کووڈ کی پرانی اقسام سے متاثر افراد کو اومیکرون سے تحفظ نہ ملنے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس کی پرانی اقسام سے متاثر ہونے والے افراد کو بظاہر اومیکرون سے تحفظ نہیں ملتا، مگر ویکسینیشن سے بیماری کی سنگین شدت کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

یہ بات جنوبی افریقہ کی ایک ممتاز سائنسدان نے بتائی۔

نیشنل انسٹیٹوٹ فار کمیونیکیبل ڈیزیز (این آئی سی ڈی) کے ماہر این وون گوتھبرگ نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ سابقہ بیماری سے اومیکرون سے تحفظ نہیں ملتا۔

کورونا کی نئی قسم کے حوالے سے ابتدائی تحقیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اومیکرون کے باعث لوگوں میں دوسری بار کووڈ کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھ رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے افریقہ میں حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران این وون نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ کیسز کی تعداد میں ملک کے تمام صوبوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا مگر ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ ویکسینز سے بیماری کی سنگین شدت سے اب بھی تحفظ ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویکسینز سے ہمیشہ بیماری کی زیادہ شدت، ہسپتال میں داخلے اور موت کے خطرے سے تحفط ملتا ہے۔

جنوبی افریقہ نے ہی سب سے پہلے کورونا کی نئی قسم کو رپورٹ کیا تھا اور چند دنوں میں ہی دنیا کے متعدد ممالک تک پھیل چکی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہر امبروز ٹیلیسونا نے اس موقع پر کہا کہ افریقہ کے جنوبی حصوں کے لیے سفری پابندیوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے، کیونکہ اومیکرون کے کیسز 2 درجن ممالک میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور ان کے ذرائع واضح نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ اور بوٹسوانا نے کورونا کی اس نئی قسم کو شناخت کیا، ہم ابھی نہٰں جانتے کہ اس کا ماخذ کہاں ہے، محض رپورٹنگ پر لوگوں کو سزا دینا غیرمنصفانہ ہے۔

یکم دسمبر کو نیشنل انسٹیٹوٹ فار کمیونیکیبل ڈیزیز نے اومیکرون کے پھیلاؤ کی شرح کا ایک ابتدائی جائزہ پیش کیا تھا۔

ادارے کے مطابق نومبر میں وائرس جینومز سیکونس کے 74 فیصد نمونوں میں اومیکرون کو دریافت کیا گیا۔

ادارے نے مزید بتایا کہ یکم دسمبر 2021 کو جنوبی افریقہ میں روزانہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 8561 تھی جو گزشتہ روز سے دگنا زیادہ ہے۔

مجموعی ٹیسٹوں پر مثبت ٹیسٹوں کی شرح ایک دن پہلے 10.2 فیصد تھی تو یکم دسمبر کو وہ 16.5 فیصد تک پہنچ گئی۔

مگر ڈیٹا میں یہ بھی بتایا گیا کہ اموات اور ہسپتال میں شرح میں کوئی نمایاں تبدیلی دریافت نہیں ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں