اسرائیل کا مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کیلئے 1300 مکانات کی تعمیر کا اعلان

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2021
ان مکانات کے لیے رواں ہفتے وزارت دفاع سے حتمی منظوری ملنے کا امکان ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
ان مکانات کے لیے رواں ہفتے وزارت دفاع سے حتمی منظوری ملنے کا امکان ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

یروشلم: اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید رہائش گاہیں بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جس کی فلسطینیوں، امن کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں اور ہمسایہ ملک اردن نے مذمت کی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزارت ہاؤسنگ اینڈ تعمیرات کی جانب سے کیے گئے اس اعلان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے پر ایک ہزار 355 مکانات کے لیے ٹینڈر شائع کیے گئے تھے، یہ علاقہ 1967 کی 6 روزہ جنگ کے بعد سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

یہ نئے مکانات 2 ہزار سے زائد رہائش گاہوں میں مزید اضافہ ہوں گے جن کے بارے میں دفاعی ذرائع نے اگست میں کہا تھا کہ مغربی کنارے کے آباد کاروں کو اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے کب اور کیسے فلسطین پر قبضہ کیا، کتنی زندگیاں ختم کیں؟

ان مکانات کے لیے رواں ہفتے وزارت دفاع سے حتمی منظوری ملنے کا امکان ہے۔

فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتية نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ عالم بالخصوص امریکا سے بستیوں کی تعمیر سے فلسطینی عوام کے لیے پیدا ہونے والی جارحیت پر اسرائیل سے سختی سے نمٹنے کا مطالبہ کیا۔

فلسطینی اتھارٹی، امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے ردِعمل پر گہری نظر رکھے گی جنہوں نے کہا تھا کہ وہ تنازع کے دو ریاستی حل میں رکاوٹ کے طور پر یکطرفہ اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں۔

تقریباً 4 لاکھ 75 ہزار اسرائیلی یہودی مغربی کنارے کی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں جو بین الاقوامی سطح پر غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں، اس زمین پر فلسطینیوں کا مستقبل کی ریاست کا حصہ ہونے کا دعویٰ ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا مقبوضہ علاقوں سے بھی فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ

ایک اہم اسرائیلی سیکیورٹی پارٹنر اردن کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم نے جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی تھی، جس نے آباد کاری کے اس اعلان کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے طور پر مذمت کی ہے۔

اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیثم ابو الفول نے بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی اراضی کی عمومی ’ضبطگی‘ کو ’ناجائز‘ قرار دیا۔

دوسری جانب انسداد قبضہ گروپ ’پیس ناؤ‘ نے کہا کہ اتوار کے اعلان نے ثابت کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا نظریاتی طور پر متنوع اتحاد ہے، جنہوں نے جون میں سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی تصفیہ کی حامی حکومت کو بے دخل کیا تھا۔

پیس ناؤ نے کہا کہ یہ حکومت واضح طور پر درحقیقت نیتن یاہو کی الحاق کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی اسرائیلی وزیراعظم کی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی شراکت دار جماعت میرٹز پارٹیز اور لیبر پارٹی سے مطالبہ کیا کہ ’جاگ جائیں اور بستیوں میں بے ہنگم عمارتیں فوری طور پر بند کریں‘۔

تبصرے (0) بند ہیں