ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے خارج

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2021
ان کا کہنا تھا کہ فورتھ شیڈول کی فہرست کو اپ ڈیٹ کردیا گیا—فائل/فوٹو: اے ایف پی
ان کا کہنا تھا کہ فورتھ شیڈول کی فہرست کو اپ ڈیٹ کردیا گیا—فائل/فوٹو: اے ایف پی

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکال دیا گیا۔

صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حافظ محمد سعد ولد خادم حسین کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی فورتھ شیڈول کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔

مزیدپڑھیں: حکومت نے کابینہ سے منظوری کے بعد ٹی ایل پی پر عائد پابندی ہٹادی

مراسلے میں کہا گیا کہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی (ڈی آئی سی) کی سفارش پر ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول میں رکھا گیا تھا۔

علاوہ ازیں صوبائی محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے مزید 487 افراد کےنام بھی فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکال دیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی ٹی ایل پی کے 90 افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے تھے جس کے بعد مجموعی تعداد 577 ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: 214 ٹی ایل پی کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل

ان کا کہنا تھا کہ فورتھ شیڈول کی فہرست کو اپ ڈیٹ کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ اضلاع کی پولیس رپورٹس پر ایکشن لیتے ہوئے فورتھ شیڈول کی فہرست سے نام خارج کئے گئے۔

خیال رہے کہ 7 نومبر کو وفاقی حکومت نے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ سے منظوری کے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی ذیلی شق ون کے تحت تحریک لبیک پاکستان کو فرسٹ شیڈول سے بطور کالعدم جماعت نکال دیا تھا۔

فورتھ شیڈول کیا ہے؟

فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی اور فرقہ واریت کے جرم میں مشتبہ افراد کو رکھا جاتا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے سیکشن ای ون کے مطابق فورتھ شیڈول میں ’کوئی بھی شخص جو ایک سرگرم کارکن، عہدیدار یا کسی تنظیم کا حصہ ہو جس کے دہشت گردی یا فرقہ واریت میں ملوث ہونے کا شبہ ہو‘۔

اس کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی ایسا شخص جس پر شک ہو کہ وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کی وفعہ ای ون میں شامل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹی ایل پی دھرنا: وزارت داخلہ کا قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

ایک مرتبہ فورتھ شیڈول میں نام آنے کے بعد متعلقہ ادارے اس مشتبہ شخص یا تنظیم کی نگرانی کرتے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں اس کا شخص یا ادارے کا نام ای ٹو میں شامل کیا جاتا ہے جس کے تحت اسے پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ریاست مخالف یا مذہبی جذبات کو مجروح سے متعلق سرگرمیاں کا حصہ نہ بنے۔

ایسے افراد متعلقہ تھانے کو اطلاع دیے بغیر علاقہ نہیں چھوڑ سکتے اور بعض صورت میں مشتبہ شخص یا ادارے کو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے اور عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

سعد رضوی کی رہائی کیلئے احتجاج کا نیا سلسلہ

ٹی ایل پی سے پابندی ہٹانے کا معاملہ حالیہ احتجاج کے دوران سامنے آیا تھا اور اس پر نظر ثانی کرنے کی یقین دہانی کرادی گئی تھی۔

ٹی ایل پی نے 20 اکتوبر کو لاہور میں حکومت پنجاب پر اپنے سربراہ مرحوم خادم حسین رضوی کے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج کے تازہ ترین دور کا آغاز کیا تھا۔

لاہور میں پولیس کے ساتھ تین روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے 22 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا۔

لاہور اور گوجرانوالہ میں مارچ کے دوران تصادم کے دوران 5 پولیس اہلکار شہید اور مارچ کے شرکا اور پولیس دونوں کے سیکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدہ

31 اکتوبر کو حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے دعویٰ کیا کہ وہ کالعدم تنظیم کے ساتھ 'معاہدہ' پر پہنچ چکے ہیں لیکن اس کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ ٹی ایل پی کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حکومت، ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف معمولی مقدمات کی پیروی نہیں کرے گی تاہم انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔

انہوں نے ٹی ایل پی کی قیادت کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ کالعدم تنظیم کے اکاؤنٹس اور اثاثوں کو غیر منجمد کر دے گی اور تنظیم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے اقدامات کرے گی۔

علاوہ ازیں وفاقی حکومت اور ٹی ایل پی کے معاہدے کے بعد تقریباً 2 ہزار 100 ٹی ایل پی کارکنوں کو پولیس کی حراست سے رہا کیا گیا، وہیں تنظیم کے کالعدم ہونے کی حیثیت کی منسوخی سے ٹی ایل پی کے تقریباً 8 ہزار کارکن خود بخود فورتھ شیڈول سے خارج ہوگئے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں