وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر چپ سادھ لی

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2021
یہ پروگرام رواں برس اپریل سے ’تاخیر کا شکار‘ ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
یہ پروگرام رواں برس اپریل سے ’تاخیر کا شکار‘ ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

وزارت خزانہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اپنی 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کی بحالی کے لیے طویل مذاکرات کے نتائج کے بارے میں خاموشی برقرار رکھے ہوئے ہے کیونکہ حکام نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی امداد موصول ہونے کی اطلاع دی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 3 ہفتوں تک جاری رہنے والی توسیعی بات چیت واشنگٹن میں تناؤ کا شکار رہی اور حکام کو اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (ایم ای ایف پی) کو حتمی شکل دینے سے قبل مکمل کرنے کے لیے سخت اہداف دیے گئے۔

یہ پروگرام رواں برس اپریل سے ’تاخیر کا شکار‘ ہے اور چھٹا جائزہ جو جون تک مکمل ہونا چاہیے تھا، اب بھی باقی ہے جبکہ نظر ثانی شدہ ٹائم ٹیبل کے تحت اگلے جائزے کا وقت بھی ہو چکا ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ مذاکرات جو اصل میں 4 اکتوبر کو ورچوئل بات چیت کے ذریعے شروع ہوئے تھے اور 15 اکتوبر تک اختتام پذیر ہونے والے تھے وہ 23 اکتوبر تک جاری رہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات اب تک بے نتیجہ ثابت

انہوں نے کہا کہ 'مزید اقدامات کرنے‘ کی ایک فہرست ہے جسے حکام کو مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

گیس اور پاور سیکٹر میں ٹیرف اور اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کے شیڈول سے لے کر ریونیو اقدامات تک اور اسٹیٹ بینک سمیت ریگولیٹری اداروں کو مضبوط بنانے سے لے کر پبلک سیکٹر کے مالیاتی بہاؤ میں مکمل شفافیت کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پروگرام کو معمول پر لایا جاسکے اور فنڈ سے بہاؤ کو یقینی بنایا جاسکے جبکہ مزید تفصیلات پر بات کرنا ابھی باقی ہے۔

سیکریٹری خزانہ یوسف خان جو رواں ماہ کے اوائل سے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے، نے اسلام آباد میں مقامی صحافیوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا جبکہ وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے بھی آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ اپنی بات چیت کے نتائج پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا ڈبن سانچیز نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مصروف عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف پالیسیوں اور اصلاحات پر پاکستانی حکام کے ساتھ مسلسل بات چیت کا منتظر ہے جو ای ایف ایف کے چھٹے جائزے کی تکمیل کی بنیاد بن سکتی ہے‘۔

دریں اثنا وزارت اقتصادی امور نے کہا کہ انہوں نے رواں مالی سال کے پہلے تین مہینوں (جولائی تا ستمبر) کے دوران مختلف ذرائع سے مجموعی طور پر 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی امداد حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں: شوکت ترین، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ختم کیے بغیر امریکا سے روانہ

اس میں پہلے 3 ماہ میں تقریباً 3 ارب 10 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے اور تقریباً 10 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی گرانٹس شامل ہیں۔

ستمبر میں بڑی رقوم میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے تقریباً 18 کروڑ ڈالر اور ورلڈ بینک کے بین الاقوامی ترقیاتی امداد سے تقریباً 44 کروڑ 50 لاکھ ڈالر شامل ہے۔

وزارت اقتصادی امور نے کہا کہ حکومت نے پورے موجودہ مالی سال کے لیے 14 ارب 8 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی امداد کا تخمینہ لگایا ہے جس میں 13 ارب 87 کروڑ ڈالر کے قرضے اور 21 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کی گرانٹس شامل ہیں۔

دریں اثنا وزارت خزانہ نے رپورٹ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضوں اور واجبات میں خالص اضافہ 27 ارب ڈالر تھا۔

قومی اسمبلی کے سامنے تحریری بیان میں وزارت خزانہ نے کہا کہ بیرونی قرضوں اور واجبات کے اعداد و شمار سہ ماہی بنیادوں پر شائع کیے گئے جس کے مطابق جون 2018 کے آخر میں مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات 95 ارب ڈالر تھے جو جون 2021 کے آخر میں بڑھ کر 122 ارب ڈالر ہو گئے۔

وزارت خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ جون 2021 کے آخر تک کل عوامی قرضہ 398 کھرب 59 ارب روپے تھا اور فی کس قرض اس وقت تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار روپے ہے۔

تاہم وزارت نے تجویز دی کہ فی کس قرض کی پیمائش کرنے کے بجائے قرض کی سطح کی پیمائش کرنے کا ایک بہتر طریقہ قرض سے جی ڈی پی کا تناسب ہے جسے دنیا بھر کے ممالک استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ تناسب آبادی کی سطح کے مقابلے میں معیشت کے حجم کا حساب کرتا ہے۔

وزارت نے کہا کہ پاکستان نے وبائی امراض کے دوران اپنے قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں سب سے کم اضافہ دیکھا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں