حقیقی دنیا میں بچوں میں فائزر ویکسین کی افادیت کا ڈیٹا سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2021
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

فائزر/ بائیو این ٹیک کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو بیماری کے بعد ہسپتال میں داخلے سے بچانے کے لیے بہت زیادہ مؤثر ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے زیرتحت ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو کووڈ سے متاثر ہونے پر ہسپتال میں داخل ہونے سے بچانے کے لیے فائزر ویکسین 93 فیصد مؤثر ہے۔

تحقیق میں اس عمر کے بچوں میں ویکسین کی افادیت کی شرح میں معمولی فرق بھی دریافت کیا۔

12 سے 15 سال کے لیے یہ ویکسین 91 فیصد جبکہ 16 سے 18 سال کے بچوں میں 94 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی۔

اس تحقیق میں جون سے ستمبر کے دوران 16 ریاستوں کے 19 بچوں کے ہسپتالوں میں زیرعلاج 464 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 179 کووڈ 19 جبکہ 285 دیگر وجوہات کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے۔

اس دورانیے میں امریکا میں ڈیلٹا کا پھیلاؤ بڑھ چکا تھا اور مریضوں کی اکثریت (72 فیصد) پہلے سے کم از کم کسی ایک بیماری کے شکار تھے اور 68 فیصد اسکول جارہے تھے۔

ایسے مریضوں کی ویکسینیشن کو مکمل سمجھا گیا جن میں کووڈ 19 کی تشخیص دوسری خوراک کے استعمال کے 14 یا اس سے زیادہ دن بعد ہوئی۔

ایسے مریض جن میں بیماری کی تشخیص ویکسین کی دوسری خوراک کے استعمال کے 14 دن کے اندر ہوئی انہیں تجزیے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج 179 میں سے 97 فیصد کی ویکسینیشن نہیں ہوئی تھی اور بہت زیادہ بیمار بھی وہ بچے تھے جو ویکسین شدہ نہیں تھے۔

فائزر ویکسین کے ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ یہ 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے بیماری سے ہسپتال میں داخلے سے بچانے کے لیے 100 فیصد مؤثر ہے۔

اب امریکا میں حقیقی دنیا کے تجزیے میں بھی دریافت ہوا کہ یہ ویکسین 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں میں یہ خطرہ کم کرنے کے لیے بہت زیادہ مؤثر ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے بچوں کو کووڈ 19 کے سنگین اثرات سے بچانے کے لیے ویکسینیشن کی اہمیت کا اعادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ اس عمر کے گروپ میں ویکسینیشن کی شرح بڑھانے سے کووڈ 19 سے زیادہ بیمار ہونے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بھی اس عمر کے بچوں کے لیے فائزر ویکسین کا استعمال کیا جارہا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں