹو: اے ایف پی
چینل کی جانب سے ہتک آمیز الزامات 8 جولائی 2019 اور 8 اگست 2019 کے دو نیوز شوز میں لگائے گئے تھے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اے آر وائی برطانیہ کے نشریاتی ادارے 'نیو ویژن ٹی وی' نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اسحٰق ڈار کو معافی نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما پر لگائے گئے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات من گھڑت تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینل کی جانب سے ہتک آمیز الزامات 8 جولائی 2019 اور 8 اگست 2019 کے دو نیوز شوز میں لگائے گئے تھے۔

دوسرے پروگرام پاور پلے میں وزیر اعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے اسحٰق ڈار پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اداروں کو نظام تک رسائی نہ دیتے ہوئے پاکستان میں مالیاتی مانیٹرنگ یونٹ کے کام میں رکاوٹ ڈالی تھی۔

مزید پڑھیں: نیب نے اسحٰق ڈار سے مدد حاصل کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا، برطانوی جج

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ اسحٰق ڈار نے چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں ملوث افراد کو بچانے کے لیے یہ اقدامات اٹھائے تھے'۔

پیر کو شام 6 بجے 'اے آر وائی یو کے' پر نشر ہونے والے معافی سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ ’ہم مانتے ہیں کہ اسحٰق ڈار نے مالیاتی یونٹ کے کام میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، نہ ہی انہوں نے مبینہ چوہدری شوگر ملز سمیت کسی مقدمے میں کسی شخص کو بچایا’۔

چینل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم اس نشریات کی وجہ شدید پریشانی و شرمندگی کا سامنا کرنے پر اسحٰق ڈار سے غیر مشروط معافی مانگتے ہیں’۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اسحٰق ڈار نے ہتک آمیز بیان پر جولائی 2020 میں چینل کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا نومبر 2020 میں برطانوی ہائی کورٹ میں اپنا دعویٰ دائر کیا تھا۔

2 مارچ 2021 کو اے آر وائی یو کے نے 'برطانوی ڈیفیمیشن ایکٹ 1996' کے تحت معافی کی پیش کش کی جس کے مطابق بہتان لگانے والا معافی نامہ شائع کرنے اور ہرجانہ ادا کرنے کی تحریری پیشکش کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی کارروائی پر تبصرہ، اے آر وائی نیوز کو نوٹس جاری

اس طرح کی پیشکش قبول ہونے پر ہتک عزت کی کارروائی ختم ہوجاتی ہے اور دونوں فریقین آپس میں معاملات طے کر لیتے ہیں۔

اپنے دعوے میں اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ ‘اشاعت کے ذریعے ان پر جو الزامات لگائے گئے وہ ’بہت سنجیدہ اور ہتک آمیز الزامات تھے جس کے نتیجے میں دعویدار کو حقیقی مجرم قرار دیا گیا جس سے دعویدار کو سنگین نقصان پہنچا ہے'۔

پابندی اور معذرت کے ساتھ اسحٰق ڈار نے قانونی اخراجات اور تقریباً 2 لاکھ پاؤنڈز ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔

شو میں شہزاد اکبر کے دعوؤں کی ٹرانسکرپٹ میں، جو ہتک عزت کے دعوے کا باعث بنی، معاون خصوصی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘اسحٰق ڈار نے ایف ایم یو کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی اور ادارے کو معذور کیا’۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ اسحٰق ڈار کے جانے کے بعد یونٹ میں ’دوبارہ جان ڈالی گئی‘ اور مبینہ طور پر سیاسی شخصیات کی دبائی گئی فائلز تک رسائی دی گئی۔

مزید پڑھیں: فوج بطور ادارہ نہیں، کچھ لوگ جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں، اسحٰق ڈار

چینل کی جانب سے یہ الزامات واپس لیتے ہوئے اسحٰق ڈار کی پوزیشن کا اعتراف کیا گیا ہے۔

ڈان کو موصول ہونے والے بیان کے مطابق اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات ‘جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی’ تھے۔

اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے ثابت ہوتا ہے کہ ’کس طرح نواز شریف اور ان کی جماعت کے ساتھیوں کو سیاسی انجینئرنگ، جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی مہم کا نشانہ بنایا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں کبھی کسی کرپشن یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہا اور نہ ہی اداروں کے خلاف اثر و رسوخ استعمال کیا، حکومت نواز میڈیا ہاؤس اور شہزاد اکبر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ سبحان وتعالیٰ بہت مہربان ہے اور ٹی وی چینل نے برطانیہ میں ہونے والی سماعت میں اعتراف کیا کہ تمام الزامات من گھڑت، غلط اور غیر حقیقی تھے۔

ان مزید کہنا تھا کہ ٹی وی چینل نے اعتراف کیا ہے کہ مجھے بدنام کیا گیا اور میں نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں