عالمی ادارہِ صحت کورونا سے تحفظ کی گولیوں کو سستا رکھنے کا خواہاں

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2021
’مولنو پراور‘ کورونا سے تحفظ کی پہلی گولیاں ہیں—فوٹو: جان ہاپکنز یونیورسٹی
’مولنو پراور‘ کورونا سے تحفظ کی پہلی گولیاں ہیں—فوٹو: جان ہاپکنز یونیورسٹی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندرونی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ عالمی ادارہ کورونا سے تحفظ کی گولیوں کی مجموعی خوراک کی قیمت 10 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 1700 روپے تک رکھنے کا خواہاں ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے پروگرام ’ایکسس ٹو کووڈ 19 ٹولز‘ (اے سی ٹی اے) کے دستاویزات کے مطابق امیر ملکوں کی جانب سے کورونا ویکسین خریدے جانے کی وجہ سے غریب ممالک تاحال وبا سے تحفظ کی دوا سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سستی اور ترجیحی بنیادوں پر دوا فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

مذکورہ دستاویزات تاحال ڈرافٹ کی صورت میں ہیں اور انہیں آئندہ ماہ روم میں ہونے والے دنیا کے امیر ممالک ’گریٹ ٹوئنٹی‘ (جی ٹوئنٹی) کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا تاکہ امیر ممالک سے فنڈز حاصل کیے جاسکیں۔

اسی حوالے سے ’سی این این‘ نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کا منصوبہ ہے کہ دنیا کے تمام امیر ممالک ایکسس ٹو کووڈ 19 ٹولز کے منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 22 ارب ڈالر سے زائد کی رقم عطیہ کریں تاکہ ستمبر 2022 تک غریب ممالک تک کورونا سے تحفظ کی سستی دوا اور ٹیسٹ کٹس بھجوائی جائیں۔

مذکورہ دستاویزات میں بتایا گیا کہ عالمی ادارہ صحت کی خواہش ہے کہ کورونا سے تحفظ کی گولیوں کی مکمل خوراک کی قیمت 10 ڈالر تک رکھی جائے۔

دستاویزات میں کسی گولی کا نام نہیں لکھا گیا اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بعض فارماسیوٹیکل کمپنیاں مزید گولیاں بنانے میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا سے تحفظ کی گولی کے حوصلہ افزا نتائج

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے گولیوں کی قیمت کے تعین سے متعلق دستاویزات کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ رواں ماہ کے آغاز میں دو امریکی کمپنیوں کے کورونا سے تحفظ کی گولیوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے تھے۔

امریکی کمپنیوں مرک اور ریجبیک بائیو تھراپیوٹیکس نے یکم اکتوبر کو بتایا تھا کہ ان کی گولیوں کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گولیاں کورونا کے مریضوں میں موت کی شرح کو 50 فیصد تک کم کردیتی ہیں۔

مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے کورونا کے تحفظ کے لیے بنائی گئی اینٹی وائرل گولیوں کو ’مولنو پراور‘ (Molnupiravir) کا نام دیا گیا ہے۔

کمپنی جلد ہی گولیوں کے ہنگامی استعمال کے لیے امریکی حکومت کو درخواست دینے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

مذکورہ گولیاں کورونا سے تحفظ کے لیے بنائی جانے والی دنیا کی پہلی گولیاں ہیں اور اس طرح کی دیگر گولیاں اور کیپسول دوسری کمپنیاں بھی بنانے میں مصروف ہیں۔

جن دو امریکی کمپنیوں نے ’مولنو پراور‘ (Molnupiravir) گولیاں تیار کی ہیں، ان کا 8 بھارتی کمپنیوں سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ اشتراک بھی ہے اور وہ ممکنہ طور پر بھارتی کمپنیوں کو گولیاں تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دے سکتی ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں